سویلین اور عسکری قیادت میں اختلافات کے کیا نتائج ہوں گے؟ 9

سویلین اور عسکری قیادت میں اختلافات کے کیا نتائج ہوں گے؟

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) وزیر اعظم عمران خان اور فوجی سربراہ کے مابین جو ڈیڈ لاک حالیہ فوجی افسروں کے تبادلہ کے بعد دیکھنے میں آیا ہے وہ شاید جلد ہی اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔ ہوگا وہی جو اسٹیبلشمنٹ نے سوچ رکھا ہے مگر عمران خان کی موجودہ ”میں نہ مانوں“ کی رٹ ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ گزشتہ سالوں میں تو حکومت اور فوج کے سربراہ یک جان دو قالب نظر آئے اس کی وجہ شاید یہ بھی رہی کہ موجودہ وزیر اعظم جانتے ہیں کہ ان کے اردگرد کیسے لوگ پنجے گاڑے بیٹھے ہیں اور بھوکے شیر کی طرح ان پر جھپٹنے کے لئے بالکل تیار۔ وہ تو بندوق والے ہی ہیں جن کی بدولت عمران خان سینہ پھلا کر چل رہے ہیں جو چاہتے ہیں کہہ دیتے ہیں، جسے چاہتے ہیں اندر کر دیتے ہیں، جس قسم کا فیصلہ چاہتے ہیں عدالتوں سے لے لیتے ہیں کیونکہ بندق والی سرکار جانتی ہے کہ نہ عمران خان کے پاس کوئی اور متبادل ہے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے پاس۔ یوں ایک بار پھر معاملات معمول پر آتے دکھائی دے رہے ہیں مگر اس بار جو دراڑ موجودہ عسکری فیصلوں کے سبب سول اور فوجی قیادت میں سامنے آئی ہے اس کے نتائج کچھ اچھے نظر نہیں آرہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ فوجی قیادت آئندہ آنے والے الیکشن تک کس نئے چہرے کو سامنے لاتی ہے اور ریاست مدینہ کی ناکامی کے بعد کن نئے اسلامی اقدار کا سہارا لیتی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں