نیا سال مبارک! ۔۔۔ ایم کیو ایم کو اکھٹا کرے کی کوششیں! 83

عمران خان کی حکمتِ عملی ناقابلِ فہم!

26 نومبر کو راولپنڈی میں ملک بھر سے آئے ہوئے لاکھوں لوگوں سے خطاب کے اختتام پر عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ اس کرپٹ نظام کا مزید حصہ نہیں رہ سکتے، وہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی اسمبلیاں توڑنے جارہے ہیں۔ شاید خان کے پاس یہ آخری پتا ہے جو اس نے کھیلنے کا اشارہ دیا ہے۔ ابھی اسمبلیاں توڑی نہیں گئیں۔ پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ ان کے اس عمل سے قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
اس سے پہلے وفاقی اسمبلی سے استعفے دے کر پی ٹی آئی نے کیا فائدہ حاصل کیا ہے یا کس قدر پریشر ڈالا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے آٹھ مہینوں میں قومی اسمبلی سے باہر آکر پی ٹی آئی کو جس ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہے کیا وہ عمران خان کے لئے سبق نہیں ہے۔ خان کی یہ حکمت عملی ناقابل فہم ہے۔ عمران خان کو کوریج دینے والے میڈیا ہاﺅسز اور صحافیوں پر زمین تنگ کی گئی، ارشد شریف جان سے گیا۔ اعظم سواتی اور شہباز گل کو جس طرح ذلیل و رسوا کیا گیا۔ 25 مئی کو پی ٹی آئی کے لوگوں کو جس طرح چادر اور چار دیواری پامال کرکے بے عزت کیا گیا اور اسلام آباد میں امپورٹڈ حکومت کے غنڈے رانا ثنا اللہ نے جس طرح نہتے لوگوں پر ظلم کیا اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
عمران خان خود ہر روز مقدموں کا سامنا کررہا ہے۔ عدالتوں کی طرف سے نا اہلی کی تلوار اس کے سر پر لٹک رہی ہے۔ عمران خان پر قاتلانہ حملہ سے لے کر اعظم سواتی کے ساتھ شرمناک سلوک کے حوالے سے کئی درخواستیں سپریم کورٹ میں ٹھپ پڑی ہیں مگر کہیں جج کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ اگر فوج آپ کے خلاف ہو جائے تو باقی سب ادارے بھی آپ کو نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ انصاف مہیا کرنے والے ادارے بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
اگر عمران خان نے دونوں صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں تو آپ یقین کرلیں کہ پی ٹی آئی پر پورے پاکستان کی زمین تنگ کر دی جائے گی۔ وفاقی حکومت کے ادارے ہر جگہ موجود ہیں وہ ان پر اتنی بربریت کریں گے کہ ان کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔ وفاقی حکومت گورنر، چیف سیکریٹری اور آئی جی کے ذریعہ ان کو نشان عبرت بنا دے گی۔ کیوں کہ اس وقت مریم صفدر اور اس کے حواری عمران خان کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں اور اس کا انکشاف لندن میں ن لیگ کے ایک راہنما نے پریس کانفرنس میں کردیا ہے کہ وہ کس طرح ارشد شریف اور عمران خان کو مروانا چاہتے تھے۔
اس گھناﺅنے کھیل میں صرف ن لیگ شامل نہیں بلکہ اس میں پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں بشمول اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان میں موجود ہر قسم کا کرپٹ مافیا بھی شامل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پچھلی تین چار دہائیوں سے نواز شریف اینڈ کمپنی اور پیپلزپارٹی نے ملک میں کرپشن کو اس طرح عام کردیا ہے کہ اب ہر شخص جس کا ہاتھ پڑتا ہے وہ اس کو جائز اور اپنا حق سمجھتا ہے۔ انہوں نے اپنے اردرد ایسے کرپٹ عناصر جمع کئے ہوئے ہیں کہ وہ کسی صورت عمران خان کی صاف شفاف پالیسیوں کو قبول نہیں کری گے۔ اس میں ان کی موت ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کا دونوں صوبائی اسمبلیوں کو توڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے کیوں کہ اس امپورٹڈ حکومت کے پاس باقی ماندہ مدت پوری کرنے کی گارنٹی موجود ہے۔ صرف جنرل باجوہ کے ریٹائر ہونے سے یہ پالیسی تبدیل ہونے والی نہیں ہے، نئے آرمی چیف کی پالیسیاں بھی کم و بیش وہی رہنے کی توقع ہے کیوں کہ یہ سب ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔
ہاں ان کا راستہ روک اجا سکتا ہے اور اس کا واحد حل آئین میں ترمیم کرکے ان کو میرٹ کی بنیاد پر لگایا جائے اور بہتر قانون سازی کرکے فوج کے رول کو Define کیا جائے اور یہ کام سیاستدان مل کر، کرسکتے ہیں، اس کا مقصد ہرگز فوج کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اس کو باقی اداروں کی طرح آئینی حدود کے اندر لانا ہے۔ فوج صرف اپنا کام کرے۔ حکومتیں بنانا اور گرانا چھوڑ دے، پہلے ہی اس عمل سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ ہمارا ملک پچاس سال پیچھے چلا گیا ہے۔
میری رائے میں کسی بھی جذباتی بات میں آکر خان کو اسمبلیاں تحلیل نہیں کرنا چاہئیں۔ یہ دونوں صوبے اس وقت خان اور پی ٹی آئی کے لئے محفوظ آماجگاہ ہیں۔ اگر یہ ہاتھ سے نکل گئے تو پھر دوسروں کو تو چھوڑیں خان کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ جیسے تیسے کرکے اگلے چھ مہینے نکال لینے چاہئیں اور اس طرح ان اسمبلیوں کی مدت بھی پوری ہو جائے گی جو کہ ایک آئینی عمل ہے۔ اس دوران پی ڈی ایم کو جون میں سالانہ بجٹ بھی پیش کرنا ہے جو کہ مہنگائی کا مزید طوفان لائے گا اور ان کی رہی سہی ساکھ بھی زمین بوس ہو جائے گی۔ اگر الیکشن اپنے وقت پر بھی ہوں تو خان کی مقبولیت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مگر صوبائی اسمبلیاں توڑنا خان کے لئے خود سوزی سے کم نہ ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں