Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 105

سو جوتے سو پیاز

سو جوتے اور سو پیاز کھانے کے بعد بھی کالعدم مذہبی جماعت ٹی ایل پی سے معاہدہ کرکے ان پر عائد پابندی کو ہٹانا تھا تو پھر حکومت کی رٹ کو قائم رکھنے کا ڈرامہ کیوں رچایا گیا؟ کیوں حکومتی مشینری کو پرتشدد مذہبی منادیوں کے آگے قربانی کا بکرا بنا کر پیش کیا گیا جس میں لاتعداد پولیس والوں کے مارے جانے اور شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں اس افسوسناک صورتحال سے پوری دنیا میں عمران خان کی حکومت کی بالخصوص اور ریاست پاکستان کی بالعموم جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ ملک کا خالصتاً اندرونی معاملہ ہے اور شو آف فورس ظاہر کرنے کا ایک انتہائی گھٹیا طریقہ ہے لیکن جن لووں نے بھی اس پاور شو کا اہتمام کیا وہ تو جیت گئے مگر بدقسمتی سے ریاست پاکستان اپنی رٹ برقرار رکھنے میں بہت ہی بری طرح سے ناکام ہو گیا ہے اور میں بذات خود اس کا براہ راست طور پر ذمہ دار ملک کے چیف ایگزیکٹو وزیر اعظم عمران خان کو ہی ٹہراتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ عمران خان کی حکومت ایک مخلوط حکومت ہے، کشتی چلانے کا ایک چپو اگر ان کے ہاتھ میں ہے تو دوسرا چپو کسی اور کے ہاتھ میں ہے لیکن کچھ بھی ہے وہ ہیں تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم۔۔۔
پوری دنیا انہیں وزیر اعظم پاکستان کے نام سے جانتی ہے اور پہچانتی بھی ہے اس موجودہ صورت ہال سے عمران خان کے طرز حکمرانی پر ایک نہیں بلکہ بہت سارے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں اور ان کی اپنی سیاسی پوزیشن کو بہت بڑا دھچکہ لگ گیا ہے یعنی ان کے مخالفین ان پر جس یوٹرن کا الزام گاہے بگاہے لگاتے رہتے تھے اس واقعہ نے اس پر ایک مہر ثبت کرلی ہے اور اسے اگر اس سال کا سب سے بڑا تاریخ ساز یوٹرن کہا جائے تو غلط نہ ہوگا اسی کو کہتے ہیں ”سو جوتے اور سو پیاز“ کھانے کے بعد کوئی کام کرنا۔ یعنی اگر ٹی ایل پی نامی کالعدم مذہبی گروپ سے مذاکرات کرنا ہی تھے یعنی ان کے آگے گھٹنے ٹیکنا تھے تو پھر ان کا راستہ روکنے کی کوشش میں پولیس والوں پر کیوں عذاب مسلط کیا، کیوں ان کی زندگیوں کو خطرہ میں ڈالا گیا، جب حکومت میں ان کا سامنا کرنے کی ہمت و جرات نہ تھی تو اس کے سامنے ہی کیوں آئے اور اس کے بعد سونے پہ سہاگہ ”نالے چور نالے چتر“ کے مصداق حملہ آور بھی ٹی ایل پی والے اور مظلوم بھی ہو۔ حکومت اپنے سپاہیوں کی قربانی دینے کے باوجود ظالم بن کر کٹہرے میں پہنچ گئی۔ یہ سب حکومتی بد انتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، دوسرے تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں کی طرح سے مجھے بھی اصل صورت حال کا علم ہے مگر جب حکومت نے ہی اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے تو مجھے یا دوسرے لکھاریوں کو اس صفحے کالے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
حکومت ہمت کرکے آگے آئے اور قوم کو بتلائے کہ اصل صورتحال کیا ہے؟ حکومت کو ایک کالعدم مذہبی جماعت کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی ضرورت یا نوبت کیوں پیش آئی۔ دوسروں کی طرح سے مجھے بھی وہ بڑی طاقتیں جو پاکستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظریں رکھی ہوئی ہیں انہیں بھی ساری صورتحال کا علم ہے کہ یہ ٹی ایل پی کس بلا کا نام ہے اور اس کی ڈوریں کس کے ہاتھ میں ہے اور کون اسے ہلا رہا ہے سب کو اس تلخ حقیقت کا علم ہے ہر کسی نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور محسوس کرنے سے ہی سب لوگ کام چلا رہے ہیں۔ کہنے کا مطلب ہے کہ جو لوگ یہ سب کچھ کررہے ہیں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ان کے اس طریقہ واردات سے دوسرے واقف نہیں، ہر کوئی جانتا ہے اور یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا ہے، بلکہ ہمیشہ سے ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ کوئی بھی حکومت چاہے وہ مخلوط ہو یا دوتہائی سے زیادہ اکثریت والی مستحکم حکومت ہی کیوں نہ ہو ہر حکومت میں سیاستدانوں کے علاوہ بعض دوسرے اسٹیک ہولڈر ہی ہوتے ہیں جنہیں ہر اہم ترین فیصلے میں شامل کرنا ضروری ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات تو ان کی مشاورت کے بغیر اہم ترین سرکاری امور پایہ تکمیل تک ہی نہیں پہنچ پاتے، ابھی چند ہفتے قبل ہی آئی ایس آئی کے چیف کے سلیکشن کے معاملے میں حکومت اور عسکری اداروں کے درمیان بہت بڑے پیمانے پر غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں اور اپوزیشن پارٹیوں نے انہیں ہوا دے کر ایک طرح سے آگ کا شعلہ بنانے کی بھی کوشش کی تھی مگر اپوزیشن پارٹیوں کے الزامات میں کسی نہ کسی حد تک صداقت ضرور تھی جس کا زندہ ثبوت ٹی ایل پی سے حکومت کا معاہدہ کرکے ان پر سے پابندی اٹھانا ہے اس حکومتی اقدام سے دوسری ایک درجن سے زائد کالعدم جماعتوں کو بھی موقع مل جائے گا کہ ان پر عائد پابندی بھی ختم کی جائے ورنہ وہ بھی سڑکوں پر آنے اور احتجاج کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
حکومت کو یا تو کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کو کالعدم نہیں قرار دینا چاہئے جب ایک بار ٹھوس جواز پر کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دیدیا جائے تو پھر حکومت کو اس پر آخر تک قائم رہنا چاہئے۔ اپنے تھوکے کو چاٹنے سے حکومت کی اپنی ساکھ اور پوزیشن خراب ہوتی ہے اور عام لوگوں کی نظر میں بھی خود حکومتی رٹ کی حیثیت ایک کھلونے سے زیادہ نہیں جس کا دل چاہے حکومتی رٹ کو کھلونے کی طرح سے توڑ دے۔ حکومت مذاحمت کرنے کی پوزیشن میں نہیں آسکے گی۔
خدارا اس تاثر کو ختم کریں اور اس طرح کی تاریخ ساز غلطیاں کرنے سے گریز کریں جس سے حکومتی رٹ ایک مذاق بن جائے۔ وزیر اعظم عمران خان کو دانشمندی اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ گھر کے اندرونی معاملات کو خوبصورتی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی میں پاکستان کی سلامتی مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں