غلامی کی طرف 15

شتر مرغ

یہ تحریر نہ کسی بغض کے تحت نہ ہی کسی کو غدار اور ملک دشمن قرار دینے کے لئے اور نہ ہی لوگوں میں مایوسی پھیلانے کے لئے پیش کی جارہی ہے بلکہ یہ ان شتر مرغوں کے لئے ہے جو ریت میں اپنی گردن چھپا کر حالات کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ زمانے لد گئے جب ”دلی ہنوز دور است“ کے نعرے بلند ہو جاتے تھے اور واقعی ”دلی“ کبھی نہیں آئی اور وہاں پہنچنے والے اسی حسرت میں مر گئے مگر اب دلی تو دور نہیں ہے بلکہ دلی والے آنے والے ہیں وہ بھی ہمارے ”محب وطن“ حکمرانوں کے کندھوں پر سوار ہو کر شادیانے بجاتے ہوئے، آج وہ حالات پیدا کئے جارہے ہیں جو 71ءمیں اس ملک کے آدھے سے زیادہ حصے کو ہندوستان کے حوالے کرکے اس قوم نے پاکستان بنانے والوں کا نصف سے زیادہ احسان اتار دیا تھا اور اب نام نہاد حکمران بقایا احسان بھی اتارنے جارہے ہیں۔
یہ تحریر کسی عام آدمی کی نہیں ہے، کسی پارٹی کے مخالف یا حامی کی نہیں ہے بلکہ یہ تحریر اب ایسے فرد کی ہے جو پاکستان کی فضائیہ کا ایک اعلیٰ افسر اور اندرون خانہ حالات سپر اتھارٹی ہے اس تحریر کو پڑھ کر اگر آپ کے راتوں کی نیند اڑ جائے تو سمجھ لیجئے ابھی آپ کو ارض پاک سے محبت ہے اور آپ مسلمانوں کے اس ملک سے وفادار ہیں جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور جسے خود کو مسلمان کہنے والے کافروں سے بدترین انسانوں نے اسے صفحہ ارض سے مٹانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اللہ بھی ان کا ساتھ دیتا ہے جو اپنا ساتھ خود دینا چاہتے ہیں وہ ان کا ساتھ کبھی نہیں دیتا جو کفران نعمت کرتے ہیں اور پاکستان بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جسے یہودیوں کی طرح کا ”من سلویٰ“ پا کر بھی شکر بجا نہیں کرتے تھے اس نعمت کو ان کے ہاتھ سے لے لے گا۔ اس تحریر میں آپ کو وہ تصویر نظر آئے گی جو دلوں کو دہلا دے گی جو آپ کو احساس دلائے گی کہ اگر یہی سب چلتا رہا تو آنے والا کل ہمارے لئے کئی بڑی تباہی لے کر آرہا ہے اور ہم ان باتو ںسے بے نیاز شتر مرغ کی طرح اپنی گردن ریت میں دبا کر محض یہ کہہ رہے کہ اللہ سب ٹھیک کر دے گا۔
تتاریوں نے خوارزم شاہ پر حملہ کیا تھا اس نے تمام مولویوں کو حکم دیا تھا کہ مساجد میں آیت کریمہ کی تلاوت کرو، مولوی عبادت کرتے رہے اور ہلاکو خان سروں کا مینار بناتا رہا اور خود خوارزم شاہ جو بھاگے تو سندھ میں بمعہ گھوڑے کے دریا میں کود کر غرق ہو گئے اور ہمارے دور کے خوارزم شاہ جہازوں میں سوار ہو کر لندن، دوبئی، واشنگٹن اور ٹورنٹو میں وارد ہو کر مال حرام سے عیش و عشرت کی زندگیاں بسر کریں گے اور یہ احمق عوام جو زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں، دشمنوں کے قدموں میں لوٹ رہے ہوں گے، اب سلسلہ وار تحریر پڑھئیے۔
اب پہلا مرحلہ شروع ہوتا ہے، حکمران اور حکومت تبدیل کردی گئی ہے، اور پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا عمل شروع ہوا چاہتا ہے، جو ان موجودہ امریکہ کے پٹھو حکمرانوں کی موجودگی میں کامیابی کے ساتھ روبہ عمل ہو گا، دوسرے مرحلے میں اقتصادی اور سفارتی اسٹریجی کو روبہ عمل لا کر چین اور روس کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کو بے اثر بنایا جائے گا اور ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے کہ دونوں دوست ممالک پاکستان سے بدظن ہو جائیں گے، اگلے مرحلے میں سی پیک کا منوصبہ جو کہ امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا تھا اسے ختم کردیا جائے گا اس طرح پاکستان جو خوشحالی اور خودمختاری کے خواب کو چکنا چور کردیا جائے گا جب کہ روس سے سستے داموں پر گندم اور تیل حاصل کرنے والا معاہدہ کالعدم ہو جائے گا کیونکہ ہم روس سے ڈالر کی جگہ روپیہ میں گندم اور تیل کی قیمت ادا کرنے والے تھے۔ پانچویں مرحلے میں 1971ءکی طرح اندراگاندھی کی طرز پر نریندر مودی جو یورپ کے دورے کریں گے اور یورپ سے پاکستان پر حملہ کرنے کی تائید اور حمایت لے کے آئیں گے جو پہلے ہی پاکستان کو زک پہنچانے کا بہانہ تلاش کررہا ہے اور اس طرح ہندوستان پاکستان کی طرف ایک جعلی حملے کی آڑ لے کر بین الاقوامی سرحد کو عبور کرے گا اور کہے گا یہ پاکستان کی طرف سے ”دہشت گردی“ کا جواب ہے اور ساری دنیا اس بات کو درست تسلیم کرتے ہوئے اس کی حمایت کرے گی۔ تیسرے مرحلے میں پاکستان کو آئی ایم ایف، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو دیئے ہوئے قرضوں کی مدت ادائیگی بڑھائی جاتی رہے گی اور ایک وقت میں اس سے کہا جائے گا کہ اب ان قرضوں کی ادائیگی کرو اور قرضوں کی رقم جب سازشی اور ماضی کی طرح حکمرانوں کی طرف ہڑپ کرکے بیرون ملک منتقل ہو چکی ہوں گی اور اکستان ان قرضوں کو ادا نہ کر سکے گا، دیوالیہ قرار دیدیا جائے گا، جسے کوئی بیل آﺅٹ کرنے والا نہیں ہو گا۔ اس مرحلے کی ساتویں نظیر یہ ہے کہ سی آئی اے کے سربراہ نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کرکے ولی عہد محمد بن سلمان کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے پاکستان کو بیل آﺅٹ کرنے کی کوشش کی تو سمجھ لے کہ سعودی عرب میں ان کا اقتدار ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس نے یہ بھی تنبیہہ کی ہے کہ ہندوستان کے پاکستان کے اوپر حملے کے بارے میں وہ ہندوستان کے خلاف ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالے ورنہ نتائج کا ذمہ دار خود ہوگا۔ چوتھے مرحلے میں پاکستان کے محفوظ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر ختم ہونے کی صورت میں پاکستان بھی سری لنکا کی طرح ایک دیوالیہ ملک ڈیکلیئر کردیا جائے گا اور اسے مجبور کیا جائے گا کہ اپنے اثاثے گروی رکھ دے جن میں پاکستان ٹیلی ویژن اور ایئرپورٹس وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اندرونی طور پر اجتماعی بے چینی، خوف و ہراس، خانہ جنگی کے ساتھ مذہبی تفرقہ بازی، مذہبی انتہا پسندی کی لپیٹ میں آجائے گا اور کھلے عام پاکستانی افواج کے خلاف نعرہ بازی، بیانات کے سلسلے شروع ہو جائیں گے، جس میں بکاﺅ میڈیا، سوشل میڈیا پر منظم طریقے سے کام شروع ہو جائے گا (جو شروع ہو چکا ہے) اور ان سب باتوں کے بعد آخر کار وہ مکروہ منصوبہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو جائے گا اور اندازہ ہے کہ ستمبر یا اکتوبر میں پاکستان پر جنگ مسلط کردی جائے گی جس کے نتیجے میں فوج کو اس میں الجھا کر پاکستان کو عدم مرکزیت کی طرف لے جایا جائے گا اور ایک مرتبہ پھر اسے تقسیم در تقسیم کے مرحلے پر لا کھڑا کردیا جائے گا۔ اس طرح پاکستان کی سالمیت ختم کردی جائے گی اور اس مرتبہ آزاد کشمیر اور بلوچستان کو پاکستان سے جدا کردیا جائے گا (بلوچستان موجودہ حالات میں موساد، را اور افغانی طالبان کی جولان گاہ بنا ہوا ہے، آزاد بلوچستان کی تحریک عروج پر ہے اور ایک وفاقی وزیر آزاد بلوچستان کے جھنڈے کیپ لگائے ہوئے حلف اٹھا رہا ہے) ان حالات میں موجودہ (مسلط کردہ حکومت) سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں جنہوں نے اسٹریجک معاملات کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے خصوصاً نیشنل کمانڈ اتھارٹی جس کے باعث خاکم بدھن پاکستان کی بقاءکو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان تمام تلخ حقائق کے باوجود اگر نام نہاد دانش ور یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور حالات آگے چل کر نارمل ہو جائیں گے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔ اللہ کرے کہ حالات ایسے ہی ہو جائیں جیسے یہ تصور کررہے ہیں مگر بقول اقبال
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مناجات
تو پھر تازہ ترین یہ ہے کہ چین سے لئے ہوئے 3.1 بلین ڈالر جو اسٹیٹ بینک میں غیر ملکی ذخائر آئی ایم ایف کو دکھانے کے لئے لئے گئے تھے اس ماہ ان میں سے ایک بلین ڈالر واپس کرنے ہے اسے موخر کرنے کے لئے اور وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے چین کے دورے کی درخواست کا چین نے کوئی جواب نہیں دیا۔
آئی ایم ایف کا وفد پاکستان آنے والا تھا اب اس نے کہا کہ وہ پاکستان نہیں بلکہ دوحہ میں مذاکرات کرے گا مگر اس سے قبل ساری سبسیڈیز ختم کرنا ہوں گے سو مہنگائی میں کئی سو فیصد اضافہ متوقع ہے ورنہ ٹائیں ٹائیں فش۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں