اقبال لطیف کا تجزیہ 76

”عزت مآب“ ٹھگ

سوال یہ ہے کہ پاکستانی عوام غریب کیوں ہیں؟ اس وقت ساٹھ فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس کی وجہ جاننا کوئی معمہ نہیں ہے، کوئی راز نہیں ہے اس کی وجہ وہ ڈاکو اور لٹیرے ہیں جو ملک کو لوٹ کر کھا گئے ہیں اور آج بھی یہ قومی لٹیرے دندناتے پھر رہے ہیں اور حکمرانی کے پھر خواب دیکھ رہے ہیں جو موجودہ حالات ایک بار پھر ملک پر حکمرانی کریں گے اور ایک بار اسے لوٹ کر عوام کو 60 فیصد سے بڑھا کر 90 فیصد کردیں گے۔ ایک ٹولہ ایک ایسی برادری بن چکا ہے جو ایوان ہائے اقتدار، اسمبلیوں، عدالتوں، انتظامیہ اور سیاستدانوں کے حلقوق پر مبنی ہے اور ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے اور ایسے ذرائع پیدا کرتا ہے کہ اندھا قانون انہیں دودھ سے نہلا کر پاک صاف کردے اور احمق لوگ تصور کریں کہ یہی ہمارے نجات دھندہ ہیں اور انہیں کاندھوں پر بٹھا کر راج سنگھاسن پر بٹھا دیں اور ان کی پوجا کرنے لگیں اس کی ایک مثال ایڈمرل منصور الحق ہے جو کہ پاکستان بحریہ کا سربراہ تھا یہ تقریباً چھ ماہ اس عہدہ پر براجمان رہا اور اس عرصے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اسے اربوں روپیہ کی رقم کو لوٹا اسے اس سے بڑے ڈاکو نواز شریف نے اس کے عہدے سے ہٹایا کہ ”کتنے کا ویری کتا ہوتا ہے“ اس کے خلاف جب تفتیش کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ ملک سے فرار ہو گیا اور امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں انتہائی پرتعیش زندگی گزارنے لگا ادھر پاکستان میں اس کے خلاف تفتیش کا سلسلہ جاری رہا جہاں جنرل پرویز مشرف نے اس کا کیس نیب کے حوالے کر دیا ادھر امریکہ میں اینٹی کرپشن کا ایک قانون منظور ہوا کہ کوئی سیاستدان، بیوروکریٹ یا بزنس مین اگر اپنے ملک میں بدعنوانی کرکے لوٹ مار کر کے اگر امریکہ آجائے تو اسے گرفتار کرکے گو کہ اس نے پناہ لے لی ہو گرفتار کرکے امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے اس قانون کا سہارا لے کر نیب نے امریکی حکومت کو خط تحریر کیا کہ ایڈمرل منصور الحق نے کیا کیا بدعنوانیاں کی ہیں۔ لہذا اسے امریکہ میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا جہاں وہ قیدیوں کے لباس میں قیدیوں والا کھانا کھاتا، قیدیوں والے سلیپر پہنچتا اور ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں مقید رہتا۔ اسے ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا جاتا، ایڈمرل منور الحق یہ نازیوں والا سلوک برداشت نہ کر سکا اور امریکی حکومت کو لکھا کہ اسے حکومت پاکستان کے حوالے کردیا جائے جہاں وہ عدالتوں کا سامنا کرنے کو تیا رہے اسے علم تھا کہ پاکستانی عدالتیں کس طرح انصاف کے پلڑوں کو دولت مندوں کے حق میں جھکانے میں اپنی مثال آپ ہیں یہ زر خرید جج جو سیاست دانوں کے کاندھوں پر بیٹھ کر ایوان انصاف میں بیٹھتے ہیں اور پھر ساری زندگی ان کے وفادار رہتے ہیں۔ امریکی جج نے اس کی درخواست منظور کرلی جس کے بعد منصور الحق ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا جہاز میں لایا گیا اور ہتھکڑی کو اس کی نشست کے ساتھ تالا لگا کر اسے عازم پاکستان کیا اور جیسے ہی جہاز پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا اس کی ہتھکڑی کھول دی گئی اور ائیر اپورٹ پر اسے وی آئی پی لاﺅنچ میں لایا گیا، نیوی کی ایک انتہائی پرتعیش کار اس کی خدمت کے لئے حاضر تھی جہاں اسے نیوی اور نیب کے اعلیٰ افسران نے سلامی پیش کی اور جہاں سے اسے سہالا لایا گیا اور اعلیٰ افسران کے ریسٹ ہاﺅس میں جسے سب جیل قرار دیدیا گیا تھا اس معزز ”مجرم“ کو ٹھہرایا گیا جہاں جو مکمل ایئرکنڈیشنر تھا، خصوصی خانساماں اس کی خدمت کے لئے حاضر تھے اور اس کا خاندان کو اجازت تھی کہ وہ بلاتکلف جب چاہیں وہاں تشریف لائیں، جو وہاں پر فضا لان میں اس کے ساتھ چہل قدمی کریں وہ کبھی بھی نیب یا ایف آئی کے افسران کے سامنے پیش نہیں ہوا بلکہ وہ ریسٹ ہاﺅس آکر اس سے انتہائی مودبانہ انداز میں پوچھ گچھ کرتے حتیٰ کہ عدالت میں بہ نفس نفیس وہاں آکر معزز ”ملزم“ اس کے مزاج پوچھتی۔
منصور الحق نے عدالت کو پیش کش کی کہ بدعنوانیوں سے لوٹی رقم کا زیرو فیصد ادا کرے گا اور صدر مشرف نے بصد مہربانی اپنے پیٹی بھائی کی فراخدلانہ پیش کش منظو ر کرلی اور اس طرح منصور الحق بغیر ایک پیسہ دیئے رہا ہو گئے۔ اس کی ملکیت میں انتہائی قیمتی پلاٹس بھی تھے جو اس کے ہی قبضے میں رہے جس کے بعد اسے اس کے گھر منتقل کردیا گیا اور تعیشانہ زندگی بسر کرنے لگا۔ گالف کلب میں اعلیٰ فوجی اور سول افسران کے ساتھ گالف کھیلتا اور گپیں لگاتا۔ وہ عوامی تقریبات، شادی بیاہ کی تقریبات میں شرکت کرتا اور اسے نیوی چیف کا پروٹول دیا جاتا۔
اندازہ لگائیے پاکستانی لٹیرا امریکہ میں بھی ایک مجرم کی حیثیت سے جیل میں قید رہا مگر جس ملک کو اس نے اربوں کھربوں کا نقصان پہنچایا وہاں اس کو انتہائی شاہانہ انداز سے زندگی گزارنے کا موقعہ دیا گیا۔ اس کے بعد کی کہانی اور کچھ نہیں بلکہ عدالتوں کے جج، اعلیٰ فوجی اور سول حکام کی تفتیش ایک رسمی کارروائی رہ گئی اور وہ تمام سرکاری سہولتوں سے لطف اندوز ہوتا ہوا زندگی گزارنے لگا۔
اس کہانی کا ایک کردار تین دفعہ وزیر اعظم رہنے والی کا شوہر بھی اس گندے کھیل میں اس کا شریک جرم تھا اور جب کہ فرانس کا ایک صدر بھی اس سلسلے میں شریک تھا یہ معاملہ فرانسیسی آبدوزوں کی خرید میں کک بیک تھا جس میں ایڈمرل منصور الحق، آصف زرداری اور فرانسیسی صدر ملوث تھے۔ وزیر اعظم کا شوہر کو کوئی ہاتھ لگائے یہ کسی کی مجال تھی اس معاملہ کا علم اس کی بیوی کو بھی تھا۔ لہذا وہ نہ صرف صاف بچ گیا بلکہ اس کی بیوی کے قتل کے بعد جس کی طرف بھٹو کی پوتی فاطمہ کا کہنا ہے کہ جو اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ اپنی بیوی کا قاتل جب کہ کئی فوجی حکام کے جو ریٹائر ہو چکے ہیں نے ٹی وی پر کہا کہ بے نظیر کا قاتل اس کا شوہر ہے اور اگر موقعہ دیا جائے تو وہ ثآبت کر سکتے ہیں مگر وائے حسرتا وہ مشتبہ قاتل ملک کا صدر بنا اور پھر ایک بار حالات بتا رہے ہیں کہ وہ اقتدار کی مسند پر براجمان ہونے والا ہے مگر کافر ملک فرانس کا صدر جو اس معاملہ میں ملوث تھا کو سات سال کی قید ہوئی۔
فرق صاف ظاہر ہے، یہ ملک جہاں مجرم محترم ہوتے ہیں، ڈاکو صدر اور وزیر اعظم بنتے ہیں اس کا عوام اگر غربت لکیر کے ساتھ لٹکا ہوا ہے تو کون سی تعجب کی بات ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں