Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 64

شہر اور گاﺅں

کبھی کہا نا کسی سے تیسرے فسانے کو نا جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو۔ یہ بہت پرانا شعر ہے اس دور میں ذرائع روابط اتنے وسیع نا تھے جو اب ہیں پھر بھی ایک فسانے کی خبر سارے زمانے کو ہو جاتی تھی۔ زمانہ ترقی کرتا جارہا ہے اسی طرح ذرائع ابلاغ بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ رابطے بھی بڑھ رہے ہیں، ذرا سی خبر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لمحوں میں پہنچ رہی ہے، رابطوں کا یہ سلسلہ شہروں میں تو بہت زیادہ ہے لیکن گاﺅں دیہات میں کم ہے۔ ویسے بھی ہمارے ملک کی بہت سے دیہات تو بنیادی ضروریات سے ہی محروم ہیں لیکن اس کے باوجود کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ کئی چیزوں سے محروم ہیں وہ لوگ خوش و خرم ہیں انہیں بے شمار چیزوں کی محرومی کا احساس بھی نہیں ہے کیوں کہ اس کے متبادل ان کے پاس خوش رہنے کے لئے کچھ ایسی چیزیں ہیں جس سے شہر کے مصروف باسی محروم ہیں۔
دیہات کے لوگ خوش و خرم اور سکون کی زندگی گزارتے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آسائشوں میں جتنا اضافہ ہوتا جا رہا ہے، زندگی میں بے سکونی بھی بڑھتی جارہی ہے، کافی عرصہ پہلے میری ملاقات ایک دیہاتی جوڑے سے ہوئی، وہ لوگ کراچی گھومنے آئے ہوئے تھے، ان کا تعلق ایک چھوٹے سے دیہات سے تھا، باتوں کے دوران معلوم ہوا کہ ان کے گھر میں ٹیلی ویژن بھی نہیں ہے، مجھے بڑی حیرت ہوئی اور میں نے کہا کمال ہے بغیر ٹی وی کے آپ کیسے زندگی گزارتے ہیں، انہوں نے خالص دیہاتی لہجے میں بڑے سکون سے جواب دیا، بھائی جان کیا ٹی وی جسم کا کوئی حصہ ہے کہ اس کے بغیر زندگی نہیں گزاری جا سکتی یا کہ آکسیجن ہے جو کہ زندگی کے لئے ضروری ہے، ارے بھائی یہاں لوگ پتہ نہیں کیسے سارا سارا دن ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، ہماری شامیں ہمارے خاندان، ہمارے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر قصے کہانیاں قہقہے لگاتے ہوئے مزے مزے کی چیزیں کھاتے ہوئے اور باتیں کرتے گزرتی ہیں۔ آپ تصور نہیں کر سکتے جو سکون اور خوشی ہمیں ملتی ہے اور میں نے سوچا بے شک جہاں محبت ہو وہاں مفلسی کا احساس ماند پڑ جاتا ہے اور جہاں آسائشوں کی بھرمار ہو وہاں محبتوں کا احساس ماند پڑ جاتا ہے، وہ گھر جنت سے کم نہیں جہاں مفلسی ہو یا امارت لیکن محبت کا درخت ضرور ہو، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ شہروں کی اونچی اونچی عمارات میں کہاں جو پیار اب بھی گاﺅں کی انگنائیوں میں ہے، گاﺅں کی انگنائی محبت کا گہوارہ ہوتا ہے اس انگنائی میں ایک طرف درخت کی ٹہن سے جھولا لٹک رہا ہوتا ہے تو ایک طرف مٹی کے چند گھڑے رکھے ہوتے ہیں جن میں ٹھنڈا ٹھنڈا پانی بھرا ہوتا ہے، کہیں دہی سے مکھن بنانے کا سامان رکھا ہوتا ہے، چھپر تلے مٹی کا چولہا ہوتا ہے، جن میں لکڑی یا اپلوں سے آگ دہک رہی ہوتی ہے، کھانا پک رہا ہوتا ہے اور روٹیاں تھوپی جاتی ہیں، ایک طرف چار پائیاں پڑی ہوتی ہیں یا بڑا سا تخت جس پر سب مل بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، شام کو یہیں پر پنچائیت جمتی ہے، گھر کے افراد یا پڑوسی محلے دار سب یہاں بیٹھ کر خوب ہنسی مذاق قہقہے لگاتے ہیں۔ حقوں کی گڑگراہٹ اور قہقہوں کی آوازیں سماءباندھ دیتی ہیں۔ گاﺅں کی صبح بڑی خوبصورت ہوتی ہے، جب تمام کسان کام پر جا رہے ہوتے ہیں، عورتیں کھانا باندھ کر ساتھ کرتی ہیں، مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی بہت محنت کش ہوتی ہیں اور کھیتوں میں مردوں کا ہاتھ بھی بٹاتی ہیں، دوپہر کڑی دھوپ میں مختلف گھنے درختوں کے سائے میں سستانے کے لئے بیٹھے ہوئے گپیں ہانکتے اور ہنسی مذاق کرتے ہوئے لوگ مٹی میں کھیلتے ہوئے بچے درختوں کی ٹہنیوں سے لٹکے ہوئے جھولوں سے جھولا جھولتی کمسن لڑکیاں، پگڈنڈی پر منچلا گیت سناتا ہوا نوجوان سائیکل سوار غرض سب کچھ وہی ہے کچھ بھی تو نہیں بدلا سب سے بڑی بات کہ ابھی محبتیں باقی ہیں۔
میں ان میاں بیوی کے چہروں کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں بہت سکون و اطمینان تھا، چہرے پر فکر اور پریشانی کی ایک بھی لکیر نہیں تھی، وہ کہنے لگا ہماری گاﺅں کی زندگی بے مقصد نہیں ہے۔ ہم اس ملک کی معیشت کا ایک حصہ ہیں، ہم اناج اگاتے ہیں جو اس ملک کے کروڑوں لوگوں کی غذا بننے کے علاوہ ملک سے باہر جاتا ہے اور ہمارے ملک میں زرمبادلہ آتا ہے، میں نے سوچا بے شک یہ شخص صحیح کہہ رہا ہے اس کی زندگی اس کا کام ایک تعمیر ہے ایک مقصد سے کم نہیں ہے۔ یہ اس ملک کی ترقی اور خوش حالی میں ایک اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اس بے مقصد آدمی سے ہزار درجے بہتر ہے جو حکومتی اداروں میں بیٹھ کر رشوت لے کر ہر ناجائز کام کررہا ہے اور ملک کی جڑیں کھود رہا ہے اس رشوت خور کے مکروہ چہرے پر بے سکونی ہے، وحشت ہے اور پریشانی کی لکیریں ہیں جب کہ اس دیہاتی کے چہرے پر پاکیزگی ہے، سکون ہے اور یہ صحت مند ہے، یہ نسل در نسل ہاری یا کسان ہیں ان کے آباﺅ اجداد بھی ان ہی کی طرح تھے، ان کی زندگیوں میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی، نا ہی ان کی آمدنی میں اتنا اضافہ ہوا کہ مہنگائی کو شکست دے سکیں۔ ہاں ان سے کام لینے والے زمیندار ارب اور کھرب پتی بن چکے ہیں اور سیاست میں کروڑوں لٹانے کے بعد جو کہ ان ہی ہاریوں کے خون اور پسینے سے ان کو ملتا ہے ان کو کچھ بھی نہیں دیتے۔ صدیوں سے ان غریبوں کے آباﺅاجداد گیہوں، چاول اور مختلف چیزوں کی کاشت کرتے چلے آرہے ہیں، گیہوں دنیا میں سب سے زیادہ اگنے والے اناج میں تیسرے نمبرپر ہے۔ پہلے نمبر پر مکئی، دوسرے پر چاول اور پھر گیہوں جو ہماری غذا کا اہم جز ہے۔ اس سے روٹیاں، بسکٹ، دلیہ، پاستہ، نوڈل اور بے شمار کھانے کی چیزیں بنائی جاتی ہیں، کبھی ہم نے سوچا کہ کھانے کی ٹیبل پر جو روٹیاں، چاول اور دوسرے اناج کی چیزیں رکھی ہیں ان کو اگانے میں کتنے اور کس کس نے پاپڑ بیلے ہیں، یہ وہی ہاری ہیں جو گاﺅں اور دیہات میں رہتے ہیں اور شہروں میں جاہل اجڈ اور گنوار کہلاتے ہیں۔ جن علاقوں میں گیہوں، سبزیوں اور پھلوں کی کاشت ہوتی ہے، بڑے بڑے کھیت اور باغات ہوتے ہیں اس کے آس پاس زرعاعت پیشہ لوگ سکونت اختیار کر لیتے ہیں اور وہ علاقہ ایک گاﺅں کی صورت اختیار کر لیتا ہے لیکن بہت سے گاﺅں صدیوں سے آباد ہیں یہاں بڑی بڑی زمینوں پر گیہوں اگایا جاتا ہے۔ زمینوں کے مالک زیادہ تر شہروں میں رہتے ہیں لیکن اپنی زمین والوں کے بادشاہ ہوتے ہیں جب کہ اس سارے گیہوں کی پیداوار کا دارومدار ان غریب ہاریوں پر ہے۔
عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے جو کہ حقیقت بھی ہے کہ گاﺅں اور دیہات کے لوگوں پر جاگیرداروں، وڈیروں کا بہت اثر ہوتا ہے ان کی مرضی کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتے یہاں تک کہ اپنی مرضی سے کسی کو ووٹ بھی نہیں دے سکتے شاید اس ہی وجہ سے یہ لوگ سیاسی بے شعور کہلاتے ہیں لیکن ذرا حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ لوگ مجبور ہیں اگر وہ جاگیردار، زمیندار وڈیرے کی مرضی کے بغیر کسی اور کا ساھ دیں تو وہ لوگ ان زمینوں سے نکالے جائیں گے بلکہ ان کو اپنی جانوں کے لالے پڑ جائیں گے۔ ان کوکسی اور علاقے میں یا شہر میں کون پناہ دے گا وہ اپنے پرانے ٹھکانے کو نہیں چھوڑ سکتے، اپنے بیوی، بچوں کو دربدر نہیں کر سکتے نا اپنے خاندان کو خطرات میں ڈال سکتے ہیں جس ملک میں غریب کو انصا یسر نا ہو وہاں ایسا ہی ہوتا ہے لہذا ان کو وہی کرنا پڑتا ہے جو ان کے آباﺅ اجداد کرتے چلے آئے ہیں۔ اپنے چوہدری، سائیں اور خان کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے رہنا ہے ورنہ ان ہاتھوں کو کٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا شاید یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے علاقوں کے شاہوں اور زمینداروں کو پی ٹی آئی میں شامل کرنا پڑا۔ اس معاملے میں شہری لوگ آزاد ہیں وہ ووٹ دیتے وقت اپنا ذاتی فائدہ زیادہ دیکھتے ہیں، کسی کو کوئی پرمٹ چاہئے، کسی کو کوئی کاروباری لائسنس تو کوئی ٹھیکوں کا خواہش مند ہے، کوئی نوکری یا ترقی کا خواب دیکھ رہا ہے۔ غرض ہر طرح کی لالچ کو سیاسی شعور کا نام دیا گیا ہے جب کہ گاﺅں کے لوگوں کی سادہ لوحی دیکھئے کہ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کا ٹھکانہ اور مزدوری محفوظ رہے اس ہی وجہ سے وہ اپنے زمیندار اور وڈیرے کی بات سنتے ہیں اور اس ہی کو اپنا ناخدا بھی مانتے ہیں۔ یہ سلسلہ ہمیشہ سے اور نسل در نسل چلا آرہا ہے اور یہ اسی طرح غربت کی زندگی میں خوش ہیں یہ ہمارے ملک کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں، دوسرے ممالک میں ان کسانوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں کھیتوں میں کام کرنے والے غیر ملکی مزدوروں کو گرین کارڈ دیئے گئے جو کہ دوسرے ممالک خاص طور پر میکسیکو سے آکر غیر قانونی طور پر رہ رہے تھے اور کھیتوں میں کام کررہے تھے۔ ان ہی لوگوں کے طفیل ہمارے ملک کے بے شمار لوگوں کو گرین کارڈ ملے جنہوں نے کبھی کھیت کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی لیکن جعلی دستاویزات میں کھیتوں میں کام کرنے کا سرٹیفکیٹ دے کر گرین کارڈ حاصل کرلئے۔
ہمارے ملک میں ان کھیتوں میں کام کرنے والوں سے بہت محنت کرائی جاتی ہے اور معاوضہ بہت قلیل ہوتا ہے۔ زمیندار اور ان کے بچے دولت میں کھیل رہے ہیں اور مزدور بے چارے کے بچوں کو پورے کپڑے بھی میسر نہیں ہیں۔ حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتی کیوں کہ حکومتیں بھی ان زمین داروں کے پاس ہوتی ہیں، ہمارے یہاں گاﺅں کے لوگ جاہل اجڈ اور گنوار کہلاتے ہیں۔ انہیں بدتہذیب کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ زور زور سے بولتے ہیں، صاف اور کھری بات منہ پر کہہ دیتے ہیں، لباس میں سلیقہ نہیں، ہر بات میں سادگی، کھانے میں بھی چمچ کانٹے کا استعمال نہیں کرتے جب کہ ڈنر سوٹ میں ملبوس ڈائننگ ٹیبل پر چھری کانٹا لئے ہوئے دھیمی آواز میں گفتگو کرتا ہوا بے ایمان دھوکے باز جھوٹا فراڈیا فریبی رشوت خور بدکردار شخص تہذیب یافتہ کہلاتا ہے یعنی سیدھا سادا کھرا اور سچا غریب دیہاتی بدتہذیب اور دھیما چمک دمک والا شاندار جھوٹا اور امیر بے ایمان تہذیب یافتہ خواب مذاق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں