Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 138

سوئی گیس

سوئی کے مقام پر 1952 میں گیس دریافت ہوچکی تھی اسی لئے اسے سوئی گیس کا نام دیا گیا۔ سوئی کا مقام وہاں کے حالات اور بلوچستان سے عدم دلچسپی کی بنائ پر پاکستان کی اکثریت نا تو اس علاقے سے واقف ہے اور نا ہی اسے اعداد وشمار سے کوئی مطلب ہے کہ جن علاقوں کی دولت سے پورا ملک فائدہ اٹھارہا ہے وہاں کے باسی کن حالات میں غربت کی زندگی گزار رہے ہیں لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں ہے کہ اسے سوئی گیس کیوں کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک سے باہر رہنے والے پاکستانی جب وہاں گھروں میں گیس استعمال کرتے ہیں تو اسے سوئی گیس کا نام دیتے جب کہ وہاں کی گیس کا سوئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بہرحال سوئی میں گیس کا بڑ ا ذخیرہ دریافت ہونے کے بعد تقریبا” پندرہ سال تک پورے ملک کو سوئی گیس سپلائی کی جاتی رہی۔اس دوران پنجاب میں گیس دریافت ہوئی اور بعد میں 1981 میں سندھ میں بھی گیس کے ذخائر دریافت ہوچکے تھے لیکن ان میں سوئی کے مقابلے میں گیس کی پیداراو اتنی زیادہ نہ?ں تھی کہ پورے ملک کو سپلائی ہوسکے۔سوئی ڈیرہ بگٹی کا علاقہ ہے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جس مقام سے اتنی قیمتی گیس ملک کے بڑی صنعتوں کو اور کروڑوں لوگوں کے گھروں میں ضروریات پوری کررہی ہے۔وہاں کے باسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔اس کی وجوہات کے لئے پاکستان بننے کے بعد کے سیاسی حالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے دو صوبے بلوچستان اور سابقہ صوبہ سرحد جو اب پختونخواہ کے نام سے جانا جاتا ہے ان دونوں صوبوں میں قبائلی حکومت تھی انگریزوں کے زمانے سے ہی یہاں کے باشندے صرف اپنے سرداروں ،نوابوں کو جانتے تھے وہ صرف ان کے ہی نوکر تھے ان کو کوئی مطلب نہیں تھا کہ حکومت کس کی ہے اور سرداروں نوابوں کے ساتھ حکومت کے کیا معاہدے ہیں۔ان دونوں علاقوں میں رہنے والے تعلیم سے نابلد تھے وہ اپنی تمام ضروریات تمام مسائل کے لئے صرف اپنے نمائندوں کی طرف دیکھتے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان سرداروں اور نوابوں نے ان کو غلام بناکر رکھا اور ان کی کم علمی اور نا سمجھی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔یہ تمام لوگ ان نوابوں اور سرداروں کے محتاج ہوکر رہ گئے یہ ایک محدود زندگی گزارتے تھے دنیا کی ترقّی کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑا کیوں کہ ان کے آقاوں نے ان کو تعلیم سے محروم رکھا۔البتّہ سرداروں اور نوابوں نے وقت کے ساتھ ساتھ چل کر اپنی اولادوں کو جدید تعلیم بھی دی اور ورثہ میں علاقے بھی عطا کئے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا پاکستان بننے کے بعد ان قبائل سے قائداعظم اور پھر ان کے بعد آنے والوں نے جو معاہدے کئے ان معاہدوں میں عام لوگوں کا کوئی عمل دخل نہیں تھا بلکہ یہ معاہدے بھی ان نوابوں اور سرداروں سے ہوئے جو وہاں کے عوام کے نمائندے بن کر سامنے آئے۔ایک طویل عرصے تک وہاں کے عوام ان سرداروں کے آسرے پر ہی رہے اور زندگی اس طرح گزاری کہ بس یہی ہے زندگی۔ان دونوں صوبوں کے عوام جزوی طور پر دوسرے صوبوں کے عوام یا صاحب اختیار سے رابطے میں رہے باضابطہ ان کا کوئی تعلق نہیں رہا کیوں کہ تمام اختیارات ان لوگوں نے اپنے سردار نمائندوں کو دئیے ہوئے تھے۔اور یہ وہ نمائندے تھے جو مجبورا” پاکستان کے ساتھ تھے ورنہ ان کے آباو اجداد پاکستان بننے کے حق میں نہیں تھے اور ہمیشہ علیحدگی کی کوششیں کرتے رہے۔اسی وجہ سے وہاں کے رہنے والے بھی بٹے رہے لیکن وہ ان کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے یہی وجہ تھی کہ پاکستان کی سیاست کا مرکز سندھ اور پنجاب ہی رہا کہ جہاں کے عوام بھرپور انداز میں ساےست پر اثر انداز رہے لیکن سندھ اور پنجاب میں بھی صرف بڑے شہروں کے لوگ تھے جو اپنے حقوق اور اختیارات جانتے تھے ورنہ سندھ اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں وہی قبائلی صورت حال تھی اور ان کے اختیارات وڈیروں اور جاگیر داروں کے پاس تھے اور آج بھی یہی صورت حال ہے۔بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔یہاں دھاتوں میں تانبہ وافر مقدار میں ہے گیس کے کئی ذخائر ہیں اور کچھ معدنیات ایسی ہیں جن کو ابھی چھیڑا نہیں گیا ہے۔ڈیرہ بگٹی کے ہی علاقے اوچ سے گیس کا پانچواں بڑا ذخیرہ ۔۔1999 میں دریافت ہوا حقیقت تو یہ ہے کہ ان معدنی وسائل پر ان لوگوں کا ذیادہ حق ہے جو کئی پشتوں سے یہاں رہتے چلے آرہے ہیں اور یہ دنیا کا اصول ہے کہ جس علاقے میں گیس یا کوئی دوسری قیمتی معدنیات دریافت ہوتی ہیں تو اس علاقے کے لوگوں کا اس پر حق ذیادہ ہوتا ہے جیسا کہ امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں تیل کا جو ذخیرہ نکلتا ہے اس کا ایک بڑا حصّہ اس علاقے کے لوگوں کو ملتا ہے ٹیکساس کے ان تمام علاقوں کے باشندے بہت خوشحال اور امیر ہیں۔یہاں یہ صورت حال ہے کہ جس علاقے سے اتنی مقدار میں گیس نکالی جارہی ہے وہاں کے رہنے والوں کو پینے کا پانی میسّر نہیں ہے۔اگر وہاں کے باشندے اپنے نمائندوں پر ہی بھروسہ کئے رہے تو ہماری تمام آنے والی حکومتوں نے بھی اسی پر اکتفا کیا کہ ان کے نمائندوں سے ڈیلیں بناتے رہے ان کی جیبیں بھرتے رہے کہ ان کا کام آسان تھا اور فائدہ بھی اٹھارہے تھے اور غریب لوگوں کی جانب سے اپنی آنکھیں بند رکھیں۔کیا ہمارے حکمرانوں اور اسمبلی کے ممبرز اور وزیروں کا فرض نہیں بنتا تھا کہ ان کے حالات پر توجّہ دیں۔اور اب بھی وقت ہے ان کو کم از کم پانی جیسی بنیادی ضروریات سے تو محروم نہ رکھا جائے۔ملک میں ایک طویل عرصے تک کھاد بنانے والی فیکٹریوں کو نہایت سستے داموں بلوچستان سے سو فیصد گیس مہیّا کی جاتی رہی۔ جب کہ یہ کھاد کبھی بلو چستان میں استعمال نہیں ہوئی اور اس کا تمام منافع وفاقی حکومت کو جاتا رہا سوئی کے عوام کو کچھ نا ملا اور اگر ان کا کوئی نمائندہ بولتا بھی تھا تو اس سے ڈیل بناکر منہ بند کردیا جاتا تھا۔واضع رہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔چونکہ آبادی کم ہے اس لئے پنجاب ہی بڑا صوبہ مانا جاتا ہے کیونکہ پنجاب کی آبادی زیادہ ہے 1999 تک بلوچستان کو گیس رائلٹی کے صرف پچاس کروڑ دئے جاتے تھے جو کہ گیس کی پیداوار اس کی قیمت اور منافع کے لحاظ سے بہت کم تھے۔اب وہ رقم بڑھ کر ڈیڑھ ارب روپے ہوچکی ہے اور تمام سرچارج ٹیکس وغیرہ ملاکر ٹوٹل 14 ارب صوبے کو دئیے جاتے ہیں جب کہ اس تمام عرصے میں گیس کی قیمت کئی سو گنا بڑھ چکی ہے لیکن اس تمام عرصے میں بلوچستان کو دی جانے والی رقم صرف تین گنا بڑھی ہے۔اس رقم کی ادائیگی کے سلسلے میں وفاق کے ذمّے گیس کی مد میں 3600 ارب روپے بقایا تھے۔ جو کہ وفاق سے بلوچستان کو ملنا تھے لیکن مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ بلوچستان کے وزیر اعلی’ میر تاج محمد جمالی نے ان بقایا جات کو معاف کرنے کا اعلان کیوں کیا اس رقم پر تو سوئی کے غریب باشندوں کا حق تھا۔یہ رقم جمالی صاحب کی ذاتی تو نہیں تھی جو انہوں نے معاف کردی۔بعد میں صوبے کو 120 ارب روپے دس سال میں ادا کئے گئے جب کے بلوچستان کے کچھ راہنماوں کا کہنا ہے کہ تین سو ارب ابھی بھی بقایا ہیں۔آٹھویں تومیم کے بعد سندھ نے تو بہت فائدہ اٹھایا لیکن بلوچستان کو اس ترمیم کے بعد تمام معدنی وسائل پر کم سے کم پچاس فیصد حصّہ ملنا تھا جو کہ نہیں ملا۔بلوچستان کی صوبائی حکومت نے پی ٹی آئی کی حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اب معاہدہ 50 فیصد کے حساب سے ہوگا۔اگر بلوچستان کی موجودہ صوبائی حکومت اپنی قوم کے ساتھ مخلص ہے تو اسے اس قوم کا جائز حق دلوانا چاہئے کیوں کے بند کمرے کی ڈیلیں بہت ہوچکیں ۔آج بلوچستان کے عوام باشعور ہوچکے ہیں وہ اپنا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ ان کو ان کا حق دیا جائے یہ حالات کسی طور قابل قبول نہیں ہیں کہ اب وہاں کے رہائشیوں کو پانی تک ملنا دشوار ہورہا ہے ماضی میں بہت کچھ غلط ہوا ہے معدنی وسائل کے سلسلے میں جو رقم ملتی رہی وہ کہاں گئی کوینکہ صوبے میں تو ایسا کوئی قابل ذکر کام یا ترقّی نظر نہیں آرہی ہے پاکستان کے تمام عوام نے سوئی سے نکلنے والی گیس سے فائدہ اٹھایا اور وہاں کے بے شمار لوگ ابھی تک گیس سے محروم ہیں اور لکڑیاں جلاتے ہیں۔بلوچستان ،اس کی تاریخ ،و ہاں رہنے والے لوگوں کے مسائل ،اور ان مسائل کی وجوہات ،قدرتی وسائل ،اس کی آمدنی ،اور اس کی غیر منصفانہ تقسیم ،یہ ایک بہت طویل موضوع ہے۔ایک بہت لمبا حساب ہے اور اسے چند سطروں میں سمیٹنا بہت مشکل ہے لیکن اگر آپ دلچسپی لیں تو مختلف زرائع سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں ۔فی الحال بنیادی ضروریات سے محرومی۔حق تلفی اور غربت یہ وہ مسائل ہیں جن کا فوری حل ہونا بہت ضروری ہے بحیثیت ایک قوم اور ان کو اپنا پاکستانی اور مسلمان بھائی سمجھتے ہوئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان کے حق کی آواز میں اپنی بھی آواز ملائیں کچھ نہیں تو کم از کم سوشل میڈیا پر ان کی مشکلات سے قوم کو آگاہ کریں۔یقین کریں یہ بہت پیارے اور محبّت کرنے والے لوگ ہیں آپ ان سے محبّت کریں گے ان کے ساتھی بنیں گے تو یہ آپ کے اوپر اپنی جانیں نچھاور کردیں گے ان کو اعتماد میں لیں اور ان کا ساتھ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں