”ایک ہر دلعزیز ملکہ“ 110

سیاسی اخلاقیات

مفکر پاکستان کہہ گئے کہ ”یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو۔۔۔ تم سبھی کچھ ہو بتاﺅ تو مسلمان بھی ہو“۔ موجودہ صورت حال میں تو سوال یہ بنتا ہے کہ ”ن لیگی بھی ہو، جیالے بھی ہو، کھلاڑی بھی ہو، تم سبھی کچھ ہو، بتاﺅ تو پاکستانی بھی ہو“۔ قومیت تو دفن ہو چکی، اب اس کی غائبانہ نماز جنازہ دھوم دھام سے تقریباً روز پڑھی جاتی ہے۔ اخلاقی انحطاط کی تمام حدیں پار کرلی گئیں ہیں۔ پارلیمان میں جو صورت حال گزشتہ دنوں دکھائی دی وہ ہر اُس پاکستانی کے لئے جو زندہ ہے اور وہ جو گزر بھی چکا ہے ایک اذیت سے کم نہیں۔ فصاحت اور بلاغت کی معراج سننے اور دیکھنے میں آئی اور اس پر دل شکن بیانیہ کہ گالیاں دینا پنجاب کا کلچر ہے۔ ڈھونڈھنا ہو گا کہ یہ کون سا پنجاب ہے؟ بابا بھلے شاہ کا پنجاب، داتا گنج بخش کا پنجاب، علامہ اقبال کا پنجاب، احمد ندیم قاسمی کا پنجاب اور دوسرے بہت سے اکابرین اور صوفیوں کا پنجاب جو اس وقت اپنی اپنی قبروں میں کروٹیں بدل رہے ہوں گے اس معرکتہ الآرا انکشاف کے بعد۔
سیاسی اخلاقیات سے مبرا عوامی نمائندگان جس طرح اپنی تقریروں میں ایک دوسرے کو ذومعنی ستائشی جملوں سے نوازتے ہیں وہ فکر طلب ہے۔ مشہور قول ہے کہ ”کلام کرو تاکہ پہچانے جاﺅ“۔ آفرین ہے اس 22 کروڑ عوام پر کہ پہچاننے کی تمام صلاحیتوں سے عاری ہو چکے ہیں یا پھر مشکلیں اتنی پڑی مجھ پر کہ آساں ہو گئیں۔
پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاست نے کئی نئے رُخ اختیار کئے ہیں، وہ بردباری، متانت اور باوقاری جو سیاستدانوں کو اُن کے قافلے میں نمایاں کرتی تھی، مفقود ہوتی چلی گئی۔ سیاست بھی مکتب گاہوں پر قدغن لگانے کا آغاز ہوا، نوسر بازوں کے لئے بساط بچھانے کے سلسلے شروع ہوئے۔ پاکستانی سیاست قومی ہم آہنگی اور مسائل کی ترجیحات سے نکل کر ذاتی مفادات کے قالب میں ڈھلتی چلی گئی۔ عوام لاچاری اور بے بسی کے عالم میں اپنے مستقبل ایسے ہاتھوں کے سپرد کرنے پر مجبور ہوئے جن کے بارے میں خود ان کا ضمیر بھی تذبذب کا شکار رہا۔ انتخابات میں دھاندلیوں کا ہنگامہ زور و شور سے ہوتا رہا مگر حکومتیں بنتی رہیں اور برطرف ہوتی رہیں۔ انتخاب کے منصفانہ طریقہ کار رائج کرنے کی قانون سازی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
1985ءکے بعد سے ریاستی اداروں کے فرائض کی انجام دہی میں تعطل ڈالنے کا طریقہ کار اپنایا گیا۔ سیاسی بھرتیوں کا رواج عام ہوا جس کا فائدہ بعد میں آنے والی تمام حکومتوں نے اٹھایا۔ ریاست کے کئی اہم ادارے اس کی زد میں آئے اور تنزلی کا شکار ہوئے۔ قومی فضائی کمپنی اور اسٹیل مل اسی صورت حال سے دوچار ہوئے۔ پی پی پی کے گزشتہ دور حکومت میں اٹھارویں ترمیم نے جہاں صوبوں کو خودمختاری دی وہیں بے شمار تنازعات کا دروازہ بھی کھول دیا۔
پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے اس طریقہ کو اپنا لیا ہے کہ وہ جب اور جہاں بھی شکست سے دوچار ہوں انتخاب کے نتائج ماننے سے انکار کردیتی ہیں اور دھاندلی کا علم بلند کردیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف ن لیگ کے دور میں 126 دن کے دھرنے میں بیٹھی اور دھاندلی کا شکوہ کرتی رہی۔ اس وقت اس نے انتخابی اصلاحات کے ضمن میں قانون سازی پر پیش رفت کی ہے۔ ماضی میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی بھی اس عزم کا اظہار کرتی رہی ہیں کہ ملک میں رائج انتخابی طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے مگر مختلف وجوہات کی بنا پر اس پر کوئی کام نہ ہو سکا۔ انتخابات کی شفافیت ہر نظام حکومت کی اہم ترین ضرورت ہے، خاص طور پر پاکستان کی موجودہ سیاسی میں۔ تحریک انصاف نے بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی حق رائے دہندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک احسن قدم ہے مگر اس کے پورے عمل کو شفاف رکھنے کے لئے ایک انتہائی مربوط اور مضبوط طریقہ کار وضع کرنا ہوگا جس پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہو گا۔ کئی ممالک اپنے باہر رہنے والوں کو اپنے ملکی انتخابات میں شامل کرتے ہیں اور ان کو ووٹ دینے کی آسانیاں فراہم کرتے ہیں۔ اس میں پوسٹل بیلٹ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یا پھر سفارت خانے جا کر ووٹ دیا جا سکتا ہے۔ الیکٹرونک مشین کے ذریعے۔ ماضی میں دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس معاملہ پر بھی رضا مند نظر آتی تھیں مگر فی الوقت ن لیگ اور پی پی پی دونوں نے اس پر شدید اعتراضات کئے ہیں۔ تحریک انصاف پاکستان کے اندر بھی الیکٹرونک ووٹنگ کو رائج کرنے کے حق میں ہے۔ اس کی تفصیلات سے تمام فریقوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ جہاں کئی ممالک میں اس طریقہ کار رائج کرنے کے مثبت نتائج ملے ہیں۔ وہیں کئی جگہ الیکٹرونک سسٹم سے متعلق منفی تبصرے بھی سامنے آئے ہیں اور اس طریقہ کار کو ختم کیا گیا ہے۔ حکومت کو یقینی طور پر اس پورے عمل کو متعارف کرنے کے لئے حزب اختلاف کے ساتھ تفصیلی بحث کرنی ہوگی اور ان کی سفارشات کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا۔ یہ قانون سازی کسی ایک جماعت سے منسلک نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گی۔ حزب اختلاف کو بھی ان اصلاحات کو اس وقت جماعتی رویوں سے بالاتر ہو کر ریاست پاکستان کے قوانین میں ترمیم کے طور پر دیکھنا ہو گا۔ سینٹ کے الیکشن کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا تھا کہ ایسا طریقہ رائج کیا جائے جس کے تحت الیکشن کمیشن پر ووٹر کی شناخت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ووٹ کی نشاندہی بھی کرسکے۔ الیکشن کمیشن نے حکومت کی انتخابی اصلاحات اور اس سے متعلق تمام تجاویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ووٹروں کی لسٹ اس طریقہ کار میں نادرا کے دائرہ کار میں آجائے گی جس کا فائدہ ان حلقوں کو ضرور ہو گا جو مردم شماری کے غلط اندراج کی وجہ سے نمائندگی سے محروم ہو گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ایسی تمام تجاویز کو اپنے اختیارات میں مداخلت سے تعبیر کیا ہے اور اس پر کھل کر ردعمل دیا ہے جب کہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیشن اس کا مجاز نہیں ہے بلکہ اسے حکومت سے براہ راست مشاورت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے اس کے علاوہ تمام اعتراضات قانونی طور پر درست نہیں قرار دیئے جا سکتے۔
اگر ہر طرف سے باہمی مشاورت اور مفاہمت کے ساتھ یہ انتخابی اصلاحات نافذ ہو جاتی ہیں تو شاید مستقبل کی سیاست میں کچھ استحکام کی صورت نظر آئے۔ حکومتیں اپنی مدت پوری کر سکیں اور ہر ہارنے والی جماعت دھاندلی کی آڑ میں حکومت گرانے کی تگ و دو کے بجائے ریاست سے وفاداری کا حلف لینے کے بعد ملکی مسائل اور تقاضوں کو پورا کرنے میں کردار ادا کر سکے۔
قانون سازی پارلیمان کی ذمہ داری ہے اس میں دونوں فریق یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ ریاستی ادارے صرف ان قوانین پر عمل کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ پارلیمان کی تکریم اور وقار کی حفاظت ہر رُکن کی ذمہ داری ہے۔ اس سے انحراف ریاستی اور حکومتی نظام میں پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے، جمہوریت ایک دوسرے کی رائے کا احترام کا تقاضا کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں