پھر سندھ کارڈ۔۔۔ 21

علم سے بے بہرہ

ان بدعقلوں نے اسلام کے سنہرے دور کا زوال جو عقلیت پر عقیدے کے فرق کو نہیں سمجھتا تھا یہی وجہ تھی ان کے تنگ دلانہ رویوں کے باعث نہ صرف پاکستان میں مقیم اقلیتوں کو برگشتہ کیا اور ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا بلکہ انہوں نے مسلمانوں میں اپنے اپنے نظریات کو اسلام کا رنگ دے کر تفرقہ بازی شروع کردی اور اس حد آگے چلے گئے کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دینے میں ذرا سی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ یہ عناصر جو کہ انسانی ترقی سے ذرا سی بھی واقفیت نہیں رکھتے جو کہ غیر مسلموں نے علم کی بنیاد پر حاصل کرکے اسے بنی نوع انسان کی فلاح کے لئے وقف کردیا۔ یہ لوگ ان چیزوں کو قبول کرنے کو گناہ کبیرہ سمجھتے تھے جنہیں خدا نے اپنے کلام بلاغت نظام کو کہا کہ اے لوگو تفکر کرو اور مسخر کرلو ان چیزوں کو خدا نے تمہارے لئے تخلیق کی ہیں خدا نے انسان کو حد کمال تک پہنچانے کے لئے اسے معراج کے درجے پر فائز کردیا اور بتا دیا ہے کہ علم کے زور پر انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔
اس راز کو اہل علم نے پا لیا اور اس کے ذریعے ایسے ایسے کمالات دکھائے کہ عقل دنگ رہ گئی، وہ آسمان میں نقب لگا کر چاند تک پہنچ گئے انہوں نے زمین میں پوشیدہ خزانے نکال کر انسانیت کو مالا مال کردیا وہ زمین میں پاتال تک پہنچنے کی سعدی کررہے ہیں وہ سمندر کی تہہ میں پہنچ کر اس کے راز افشاں کررہے ہیں انہوں نے بنی نوع انسان کے دُکھوں کا درماں تلاش کرلیا ہے مگر ہم کیا کررہے ہیں؟ ہم آج بھی اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ زمین گول ہے، ہم آج بھی اپنے بچوں کو بتا رہے ہیں کافر سائنسدان غلط کہتے ہیں، زمین چپٹی ہے اور ایک مچھلی کی پیٹھ پر رکھی ہوئی ہے۔ وہ اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ انسان چاند پر پہنچ چکا ہے بلکہ ایک خطبہ جمعہ میں سنا گیا کہ مولوی بتا رہا ہے کہ انسان کیسے چاند پر پہنچ سکتا ہے کیونکہ جب چاند ”سکڑے‘ گا تو گر نہیں جائیں گے؟ آج جب کہ دنیا آنے والے وقت میں سیاروں کو مسخر کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے ہم آج بھی اس بات پر بحث کررہے ہیں کہ شلوار ٹخنوں سے کتنی اوپر ہونی چاہئے۔ ہمارے یہاں جو یہ طبقہ آج انتہائی طاقتور ہو چکا ہے اس کی وجہ عوام کی لاعلمی اور تعلیم سے دوری ہے ان نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے مدرسوں اور مساجد کو مالی قوائد کے لئے استعمال کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے جہاں بچوں کے اذہان کو اس ذہریلے پروپیگنڈے سے آلودہ کیا جاتا ہے کہ تمہارے علاوہ سب کافر ہیں اور گردن زدنی ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ واجب القتل ہیں ان کے نزدیک نہ جانا، ان کی باتیں نہ سننا، ان سے گھلنا ملنا ممنوع، یہی بات اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ جب قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو کفار اپنے کان بند کر لیتے ہیں کہ کہیں حق ان تک نہ پہنچ جائے، آج بھی یہی رویہ ہے، یہی نہیں بلکہ اب معاملہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ بعض ممالک ان فقہی تفریق کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کے لئے اس کے عناصر نہ صرف حوصلہ افزائی کررہے ہیں بلکہ ان کی مالی معاونٹ کرکے اپنے عقائد کی ترویج کرارہے ہیں اب دنیا مسلمانوں کو مسلمان نہیں بلکہ سنی مسلمان اور شیعہ مسلمان کی تفریق سے دیکھ رہی ہے اور یہی نہیں بلکہ اب ہم بھی مسلمانوں کو مسلمان نہیں بلکہ وہابی، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ کے خانوں میں تقسیم کرچکے ہیں اور تمام شطرنج کے مہروں کی طرح بساط سیاست پر اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں۔ جب کہ ان نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے بعض مذہبی چوہدری اس ملک کی ہمیت کو محض اپنے مفادات اور اقتدار کے حصول کے لئے ملک کی سلامتی کو داﺅ پر لگا چکے ہیں ان کے نزدیک ان کا حلوہ مانڈہ قومی ملکی مفادات سے زیادہ ہے اور المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے تمام عمل کو مذہب کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کررہے ہیں۔ کفاد کی طرح اپنی فوج بنا کر ایک مذہبی عالم کی نہیں بلکہ ایک کافر کے لہجے میں دوبدو جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور صد افسوس جن سے امن و سلامتی کے پیغام کی توقع تھی وہ چنگیز خان کی زبان میں ”سروں کے مینار“ بنانے کی بات کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں