Muhammad Nadeem Columnist and Chief Editor at Times Chicago and Toronto 612

عدلیہ اور فوج کا گٹھ جوڑ

جس انداز سے سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے احتسابی عمل کا آغاز کیا تھا اور آج تک جو جارحانہ انداز محترم ثاقب نثار نے اپنایا ہے یہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ عدلیہ کے پیچھے فوج کی مکمل سپورٹ ہے وگرنہ یہ مسلم لیگی جیالوں کی شان کے خلاف ہے کہ اس قدر صبر و برداشت سے کام لیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اپنے خلاف ہونے والے ایک فیصلے کے نتیجہ میں یہی مسلم لیگ نواز کے جیالے تھے جنہوں نے سپریم کورٹ پر دھاوا بولا تھا اور سپریم کورٹ کے تقدس کی دھجیاں بکھیر دی تھیں۔ بعدازاں یہی محترم نواز شریف تھے جنہوں نے وزارت عظمیٰ چھن جانے کے بعد سے ایسا کیا ہے جو نہیں کہا؟ نہ صرف نواز شریف بلکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز کی زبان تو تلخ سے تلخ ترین ہوتی چلی جارہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے دیگر قائدین آج بھی نواز شریف کو اپنا وزیر اعظم مانتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی آج بھی مسند وزارت عظمیٰ پر اس انداز میں بیٹھتے ہیں کہ جیسے نواز شریف کی دوبارہ آمد کے منتظر ہوں۔ مسلم لیگ نواز اپنے سابقہ دور سے زیادہ طاقتور ہے۔ وزارت عظمیٰ ان کی، حکومت ان کی، پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ میں وزیر اعلیٰ ان کا، مگر ”چور مچائے شور“ کے مصداق جلسے جلوسوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ منہ کالے ہونے شروع ہو گئے اور جوتوں سے تواضع شروع ہوگئی۔ دراصل چند ضمنی انتخابات پر کامیابی سے غلط فہمی ہونا لازمی امر تھا اور وہی ہوا کہ محترمہ مریم نواز Overconfident ہو گئیں اور یوں سپریم کورٹ اور فوج کے خلاف زہر افشانی شروع کردی۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ موجودہ صورتحال انہیں بند گلی میں لے جائے گی۔ یہی وجہ تھی کہ چوہدری نثار علی خان جیسا جانثار بھی پارٹی چھوڑ گیا اور فوج سے لڑنے والے یہ بھول گئے کہ وہ خود ضیاءالحق کی باقیات ہیں۔ کسی نے درست کہا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے۔ یوں آصف علی زرداری اور عمران خان نے مسلم لیگ نواز کو حکومت میں ہونے کے باوجود دھوبی پٹکا دے مارا۔ اس بار مولانا فضل الرحمن عرف منافق اعظم کی سیاست بھی ناکام ہوگئی۔ عمران خان کی طرح آصف علی زرداری نے بھی مصلحتاً فرشتوں سے ہاتھ ملا لیا اور یوں مسلم لیگ نواز کو دیوار سے لگانے میں کامیاب ہوگئے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ صوبہ بلوچستان سے ایوان بالا کا چیئرمین منتخب ہوا ہے، یہ الگ بحث ہے کہ وہ کتنا بلوچ ہے اور بلوچستان کی احساس محرومی کو کم کرنے میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟ یا بلوچوں کی تحریک آزادی کو ختم کرکے کس طرح انہیں قومی دھارے میں دوبارہ شامل کرسکے گا؟ بلوچستان میں گاجر مولی کی طرح کاٹے گئے بلوچ نوجوانوں اور Missing Persons کو واپس لانے میں کیا اقدامات کرے گا؟ بظاہر تو کچھ ایسا دکھائی نہیں دیتا مگر یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ موجودہ اپوزیشن اتحاد آئندہ جنرل الیکشن میں مسلم لیگ نواز کے لئے بہت بڑا چیلنج ثابت ہو گا کیونکہ یہ اتحاد اپنے پیچھے فوج اور عدلیہ گٹھ جوڑ رکھتا ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ گزشتہ کور کمانڈر میٹنگ میں ہمارے آرمی چیف نے واضح طور پر کہا ہے کہ بلاتفریق تمام کرپٹ افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اگر ایسا ہے تو پھر خیریت اپوزیشن کی بھی نہیں بس وقت کا انتظار کیجئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں