Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 150

سچی کہانی

شبیر نے جیب سے پرس نکالا تو پرس سے ایک تصویر نکل کر نیچے گر گئی۔ شبیر نے تصویر اٹھائی اور دوبارہ پرس میں رکھ لی۔ پاری کی نظر تصوری پر پڑ چکی تھی۔ اس نے شبیر سے پوچھا یہ کس کی تصویر ہے؟ کچھ نہیں بس ایسے ہی ایک تصویر ہے، شبیر نے لاپرواہی سے جواب دیا لیکن یہ کسی لڑکی کی تصویر اور یہ تصویر آپ نے اپنے پرس میں کیوں رکھی ہوئی ہے۔ پاری نے وضاحت چاہی۔ دیکھو پاری تم میری بیوی ہو اور بیوی ہی بن کر رہو میری باس بننے کی کوشش نہیں کرو۔ شبیر نے خفگی سے کہا لیکن میں آپ کی بیوی ہوں اور بیوی ہونے کے ناطے یہ میرا۔۔۔ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی شبیر نے ہاتھ اٹھا کر کہا، دیکھو، پاری اب اگر میں وضاحت کرنے بیٹھوں گا تو بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گی یا اور بات بڑھ بھی سکتی ہے اور بات بڑھنے کا مطلب تم جانتی ہو نوبت طلاق تک بھی آسکتی ہے۔ شبیر نے برہمی سے کہا۔ نہیں نہیں رہنے دیں میں خاموش ہو جاتی ہوں۔ پاری نے دکھ بھرے لہجے میں کہا اور شبیر تیزی سے باہر نکل گیا۔
کچھ دن گزرے پاری مارکیٹ سے گھر پہنونچی، دروازے پر ہی شبیر کی آواز آئی وہ اندر فون پر کسی سے بات کررہا تھا۔ وہ وہی ٹھٹھک کر رک گئی۔ پھر شبیر کی آواز آئی تو تم کتنے دن کے لئے جارہی ہو اتنا سن کر پاری نے دروازہ کھولا تو شبیر نے جلدی سے فون بند کردیا۔ کس کا فون تھا۔ پاری نے پوچھا۔ کوئی نہیں میرا ایک دوست تھا۔ فی میل دوست، پاری نے معنی خیز انداز میں پوچھا۔ پاری میں نے تمہیں کتنی مرتبہ منع کیا ہے یہ فضول سوالات مجھ سے مت کیا کرو کیونکہ تم اگر مزید وضاحت مانگو گی تو بات بڑھ سکتی ہے اور نوبت طلاق۔۔۔ شبیر کی پوری بات سننے سے پہلے ہی پاری تیزی سے بیڈروم میں چلی گئی۔ پاری کو یقین ہو چلا تھا کہ شبیر کسی اور لڑکی سے دوستی رکھے ہوئے ہے اور یہ یقین پختہ اس وقت ہوا جب ایک دن پاری اسٹور سے نکل کر گاڑی میں اپنا سامان رکھ رہی تھی کہ اس کی نظر اسٹور کے برابر سینما پر پڑی۔ شبیر ایک لڑکی کے ساتھ بات کرتا ہوا باہر آرہا تھا۔ پاری کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر گھر آگئی۔ شبیر گھر آیا تو پاری نے کہا آج میں نے خود اپنی آنکھوں سے آپ کو ایک لڑکی کے ساتھ دیکھا ہے۔ اچھا کہاں دیکھ لیا۔ شبیر نے بڑے سکون سے پوچھا۔ سینما ہال کے باہر آپ فلم دیکھ کر اس کے ساتھ باہر آرہے تھے۔ پاری نے روہانسے لہجے میں کہا تو پھر کیا ہو گیا۔ تم کو اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو یہ سب برداشت کرنا ہو گا کیونکہ تم جانتی ہو کہ بات بڑھانے کی صورت میں نقصان تمہارا ہی ہوگا کیوں کہ میں تمہیں۔۔۔ شبیر کی بات پوری ہونے سے پہلے وہ کمرے سے چلی گئی۔ یہ ایک بات سنتے سنتے اس کے کان پک گئے۔ طلاق طلاق، کب تک ان دھمکیوں سے ڈر ڈر کر خاموش رہے گی پھر اس نے ایک فیصلہ کیا اور وہ پرسکون ہوتی چلی گئی۔
تین چار دن کے بعد ایک دن شبیر گھر آیا تو پاری بیڈروم میں تھی اس نے پاری کو آواز دی تو اندر سے آواز آئی کہ آرہی ہوں شبیر کو پاری کے لہجے میں گھبراہٹ محسوس ہوئی پھر اندر سے کچھ گرنے کی آواز آئی۔ شبیر نے بھاگ کر بیڈروم کا دروازہ کھولا اسے ایسا محسوس ہوا کہ بیڈروم کے پچھلے دروازے سے جو کہ لان میں کھلتا ہے کوئی باہر نکلا ہے اس نے بھاگ کر کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو کوئی شخص کالی پینٹ اور سفید شرٹ میں بھاگتا نظر آیا۔ شبیرجلدی سے دروازے سے باہر بھاگا لیکن اتنی دیر میں وہ شخص غائب ہو چکا تھا۔ وہ بڑا حیران تھا اتنی سی دیر میں وہ شخص کہاں غائب ہو گیا۔ باہر کا دروازہ بھی ذرا سا کھلا ہوا تھا۔ نہیں وہ دوبارہ گھر میں تو نہیں جا سکتا اس نے سر جھٹکا اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں تھی کہ پاری کے کمرے میں کوئی شخص موجود تھا۔ غصے کے مارے وہ کانپ رہا تھا۔ وہ دوبارہ بیڈروم میں داخل ہوا پاری اپنی جگہ پر ہی کھڑی اسے خوفزدہ انداز میں دیکھ رہی تھی۔ کون تھا وہ؟ اس نے چلا کر پوچھا۔ کو کون پاری نے گھبرا کر کہا۔ یہاں تو کوئی نہیں تھا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ مجھے بے وقوف نا بناﺅ، تمہارے کمرے میں کوئی شخص موجود تھا۔ میں نے اسے بھاگتے دیکھا ہے، کالی پینٹ اور سفید شرٹ میں کون تھا وہ، جواب دو، شبیر چیخ رہا تھا۔ دیکھو شبیر اب اگر میں وضاحت کرنے بیٹھوں گی تو بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گی۔ بات بڑھ بھی سکتی ہے اور بات بڑھی تو نوبت۔۔۔ خاموش، شبیر نے اس کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کیا۔ میرے الفاظ مجھ ہی کو دہرا رہی ہے۔ نوبت کی ایسی کی تیسی۔ طلاق تو میں تجھے دے ہی دوں گا لیکن اس سے پہلے میں تیرے یار کا نام معلم کروں گا۔ تیرے جیسی عورت کو کون برداشت کرے گا جو شوہر کے ہوتے ہوئے ایسی حرکت کرے۔ شبیر نے چلا کر کہا۔ لیکن میری بات تو سنیں شبیر، پاری نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن شبیر نے اسے ایک دھکا دیا، مجھے کچھ سننے کی ضرورت نہیں، مجھے یہ بتاﺅ وہ شخص کون تھا، میں آخری مرتبہ پوچھ رہا ہوں، ایسا نا ہو، میں تمہارا ابھی گلا گھونٹ دوں۔ پاری چند لمحے اس کی طر دیکھتی رہی پھر ایک ٹھنڈی سانس لے کر بولی اچھا تو تم معلوم کرنا چاہتے ہو کہ وہ کون تھا؟ بالکل تمہیں دھکے دے کر اس گھر سے نکالنے سے پہلے میں اس شخص کا نام معلوم کرنا چاہتا ہوں تاکہ بعد میں اس سے بھی نمٹ لوں۔ مجھے نام بتاﺅ اور اس گھر سے دفع ہو جاﺅ۔ ٹھیک ہے شبیر یہ سب دیکھ کر تمہیں کتنا طیش آیا ہے کہ تم مجھے نکال کر اس شخص کو بھی نہیں چھوڑو گے اور میں کتنے عرصے سے برداشت کررہی ہوں کہ تم دوسری عورت کے ساتھ گھوم رہے ہو لیکن میں کمزور ہوں، کچھ نہیں کرسکتی۔ بکواس بند کرو اور میرے صبر کا امتحان مت لو، دفع ہو جاﺅ یہاں سے، شبیر نے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر چلا کر کہا۔ میں تو چلی جاﺅں گی لیکن اس کا نام بتا کر جاﺅں گی جو میرے کمرے میں تھا پھر اس نے نوکرانی کو آواز دی۔۔۔ ریشماں، شبیر نے دروازے کی طرف دیکھا، ریشماں گھبرائی ہوئی وہاں کھڑی تھی اور اس نے شبیر کی کالی پینٹ اور سفید شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ شبیر حیرت سے گنگ اس کی طرف دیکھ رہا تھا اور پھر وہ اچانک قہقہے لگانے لگا۔ ارے پاری یہ کیسا مذاق کیا ہے تم نے وہ ہنسے جا رہا تھا لیکن پاری سپاٹ چہرے سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔ اس کے چہرے پر رنج کے آثار تھے اور آنکھوں سے آنسو سیلاب کی طرح بہہ رہے تھے۔ شبیر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، کیا بات ہے پاری تم رو کیوں رہی ہو؟ آج میں نے آپ کا اعتماد آپ کی محبت دیکھ لی، آپ مجھے طلاق کی دھمکیاں دیتے رہے اور میں خاموش رہی، مجھے آپ پر اعتماد تھا کہ ایک دن آپ میرے پاس واپس لوٹ آئیں گے اور آپ کا اعتماد؟ آپ نے تو میری بات تک سننا گوارہ نہیں کی۔ میں تو آپ کا امتحان لے رہی تھی، میں دیکھنا چاہتی تھی کہ اعتماد کی یہ دیوار کتنی مضبوط ہے لیکن یہ تو ریت کی دیوار تھی، ہوا کے ایک جھونکے سے ہی گر گئی اور آج تک جو آپ دھمکیوں میں پوچھتے رہے کہ بات بڑھا کر کیا میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے طلاق دے دیں تو آج میں آپ کی اس بات کا جواب دے رہی ہوں کہ ہاں اب میں چاہوں گی کہ آپ مجھے طلاق دے دیں۔ آپ جیسے مردوں کو اپنی بیوی پر نہیں بلکہ اپنی مردانگی پر شک ہوتا ہے۔
یہ ایک شچی کہانی ہے۔ پاری نے شبیر سے طلاق لے لی۔ کیا اس نے اتنا بڑا فیصلہ صحیح کیا؟ میرے خیال میں تو بالکل اسے یہی کرنا چاہئے تھا۔ ایک لمبی اور بے اعتماد زندگی جس میں قدم قدم پر شک کے اسپیڈ بریکر آئیں اس سے بہتر ہے کہ شروع میں ہی علیحدہ ہو لیا جائے۔ شبیر جیسے بے شمار افراد ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو خود تمام پابندیوں سے آزاد رہنا چاہتے ہیں اور تمام پابندیاں گھر کی عورت پر لگا دیتے ہیں اور ہر بات میں قرآن و حدیث کا حوالہ دے کر ان کو مجبور کرتے ہیں کہ انہیں ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے دراصل خوف مذہب کا نہیں بلکہ لوگوں کا معاشرے کا ہوتا ہے اپنی زندگی کے لئے اپنے کردار کے لئے قرآن و حدیث پر نظر نہیں ڈالتے کہ مردوں کے لئے کیا حکم ہے، ہر شخص یہ کہہ کر بری الزمہ ہو جاتا ہے کہ مرد تو ایسا کرتے ہی ہیں، یہ کس نے کہا، کیا ہمارے مذہب نے نہیں بلکہ خود قانون بنا لئے ہیں اگر قسمت سے اچھی بیوی مل جائے تو اس کی قدر کرنا چاہئے، عزت کرنا چاہئے، ورنہ ہر شخص کو ساٹھ سال کی عمر کے بعد ہی احساس ہوتا ہے کہ اس نے کیا کیا زیادتیاں کی ہیں۔ باضمیر ملامت کرتا ہے لیکن وقت تو گزر چکا ہوتا ہے۔ یہ ان خواتین کے لئے نہیں ہے جن کو قسمت سے اچھا شوہر مل بھی جائے تو عزت نہیں کرتیں، اٹھتے بیٹھتے اس کو باتیں سنانا گھر کو جہنم بنانا اور شوہر کی زندگی اجیرن کردینا۔ گھر کی عزت کریں اور اسے جنت بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں