پیپلزپارٹی کا پی ڈی ایم سے اتحاد ختم! 37

سپریم کورٹ نے عمران خان حکومت کا موقف مان لیا؟

صدارتی ریفرنس برائے سینٹ انتخابات پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے 4/1 سے عمران خان حکومت کا موقف کسی حد تک تسلیم کرلیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سینٹ انتخابات قانون اور آئین کے مطابق یعنی خفیہ حق رائے دہی سے ہی ہوں گے مگر خفیہ کی تعریف کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ Absolute خفیہ کچھ نہیں ہوتا۔ ووٹ کا خفیہ ہونا صرف بیلٹ بکس تک ہوتا ہے اس کے بعد اس کی اہمیت بدل جاتی ہے لہذا الیکشن کمیشن کو کہا گیا ہے کہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ یعنی کرپشن کو روکنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے تاکہ آئین کے مطابق تمام سیاسی پارٹیوں کو متناسب نمائندگی کے حساب سے سیٹیں مل سکیں اس کا مظاہرہ صوبائی اسمبلی پنجاب میں ہو چکا ہے یعنی متناسب نمائندگی کے حساب سے پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کو بلامقابلہ سیٹیں مل چکی ہیں اس طرح پنجاب میں کرپشن کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور اسی طرح تمام صوبوں میں یہی فارمولا اپنانا ہوگا۔
اس سے پہلے صدارتی ریفرنس کی طویل سماعتوں کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندہ وکلائ، بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور اٹارنی جنرل نے بڑے اہم دلائل دیئے اور اس دوران جج صاحبان نے وکلاءسے لاتعداد قانونی نکات پر وضاحت چاہی اور مختلف رائے آتی رہیں۔ بیس دنوں تک اس نقطہ پر بہث مباحثہ جاری رہا۔ اس سے بھی پہلے کے پی کے کے ایم پی اے حضرات کی ویڈیوز منظرعام پر آچکی تھیں جس میں نا صرف مرد حضرات رقم وصول کررہے ہیں بلکہ عورت بھی نوٹوں کی گڈیاں گنتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ اس ویڈیو نے بھی میڈیا پر نئی بحث کھڑی کردی اور حکومتی موقف مزید مضبوط ہونے لگا۔ اس ویڈیو کی بازگشت دوران سماعت بھی سنی گئی اور زیربحث بھی رہی۔ ہر ذی شعور شخص اس بات پر قائل تھا کہ سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے ہونے چاہئیں تاکہ کرپشن کا راستہ روکا جا سکے ماسوائے پی ڈی ایم جماعتوں کے۔ ان کا غیر مبہم اور غیر منطقی موقف کسی کی سمجھ میں نہیں آیا اور انہوں نے اس کی کھل کر مخالفت کی جس کی پہلے یہ جماعتیں میثاق جمہوریت میں حمایت کرچکی ہیں اور اس پر کلی اتفاق تھا۔
پی ڈی ایم اور جماعت اسلامی کا اس موقف کے خلاف کھڑے ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے بھی یہ سب جماعتیں سینٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں FATAF کے بل کی کھل کر مخالفت کرچکی ہیں اور ان مکروہ چہروں کو قوم اور تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ جنہوں نے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی اور ایسی قانون سازی کی مخالفت کی جس سے پاکستان بلیک لسٹ میں جا سکتا تھا۔ اس قسم کے نام نہاد سیاسی راہنماﺅں سے سینٹ کے اوپن بیلٹ سے انتخابات کی مخالفت کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔
اب سینٹ کے انتخابات کا اصل معرکہ یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کے درمیان ہے اور پی ڈی ایم نے گیلانی کو اعتزاز احسن کی طرح قربانی کا بکرا بنا کر اسلام آباد کی نشست سے کھڑا کردیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گیلانی کو Disgrace کرنے کے مترادف ہے کیوں کہ وہاں سے اس کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیوں کہ حفیظ شیخ کے لئے وزیر اعظم سمیت تمام پی ٹی آئی کے اکابرین میدان میں اتر چکے ہیں اور پھر حکومت کے وسائل کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
پی ڈی ایم یہاں سے بھی اسی رطح رسوا ہو گی جس طرح ستمبر سے شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک کا جنازہ نکل چکا ہے اور انہیں ہر محاذ پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اسی طرح آئندہ آنے والے دنوں میں بھی پی ڈی ایم کی نا اہل اور ملک دشمن قیادت اپنے زخم چاٹتے ہوئے نظر آئے گی۔ اس معرکہ میں بھی جیت عمران خان کی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں