Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 91

عمران خان مسلمانوں کے رہبر۔۔۔

مسلمانوں کے قبلہ اوّل یعنی مسجد اقصیٰ کے معاملے میں سب سے زیادہ جماع اور پُر اثر آواز بلند کرنے اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دنیا کے سامنے اُجاگر کرنے کا غیر معمولی کارنامہ سر انجام دینے پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، عالم اسلام کے سب سے بڑے رہبر اور لیڈر کے طور پر ابھر کر عالم اسلام میں سامنے آگئے۔ یہ ان کی جرات اور موٹیویشن کا ہی نتیجہ ہے کہ کویت جیسے ایک چھوٹے اسلامی ملک کے وزیر خارجہ نے بھی اقوام متحدہ کے اجلاس میں اسرائیلی حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے اسرائیل کو فلسطینیوں کا قاتل قرار دے دیا۔ اسرائیل نے اپنی اس دُرگت کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے اپنی توپوں کا رُخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے اور اب اسرائیلی دفاع کے شعبہ نے پاکستان پر ایک جھوٹا من گھڑت اور بے بنیاد الزام لگایا ہے کہ حماس کا ہیڈ کوارٹر پاکستان میں ہے اور اپنے اس جھوٹے الزام کو ثابت کرنے کے لئے کسی ہسپتال کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں اور پاکستان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ حماس کے عسکریت پسندوں کو پاکستان میں ہی تربیت دی جارہی ہے جب کہ ان الزامات کی حکومت پاکستان نے سختی کے ساتھ تردید کی ہے کہ اسرائیل نے یہ بے پر کی اڑائی ہے اور ایک بے بنیاد الزام پاکستان پر پر لگایا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حماس کے تابڑ توڑ حملوں سے اسرائیلی حکومت بدحواسی کا شکار ہو گئی ہے اور عالمی دنیا میں انہیں اپنی ان ظالمانہ کارروائیوں کی وجہ سے بڑی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا
ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا والے ان کی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں جب کہ حماس سے اس بار پہلے کے مقابلے میں اسرائیل کا زیادہ جانی و مالی نقصان کیا ہے لیکن اس کے باوجود دنیا اسرائیل یعنی یہودیوں کی بات سننے کو تیار نہیں۔ اسرائیل کو پہلی بار اپنا ہمدردی کارڈ استعمال کرنے میں بہت ہی زیادہ دشواری اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کا سبب یہودی اور اسرائیل براہ راست یا بالواسطہ طور پر عمران خان کو ہی ٹھہراتے ہیں کیونکہ ان کے بیانات یا ٹوئیٹ کو مغربی میڈیا صرف من و عن لیتا ہے بلکہ آنکھ بند کرکے اس پر یقین بھی کرتا ہے اس وجہ سے عمران خان کا یہودیوں یا اسرائیل کے خلاف بولنے یا لکھنے والا ایک ایک لفظ ان کے لئے زہر قاتل کا کردار ادا کررہا ہے۔
عمران خان کے اقوام متحدہ میں کئے جانے والے تاریخی طویل ترین خطاب اور اس کے بعد ان کے کئے جانے والے لگاتار ٹوئیٹس نے بھارت کے ہندواتا کے امن کے آڑ میں کئے جانے والے دہشت گردانہ عمل کو اس بُری طرح سے بے نقاب کیا کہ آج مغربی دنیا بھارت کی بات سننے کو تیار ہی نہیں بلکہ بھارت کو دہشت گردی اور کشمیری عوام پر مظالم کے حوالے سے جانا اور پہچانا جاتا ہے ان صورتحال نے اب اسرائیلی پالیسی سازوں کی راتوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور انہیں عالم اسلام میں اب ترکی اور پاکستان دونوں بہت ہی بری طرح سے کھٹک رہے ہیں۔ اسرائیل نے اپنے کیمپ میں شامل اپنے دو وفادار ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے پاکستان کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کی مگر اس میں بھی انہیں ناکامی کا ہی سامنا کرنا پڑا اور اسرائیل اور اس کا سرپرست امریکہ کی یہ پوری کوشش ہے کہ وہ ترکی کو عالم اسلام سے کاٹ کرکے بالکل تنہا کردے اور اپنے اسی مقصد کے لئے وہ اس کی شروعات پاکستان سے کرنا چاہتا ہے وہ دراصل پاکستان اور ترکی کو ایک دوسرے کی مدد کرکے ایک اور ایک گیارہ بننے سے خائف ہیں جس کے لئے وہ ان دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمی پیدا کرکے ان میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس مقصد کے لئے پاکستان میں ترکی کے کسی بھی ڈپلومیٹ کے ساتھ ناخوش گوار واقعہ کروانے کی بھی کوشش کی جائے گی، کسی نہ کسی طرح سے ان کے تعلقات کو خراب کرنے کی کارروائی کی جارہی ہے، یہ تمام تر ہتھکنڈے کفار کی ناکامی کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اب ہاری ہوئی جنگ کو عیاری اور مکاری سے جیتنے کی کوشش کررہے ہیں۔
پاکستان حکومت کو مسجد اقصیٰ کے حالیہ واقعہ پر ردعمل ہر طرح سے قابل ستائش ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ بیانات اور دوسرے تمام تر اقدامات بھی قابل تعریف ہیں جس سے فلسطینیوں کا نہ صرف مقدمہ مزید مضبوط ہوا ہے بلکہ ساری دنیا کی توجہ ان کے ساتھ ان کے ساتھ کئے جانے والے مظالم پر مرکوز ہو گئی ہے اور ان پر ظلم کرنے والے کفار پوری طرح سے اقوام عالم کے سامنے نہ صرف خود بے نقاب ہو گئے بلکہ ان کے سارے مددگار بھی ایک ایک کرکے بے نقاب ہوتے جارہے ہیں جس کا سہرہ جہاں عالم اسلام کے یکجہتی پر جاتا ہے وہی خود ترکی کے مرد آہن طیب اردگان اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے سر بھی جاتا ہے جو اتنہائی پُراثر انداز میں فلسطینیوں کا مقدمہ اس وقت عالمی دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں جس کی وجہ سے پہلی بار مغربی دنیا پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کس طرح سے 72 سالوں سے فلسطینیوں کا قتل عام اور انہیں ان کی مقدس سرزمین سے طاقت و خون خرابے کے ذریعے بے دخل کئے جانے کا غیر قانونی عمل جاری ہے اور اس سارے معاملے میں اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرنے سے نہ صرف قاصر بلکہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں