Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 206

عجب سر زمین

بدعنوانی کی آبیاری میں عوام کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ بدعنوانی کا بیج حکومتی ایوانوں میں ہی بویا جاتا ہے اور عوام پر اس کی خرابیوں سے زیادہ اس کے فوائد کا اثر ہوتا ہے۔ انفرادی فائدے کا لالچ اجتماعی اور ملکی نقصانات پر غالب آجاتا ہے اور عوام اس بیج سے نکلنے والے پودے کو تناور درخت بنادیتے ہیں آج پاکستان کے بڑے بڑے ادارے دیکھ لیں۔انکم ٹیکس،ایکسائز،کسٹم ،امیگریشن ، قانون نافذ کرنے والے ادارے ،ان کے علاوہ بھی بہت سے ادارے ہیں اور ملک کی معیشت کا دارومدار ان اداروں پر بھی ہے۔ان اداروں کے آفس پورے ملک میں پہلے ہوئے ہیں اور پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصّہ کسی نا کسی طور ان اداروں سے منسلک ہے۔ملک کا بچّہ بچّہ جانتا ہے کہ ان اداروں میں بد عنوانی کتنے عروج پر ہے۔شائید کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہوں کہ نہیں نہیں عملے کے سارے لوگ بد عنوان نہیں ہوتے ۔مانتا ہوں اور جانتا بھی ہوں کہ ایسا ہے لیکن آٹے میں نمک کے برابر ان اداروں میں اگر کوئی شخص رشوت نہیں لیتا تو بہت بڑا بے وقوف سمجھا جاتا ہے اس کا سوشل بائیکاٹ ہوتا ہے اور ساتھ کام کرنے والے نا اس سے دوستی رکھنا پسند کرتے ہیں اور نا ہی اس کے ساتھ کسی بھی معاملے میں تعاون کرتے ہیں۔بلکہ اس کو تنگ کرنے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑتے یہ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔بد قسمتی سے پاکستان میں بدعنوانی کا درخت اتنا تناور بن چکا ہے اور اس کی جڑیں اتنی دور تک پھیل چکی ہیں کہ اس کا کاٹنا فی الحال مشکل نظر آرہا ہے۔عوام کی ایک بڑی تعداد کو حرام منہ لگا ہوا ہے آسانی سے ہاتھ آجانے والی دولت کو کھونا نہیں چاہتے لہذا وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بد عنوان حکومت ہونا چا ہئے تاکہ ان کو کھل کر بدعنوانی کا موقع مل سکے۔ایک شخص باہر سے اعلی’ تعلیم حاصل کرکے آیا خواہش تھی کہ اپنے ملک میں رہ کر کام کیا جائے جب اسے انکم ٹیکس محکمے کا سربراہ بنایا گیا تو بہت خوش ہوا کہ اپنے ملک میں رہ کر ملک کی خدمت کرسکے گا آدمی بہت ایمان دار تھا۔لیکن چند دنوں میں ہی اسے پسینے
آگئے۔عملے اور کاروباری حضرات کی طرف سے تحفے تحائف کی بھرمار اور بدلے میں ناجائز کام میں تعاون کا مطالبہ بہت پریشان ہوئے لیکن تمام عملے کو سختی سے منع کردیا کہ کوئی ناجائز کام نہیں ہوگا۔ آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا تھا۔فائلوں کے گرد میں اٹے ہوئے ڈھیر کسی کو کوئی ریکارڈ دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔فائل بنائی اور ڈھیر میں پھینک دی تمام کام زبانی اور نوٹ والے کاغذات پر ہورہا تھا ۔زیادہ تر کاروباری افراد ٹیکس کی چوری میں ملوّث تھے ۔پورا نظام بڑے سکون اور منظّم طریقے سے چل رہا تھا۔محکمے کےزیادہ ترافسران اور عملے کی جیب میں لگے بندھے پیسے آجاتے تھے اور کاروباری حضرات اصل ٹیکس میں سے بیس پچیس فیصد ہی دیتے تھے باقی سب کاغذات کی ہیر پھیر میں ان کی جیب میں اور کچھ عملے کی جیب میں آجاتے تھے۔سپروائزر مارکیٹ میں جاتا تھا ایک سونف الائچی کا پان اور ایک گولڈ لیف کا سگریٹ اور وہاں اسٹور مالکان اور دوسرے کاروبار کرنے والوں سے وصولی اور سب کا کام ہوگیا سب خوش ملک کو کیا نقصان پہونچا کسی کو پرواہ نہیں۔زندگی میں سکون ہی سکون تھا اور پھر اچانک محکمے میں اس سربراہ کے آنے سے بھونچال آگیا ہر شخص سوچ رہا ہے عجب احمق آدمی ہے نا خود پیسہ بنارہا ہے نا کسی اور کو بنانے دے رہا ہے۔سارا نظام درہم برہم کردیا۔لوگ اس کے خلاف باتیں کرنے لگے محکمے کے وہ افراد جو ایک دوسرے کو برا بھلا اپنے آپ کو ایمان دار اور دوسروں پر رشوت لینے کا الزام لگاتے تھے سب متّحد ہوگئے۔بلکہ سربراہ کے خلاف اس اتّحاد میں ان کاروباری حضرات کو بھی شامل کرلیا جو اس سے متاثّر ہوئے تھے۔محکمے میں لوگوں نے احتجاجا” کام سست کردیا دوسری طرف بد عنوان اسٹور مالکان نے اسٹو ر بند کرنے شروع کردئے۔
سربراہ کے لئے بڑا مشکل مرحلہ تھا ان سب نے اتّحاد کرکے ایک پارٹی بنالی پاکستان ڈکیت اتّحاد اور سربراہ اور اس کے آدمیوں پر ہی الزامات لگانا شروع کردئے بلکہ ان چور کاروباری افراد کو ثبوت کے طور پر آگے کردیا کہ سربراہ اور اس کے آدمیوں نے ان سے رشوت مانگی ہے۔سربراہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ سب چھوڑ چھاڑ کر باہر چلا جائے یا ان کا مقابلہ کرے۔ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ محکمے کے افراد کی ایک بڑی تعداد کرپشن میں ملوّث تھی ان سب کے خلاف کارروائی کرکے باہر نکالنے کا مطلب پورے محکمے کو زمین بوس کردینا تھا جو کہ نا ممکن تھا۔ بالکل یہی صورت حال آج کل پاکستان میں عمران خان کو در پیش ہے ۔وہ حکومت میں آنے سے پہلے ہی یہ عزم کرچکے تھے کہ بدعنوان لوگوں کو نہیں چھوڑا جائے گا لیکن جب وہ حکومت میں آئے تو ان کو بھی صورت حال دیکھ کر پسینے آگئے جب ان کو معلوم ہوا کہ آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے اور اس کرپشن کی جڑیں اتنی دور دور تک اور ایسے ایسے گھروں تک پھیلی ہوئی ہیں کہ ان کو کاٹنا اتنا آسان نہیں ہے اس کرپشن میں ایسے ایسے لوگ ملوّث ہیں کہ اگر ان سب کے خلاف کارروائی کی گئی تو ملک کی بنیادیں ہل جائیں گی۔لیکن انہوں نے پھر بھی ان لوگوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جو چور سیاست دان تھے اور جب ان لوگوں نے دیکھا کہ آہستہ آہستہ گھیرا تنگ ہورہا ہے تو انہوں نے گھبراکر اتّحاد کرلیا جب کہ پہلے یہ سب ایک دوسرے کے دشمن تھے۔یہ اتّحاد بھی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے۔اور ان کی دشمنیاں ہر اتّحاد کے بعد عروج پر ہوتی ہیں۔تمام قوم حالات جانتی ہے اور لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ نواز اور شہباز شریف نے زرداری کے بارے میں اور زرداری نے ان لوگوں کے بارے میں کیا کیا کہا ہے ایک
دوسرے پر ملک کی دولت لوٹنے کا الزام جائیدادیں بنانے کا الزام سب کچھ کرنے کے بعد یہ اتّحاد مضحکہ خیز ہے۔لنکے ان تمام چور سیاست دانوں کو یہ بھی علم ہے کہ قوم کی ایک بڑی تعداد دماغ سے خالی ہے اور وہ ان کی مکّارانہ باتوں میں آجائیں گے۔ان اتّحادیوں کے جو کرتوت ہیں اس حساب سے اگر یہ لوگ کسی اور ملک میں ہوتے تو جلسوں میں ان پر ٹماٹر اور پتھّر پھینکے جاتے۔اور دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ جو لوگ ان کے جلسوں میں جارہے ہیں ان کے ساتھ نعرے بازی کررہے ہیں وہ خود کرپٹ ہیں اور چھوٹی چھوٹی چوریاں کرنے کے لئے کوئی مکّار حکومت کے ہی متلاشی ہیں۔ایک طرف تو یہ کہا جارہا ہے کہ عمران خان سیلیکٹڈ ہے اصل حکومت تو فوج کے ہاتھ میں ہے تمام فیصلے فوج کے ہوتے ہیں عمران خان تو کٹھ پتلی ہے۔دوسری طرف قوم کو یہ بتایا جارہا ہے کہ عمران خان نا تجربہ کار ہے اور اس کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک کو نقصان پہونچ رہا ہے اب ان سے کوئی یہ پوچھنے والا نہیں ہے کہ جب حکومت فوج کی ہے تمام فیصلے فوج کے ہوتے ہیں عمران خان کٹھ پتلی ہے تو اس کے تجربہ کار اور نا تجربہ کاری سے کیا فرق پڑتا ہے جب تمام فیصلے فوج کے ہاتھوں میں ہیں تو ملک کو عمران خان سے کیسے نقصان پہونچ رہا ہے۔اور جہاں تک تجربہ کی بات ہے تو مریم صفدر کو صرف نانی بننے کا تجربہ ہے سیاست میں ان کا کیا تجربہ ہے۔اسی طرح بلاول بھی زرداری کی انگلی پکڑے چل رہے ہیں۔ان کے پیچھے چلنے والے بالکل انکم ٹیکس عملے کے وہ افراد ہیں جو حرام کی کمائی رک جانے سے پریشان ہیں جو لوگ اس اتّحاد کے پیچھے چل رہے ہیں بلاشبہ وہ خود کرپٹ ہیں جو نہیں چاہتے کہ ان کی حرام کمائی میں رکاوٹ ہو چاہے ملک کا کچھ بھی حشر ہو۔جو لوگ پاکستان اور اس کے عوام کے ساتھ مخلص ہیں اور پوری ایمان داری سے پاکستان کے ساتھ بھلا چاہتے ہیں اللہ تعالی’ ان کی مدد فرمائے اور جو لوگ ملک وقوم کو دھوکا دے رہے ہیں صرف اپنے مفاد کے لئے لڑ رہے ہیں اللہ تعالی’ ان کو تباہ و برباد کردے چاہے کوئی بھی ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں