63

زکوہ اور بیت المال فنڈز میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد: کورونا ازخود نوٹس کیس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی جب کہ رپورٹ میں آڈیٹر جنرل کی جانب سے زکوہ اور بیت المال کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
کورونا ازخود نوٹس کیس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ زکوہ کا کل بجٹ 7 ارب 38 کروڑ ہے، جس میں 13 فیصد کا سیمپل آڈٹ ہوا جو 96 کروڑ روپے بنتے ہیں، اس رقم میں سے 57 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں،آڈیٹر جنرل کے کیے گئے آڈٹ میں کل رقم کے 60 فیصد میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاق کے تحت اکٹھی ہونے والی زکوہ میں 7 فیصد اسلام آباد کیپٹل اتھارٹی،سابقہ فاٹا اور گلگت بلتستان،57 فیصد پنجاب،24 فیصد سندھ،14 کے پی اور 5 فیصد بلوچستان کے لیے مختص ہے، بیت المال کا کل بجٹ 5 ارب ہے بیت المال کے بجٹ میں 3.1 ارب بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، بیت المال کے کل بجٹ میں بے ضابطگیوں کی شرح 62 فیصد ہے۔
علاوہ ازیں کیس میں پنجاب حکومت نے عشر و زکوہ کمیٹیوں سے متعلق اپنا جواب بھی سپریم کورٹ میں جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ زکوہ کی رقم سے 10 فیصد انتظامی امور پر خرچ کیا جاتا ہے، گزشتہ تین سال میں صوبائی حکومت نے 924.069ملین جاری کئے۔
محکمہ زکوہ و عشر کے تحت مزدورں اور دیہاڑی داروں کیلئے 18 کروڑ روپے جاری کئے گئے، یہ رقم 2لاکھ افراد میں 9 ہزار روپے فی کس 15 اپریل سے تقسیم ہو رہی ہے، صوبے کی 24 ہزار کمیٹیوں کے ذریعے رقوم تقسیم کی جاتی ہیں، صوبے کے بیت المال کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کیلئے روپے 45 لاکھ روپے مختص کئے گئے۔
بیت المال سے جنوری سے اب تک ایک کروڑ 67 لاکھ 7ہزار 1 سو روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں، صوبے میں کرونا سے نمٹنے کیلئے ہیلتھ ایمرجنسی کے تحت اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ہیلتھ ورکرز اور ڈاکٹرز کو تمام تر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، ہیلتھ ورکرز کیلئے ایک ماہ کا کورونا رسک الاو¿نس مختص کیا گیا ہے جبکہ صوبے میں 66ہزار سے زائد مشتبہ مریضوں کیلئے مختلف شہروں میں قرنطینہ سنٹرز قائم کئے گئے ہیں اور صوبے کے صنعتی زون میں ایس ای پیز جاری کر دی گئی ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق وفاقی وزارت صحت نے بھی کیس میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی، جس میںبتایا گیا ہے کہ اسلامآباد میں ایک ارب 30کروڑ کی لاگت سے نیا آئسولیشن ہسپتال تعمیر کیا جائیگا، اس ضمن میں آئیسولیشن ہسپتال کی تعمیر کاآغاز 26مارچ 2020 سے ہوگیا ہے، تکمیل 5 مئی تک متوقع ہے۔
وفاقی حکومت نے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کیلئے خصوصی مالی پیکج کی منظوری دیدی ہے، انہیں ایک بنیادی تنخواہ اضافی دی جائیگی جبکہ وفاقی حکومت نے فرنٹ لائن پر کام کرنیوالوں کیلئے شہدا پیکج کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ حاجی کیمپ میں قائم نئے قرنطینہ سنٹر میں تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔
ادھر کورونا وائرس از خود نوٹس کیس میں خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے،جس میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس ٹیسٹ کیلئے شوکت خانم اسپتال لیب، اسلام آباد ڈائیگنوسٹک سینٹر اور دیگر کے ساتھ نجی سطح پر معاہدے آئندہ ہفتے ہو جائیں گے۔
ان معاہدوں کے بعد روزانہ کی بنیاد پر 4 ہزار ٹیسٹ کیے جاسکیں گے، اس وقت روزانہ 1438 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، صوبے میں 581 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جبکہ 82 کا مزید اضافہ کیا جائے گا۔کیس کی سماعت کل چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ کرے گا۔

اسلام آباد: کورونا ازخود نوٹس کیس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی جب کہ رپورٹ میں آڈیٹر جنرل کی جانب سے زکوہ اور بیت المال کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
کورونا ازخود نوٹس کیس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ زکوہ کا کل بجٹ 7 ارب 38 کروڑ ہے، جس میں 13 فیصد کا سیمپل آڈٹ ہوا جو 96 کروڑ روپے بنتے ہیں، اس رقم میں سے 57 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں،آڈیٹر جنرل کے کیے گئے آڈٹ میں کل رقم کے 60 فیصد میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاق کے تحت اکٹھی ہونے والی زکوہ میں 7 فیصد اسلام آباد کیپٹل اتھارٹی،سابقہ فاٹا اور گلگت بلتستان،57 فیصد پنجاب،24 فیصد سندھ،14 کے پی اور 5 فیصد بلوچستان کے لیے مختص ہے، بیت المال کا کل بجٹ 5 ارب ہے بیت المال کے بجٹ میں 3.1 ارب بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، بیت المال کے کل بجٹ میں بے ضابطگیوں کی شرح 62 فیصد ہے۔
علاوہ ازیں کیس میں پنجاب حکومت نے عشر و زکوہ کمیٹیوں سے متعلق اپنا جواب بھی سپریم کورٹ میں جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ زکوہ کی رقم سے 10 فیصد انتظامی امور پر خرچ کیا جاتا ہے، گزشتہ تین سال میں صوبائی حکومت نے 924.069ملین جاری کئے۔
محکمہ زکوہ و عشر کے تحت مزدورں اور دیہاڑی داروں کیلئے 18 کروڑ روپے جاری کئے گئے، یہ رقم 2لاکھ افراد میں 9 ہزار روپے فی کس 15 اپریل سے تقسیم ہو رہی ہے، صوبے کی 24 ہزار کمیٹیوں کے ذریعے رقوم تقسیم کی جاتی ہیں، صوبے کے بیت المال کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کیلئے روپے 45 لاکھ روپے مختص کئے گئے۔
بیت المال سے جنوری سے اب تک ایک کروڑ 67 لاکھ 7ہزار 1 سو روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں، صوبے میں کرونا سے نمٹنے کیلئے ہیلتھ ایمرجنسی کے تحت اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ہیلتھ ورکرز اور ڈاکٹرز کو تمام تر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، ہیلتھ ورکرز کیلئے ایک ماہ کا کورونا رسک الاو¿نس مختص کیا گیا ہے جبکہ صوبے میں 66ہزار سے زائد مشتبہ مریضوں کیلئے مختلف شہروں میں قرنطینہ سنٹرز قائم کئے گئے ہیں اور صوبے کے صنعتی زون میں ایس ای پیز جاری کر دی گئی ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق وفاقی وزارت صحت نے بھی کیس میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی، جس میںبتایا گیا ہے کہ اسلامآباد میں ایک ارب 30کروڑ کی لاگت سے نیا آئسولیشن ہسپتال تعمیر کیا جائیگا، اس ضمن میں آئیسولیشن ہسپتال کی تعمیر کاآغاز 26مارچ 2020 سے ہوگیا ہے، تکمیل 5 مئی تک متوقع ہے۔
وفاقی حکومت نے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کیلئے خصوصی مالی پیکج کی منظوری دیدی ہے، انہیں ایک بنیادی تنخواہ اضافی دی جائیگی جبکہ وفاقی حکومت نے فرنٹ لائن پر کام کرنیوالوں کیلئے شہدا پیکج کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ حاجی کیمپ میں قائم نئے قرنطینہ سنٹر میں تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔
ادھر کورونا وائرس از خود نوٹس کیس میں خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے،جس میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس ٹیسٹ کیلئے شوکت خانم اسپتال لیب، اسلام آباد ڈائیگنوسٹک سینٹر اور دیگر کے ساتھ نجی سطح پر معاہدے آئندہ ہفتے ہو جائیں گے۔
ان معاہدوں کے بعد روزانہ کی بنیاد پر 4 ہزار ٹیسٹ کیے جاسکیں گے، اس وقت روزانہ 1438 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، صوبے میں 581 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جبکہ 82 کا مزید اضافہ کیا جائے گا۔کیس کی سماعت کل چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں