تحریک انصاف حکومت تنقید کی زد میں 87

سال 2020ءبھی اپنے اختتام کو پہنچا۔۔۔

2020ءکا سال اپنی تماتر حشر سامانیوں کے ساتھ رخصت ہوا چاہتا ہے۔ مورخ اس سال کو دنیا کے لئے ہر لحاظ سے ایک انتہائی اہم سال ہونے کے ساتھ ساتھ مسائل سے بھرپور 365 دن رقم کریں گے۔
کرونا وائرس کی وبا نے اس سال کے آغاز ہی میں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا۔ طب کی دنیا میں ایک بھونچال آیا، یوں محسوس ہوا کہ ایسا وائرس وجود میں آیا ہے جس کا کوئی سرا گرفت میں نہیں آرہا۔ پوری دنیا کے طبی ماہرین سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہو گئے مگر اس وبا نے چہار عالم میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ جہاں یہ وباءدنیا میں بے شمار ہلاکتوں کا باعث بنا وہیں معاشی اور معاشرتی طور پر بھی اس وباءنے بے حد گمبھیر اثرات مرتب کئے۔ پوری دنیا میں آبادی سماجی فاصلوں کو برقرار رکھنے کے لئے گھروں میں مقید ہوئی۔ تعلیمی مراکز اور دفاتر بند کر دیئے گئے۔ کارخانوں میں کام روک دیئے گئے۔ تجارتی مراکز ویران ہو گئے۔ سماجی رابطوں کے منقطع ہونے کے باعث بین الاقوامی آمدورفت بے طرح متاثر ہوئی اور ہر ملک کی معیشت ایک بڑے دھچکے سے دوچار ہوئی۔
کھیل کے میدانوں میں بھی اس وائرس کی بناءپر سناٹے کی کیفیت رہی۔ اسکولوں، کالجوں سے لے کر پروفیشنل کھیلوں تک پر پابندی عائد کردی گئی۔
کھیلوں کے میدان سنسان ہونے کے ساتھ ساتھ 2020ءمیں باسکٹ بال کی دنیا ایک مقبول شخصیت ”کوبی برائن“ سے بھی محروم ہوئی۔ کوبی برائن ہیلی کاپٹر حادثہ میں اپنی کم عمر دختر کے ساتھ جاں بحق ہوئے۔ اسی سال کے اختتام تک فٹ بال کے کھلاڑی میراڈونا بھی بیماری کے باعث چل بسے۔ کھیل کے مداحوں کے لئے ارجنٹائن کے ”میرا ڈونا“ کے علاوہ اٹلی کے ”پاﺅلو روسی“ کی وفات بھی بڑی افسوسناک رہی۔ اسی سال امریکی ٹی وی کے مشہور کوئیز پروگرام Jepordy جو کہ پوری دنیا میں مقبول ترین پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے کے میزبان Alex Trebek جو اپنی شخصیت اور انداز گفتگو کی وجہ سے لاکھوں پرستار رکھتے تھے کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہوئے۔
اسی سال کے اہم واقعات میں برطانوی شاہی خاندان جو اپنی خاندانی یگانگت کی وجہ سے مشہور و مقبول ہے پہ دھچکا بھی شامل ہے۔ پرنس چارلس اور لیڈی ڈیانا کے بیٹے اور ملکہ برطانیہ الزبتھ کے پوتے شہزادہ ہیری نے اپنی خاندانی روایات سے نفی کا اعلان کرتے ہوئے تمام شاہی مراعات سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور نہ صرف شاہی محل بلکہ برطانیہ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی بیگم میگن کے ساتھ کینیڈا منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔
ایک نیا ورلڈ آرڈر بھی اس سال خبروں میں رہا، کئی مسلم ممالک نے اسرائیل کی حکومت سے سفارتی تعلقات قائم کئے جب کہ کئی ممالک نے اس امر پر سردمہری کا رویہ اختیار کیا بلکہ احتجاج بھی کیا۔ فلسطین نے مسلم ممالک کے اسرائیل سے تعلق قائم کرنے کو دوستوں کی طرف سے پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے تعبیر کیا ہے۔
یہ سال کشمیریوں پر بھی انتہائی سخت گزرا۔ اپریل 2020ءبھارت نے شہریت کا نیا قانون پاس کیا جس سے خود بھارت کا آئین بھی انحراف کرتا ہے۔ اکتوبر 2020ءکشمیریوں کا حق املاک کے ضمن پر بھی نئی پابندیاں عائد کی گئیں۔
امریکہ جیسی سیاسی طور پر بڑی سرگرمیاں ڈیموکریٹک پارٹے کے نامزد امیدوار ”جوبائیڈن“ ری پبلکن پارٹی کے موجودہ امریکی صدر ”ڈونلڈ ٹرمپ“ کو شکست دینے کے بعد اگلے چار سال کے لئے امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے۔ انہوں نے امریکی صدارتی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی سال امریکی تاریخ میں پہلی دفعہ اقلیت سے تعلق رکھنے والی خاتون کمالہ حارس نائب صدر منتخب ہوئیں۔
یہ سال پوری دنیا میں اقلیتوں کے وہ مسائل جو کئی دہائیوں سے نظر انداز کئے جارہے تھے کھل کر سامنے آئے۔ امریکہ میں خاص کر کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جس نے نہ صرف مقامی بلکہ پوری دنیا میں نسلی بربریت کے خلاف ایک احتجاج کا سلسلہ قائم کیا اور BLM (Blakc Life Matters) کے سلوگن کو عالمی طور پر متعارف کروایا گیا۔
امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی کے تحت کئی ممالک سے اپنی فوجیں واپس لانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ افغانستان اور امریکہ میں اس سلسلے میں مذاکرات میں پیش رفت ہوئی۔
آنے والا سال 2021 کی طرف یقینی طور پر بے شمار امیدیں اور توقعات مرکوز ہیں۔ عالمی سطح پر ہر شعبے میں نئے ابھرتے ہوئے سورج کی روشنی سے مستفید ہونے کی خواہشات ہیں۔ یقینی طور پر اہم ترین Covid-19 کے علاج کی ویکسین اور ادویات اس وقت پوری دنیا کے لئے انتہائی ضروری فکر ہے۔ کرونا کی دوسری لہر نئے سال میں داخل ہو چکی ہے، اس سے نجات پانا ایک گمبھیر آزمائش ہے۔
عالمی سیاست کا اس سال نقشہ کیا ہ گا، کیا امریکہ کے نئے صدر 20 جنوری کو اپنا صدارتی حلف اٹھانے کے بعد امریہ کی خارجہ پالیسی کو نیا رُخ دینے میں کامیاب ہوں گے’ کیا امریکہ اس وقت اپنی تنہا رہ جانے کی عالمی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا اور کامیاب ہو گا۔ کیا ساﺅتھ ایشیا اپنے جغرافیائی اور معاشی مسائل کو حل کرنے کے لئے پیش قدمی کرے گا۔ خاص طور پر بھارت، چین اور منسلک ممالک مفاہمت کی پالیسی اختیار کریں گے؟ کیا افغان اور امریکہ امن مذاکرات بہتری کی نہج کی طرف بڑھ پائیں گے؟ کیا ترکی، ایران اور عرب ممالک کے درمیان تنازعات کا کوئی حل نکل پائے گا؟ کیا خود عرب ممالک کے مابین اختلافات ختم ہو سکیں گے؟ کیا یورپ Brexit کے پورے عمل سے خوش اسلوبی سے مسائل کا حل نکالنے میں کامیاب ہو جائے گا؟ اور کیا فلسطین اور کشمیریوں کے لئے کچھ آسانیاں پیدا ہو سکیں گی؟
کیا اس آنے والے سال میں بین الاقوامی طور پر انتہائی مخدوش ہو جانے والی معیشت دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی، کیا داخلی طور پر تمام ممالک اپنے زندگی کے معمولات اور روزمرہ کی معاشی اہداف کو سنبھال پائیں گے؟؟؟
2021ءکی صبح امید و پیہم کی کیفیت سے دوچار ہو گی۔ ہر ایک کو آنے والے سال اور وقت کو بہتری کی طرف لے جانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ذمہ داریاں اٹھانی پڑیں گیں۔ 2020ءنے اقوام عالم اور ممالک کو ایک انتہائی اہم اور مشکل تجربہ سے دوچار بھی کیا اور روشناس بھی کروایا۔ دنیا بھر کو ایک ایسے طرز زندگی سے متعارف کروایا جس میں انسانیت اور احساسیت کا عظیم سبق پڑھایا گیا۔ امید اور دعائیں کرنی چاہئے کہ عالم انسان بھیانک تجربوں سے گزر کر حاصل ہونے والے سبق کو نہ صرف حافظہ میں محفوظ رکھے بلکہ اس سبق کو انسانیت کی بہتری کے لئے استعمال میں لائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں