اسلام آباد کی آل پارٹیز کانفرنس کا احوال! 164

عمران خان کی دو سالہ حکومت کا بطور اوورسیز پاکستانی تجزیہ!

تین سال پہلے جب میں فیملی کے ہمراہ کینیڈا منتقل ہوا تو اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت آخری ہچکیاں لے رہی تھی۔ نواز شریف فیملی کو عدالتوں سے سزائیں ہو چکی تھیں، ”مجھے کیوں نکالا“ کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ مسلم لیگ ن کا ٹائی ٹینک بحرئے مردار میں غرق ہو رہا تھا۔ نواز شریف تاحیات نا اہل ہو چکا تھا۔ شریف فیملی کی کرپشن کے چرچے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہو چکے تھے۔ پانامہ کیس کے بعد شریف فیملی کا سیاسی گراف زمین بوس ہو رہا تھا جب کہ آصف زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلزپارٹی بھی عدالتوں کے طواف کررہی تھی۔ دونوں فیملیز پر عذاب الٰہی نازل ہو چکا تھا۔ دہائیوں اقتدار کو بادشاہت کی طرح چلانے والے حکمران عدالتوں کی سیڑھیاں چڑھ چڑھ کر جوتے گھسا چکے تھے۔ دونوں بڑی پارٹیوں میں دراڑیں پڑ چکی تھیں نہ صرف نام نہاد لیڈرشپ کرپشن کے سنگین مقدمات بھگت رہی تھی بلکہ دوسری طرف ان کی عوامی مقبولیت میں تیزی سے کمی آتی جارہی تھی۔ دنیا بھر میں بالخصوص پاکستانیوں کو اور بالعموم بڑی بڑی حکومتوں کی لیڈرشپ کو اصل حقائق معلوم ہو چکے تھے۔
پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں ”نیا پاکستان“ کا نعرہ بلند کرتی ہوئی عوام کے دلوں میں راج کررہی تھی۔ عمران خان کی بائیس سالہ شبانہ روز کی جدوجہد ثمر پانے کو تھی۔ عمران خان کے ملک کے طول و عرض کے طوفانی دوروں اور ولولہ انگیز قیادت نے عوام پر سحر طاری کر رکھا تھا۔ ملک بھر کے کونے کونے سے بالخصوص نوجوان افراد عمران خان کے پاکستان کو بدلنے کے ایجنڈے کے ساتھ کھڑے تھے۔ خواتین کی بہت بڑی تعداد عمران خان کی حامی تھی اور اس کے جلسوں میں جوق در جوق شرکت کرتیں اور وہ بھی معصوم چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ۔ کرپشن کے خلاف پورا ملک اکھٹا ہو چکا تھا، دوسری سیاسی جماعتوں سے قد آور لیڈر انہیں چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کررہے تھے۔ عمران خان بطور کرکٹر تو ہیرو تھا ہی اور لوگوں کے دل کی دھڑکن بھی۔ اپنی مردانہ وجاہت، خوش شکل، قدو قامت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ اس کی محنت، لگن اور ایمانداری دوسرے کرپٹ لیڈروں سے ممتاز بناتی تھی۔ عمران خان کے بطور کھلاڑی کیریئر کا اگر جائزہ لیا جائے تو وہ ایک مکمل پروفیشنل کھلاڑی تھا، کبھی مخالف ٹیم سے مل کر نہیں کھیلا، اس کا دو دہائیوں پر مشتمل پروفیشنل کرکٹ کیریئر کھلی کتاب کی طرح ہے۔ ہمیشہ وہ جی جان کے ساتھ کھیلا اور آخری گیند تک فائٹ کی۔ ہار کر جیت کی پلاننگ کرتا اس سے سیکھتا، نہ کہ مایوس ہوتا۔ دنیا کے کسی کھلاڑی نے کبھی اس کی بدتعریفی نہیں کی۔ انتہا کا ڈسپلینڈ بندہ جونیئر کھلاڑیوں کو ہمیشہ گائیڈ کرتا اور ان کی کپتان سے جان جاتی تھی۔ جو جو کھلاڑی بھی عمران خان نے منتخب کئے تاریخ نے ثابت کیا کہ وہ عظیم کھلاڑی بنے اور انہوں نے ساری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ یوروپ ہو یا بالی ووڈ، حسین اداکارائیں اس پر جان چھڑکتیں، شہرت، خوبصورتی اور جوانی ہو اور کسی کا اسکینڈل نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا۔ یہ قدرت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ عمران خان ابتدائی عمر سے ہی ایک شرمیلا انسان تھا۔ وہ کسی سے بات چیت کرتے ہوئے مکمل اعتماد سے محروم تھا۔ شروع میں وہ لوگوں سے آدھا ہاتھ ملاتا تھا جس پر کافی تنقید ہوئی کہ وہ ایک مغرور شخص ہے مگر بعد میں اس بات کی کئی دفعہ وضاحت کی گئی کہ میں اتنا شرمیلا تھا کہ صحیح طریقے سے ہاتھ بھی نہیں ملا سکتا تھا۔ عمران خان میانوالی کے ممتاز نیازی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس کی فیملی کے کئی افراد پاکستان کرکٹ کے لئے عظیم کارنامے سر انجام دے چکے تھے وہ اپنے ہی کزن سے متاثر تھا۔ چار بہنوں کا اکیلا لاڈلہ بھائی ہے۔ اس کے والد اکرام اللہ نیازی پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے اور انتہائی ایماندار آفیسر تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف جب الیکشن لڑا تو نیازی فیملی نے فاطمہ جناح کی حمایت کی۔ جس پر ایوب خان کافی نالاں تھے۔ اسی دوران اکرام اللہ نیازی نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ معروف صحافی مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ اکرام اللہ نیازی ایک دیانت دار آفیسر تھے۔ وہ لندن سے تعلیم یافتہ تھے۔ ان کا خاندان انتہائی معزز سمجھا جاتا ہے۔ اکرام اللہ نیازی کے والد بھی ڈاکٹر تھے۔ بلاول زرداری کے حالیہ بے بنیاد الزامات کا جواب دیتے ہوئے شامی صاحب نے کہا کہ اکرام اللہ نیازی کے متعلق بلاول کے تمام الزامات ایک ہزار فیصد غلط ہیں اور میں سختی سے اس کی تردید کرتا ہوں۔ بلاول کو اپنے ابا آصف زرداری (مسٹر ٹین پرسنٹ) پر بھی تبصرہ کرنا چاہئے جو کہ کرپشن کا زندہ سمبل ہے اور اس کا نام آتے ہی کرپشن فوراً ذہن میں آتی ہے۔ بلاول کو پہلے احتساب کا عمل اپنے گھر سے شروع کرنا چاہئے۔ بلاول اور زرداری کا بدبودار ذکر تو ضمنن کرنا پڑا جس کا مجھے افسوس ہے۔
عمران خانکو والدہ کی کینسر سے وفات نے اندر سے جھنجھوڑ کے رکھ دیا اور اس نے تہیہ کیا کہ اگر میں ورلڈکپ جیت گیا تو میں کینسر ہسپتال تعمیر کروں گا جہاں غریب اور مستحق لوگوں کا فری علاج ہو گا۔ یہ ایک بہت بڑا خواب تھا جس کی تعبیر تقریباً ناممکن تھی۔ اور ماہرین نے بھی عمران خان کو مایوس کر رکھا تھا۔ خیر ورلڈکپ جیت کر عمران خان نے کمر کس لی اور پھر پاکستان کے گلی کوچوں سے لے کر بڑے بڑے ایوانوں تک رسائی حاصل کی اور ہسپتال کے لئے فنڈز اکھٹے کئے۔ اس وقت دنیا بھر سے لوگوں نے عمران خان کی دیانتداری کے طفیل بلا جھجھک فنڈز دیئے اس میں ہر طقبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔ نہ صرف شوکت خانم کینسر ہسپتال تعمیر ہوا بلکہ اس کے بعد میانوالی کے بے آب و گیاہ خشک پہاڑوں میں دنیا کا بہترین تعلیمی ادارہ ”نمل یونیورسٹی“ کی صورت میں علاقے کے لوگوں کو دیا۔ عمران خان لاہور اور پشاور کے بعد اب تیسرا ہسپتال کراچی میں تعمیر کررہا ہے۔ کیا پاکستان کے لئے یہی خدمات اسے دوسرے تمام نام نہاد لیڈروں سے ممتاز نہیں کرتیں؟ شریف اور زرداری فیملی کی سوچ کرپشن کرنا اور پیسہ ملک سے باہر بھیجنا اس سے آگے نہیں جاتی۔ اس طرح کے فلاحی کاموں میں ان کا حصہ صفر ہے۔ پچھلے دو سالوں میں معیشت کی بحالی کے ساتھ بے شمار فلاحی منصوبوں پر کام شروع ہو چکے ہیں جن کا ذکر ہر چینل اور اخبار میں قارئین سن اور پڑھ لیں گے۔ مجھے تو صرف مختصراً یہ کہنا اور سمجھانا ہے کہ بطور اوورسیز پاکستانی ہمیں اپنے وزیر اعظم پر فخر ہے۔ اب کوئی غیر ملکی ہماری لیڈر شپ پر کرپٹ ہونے کا الزام نہیں لگاتا۔ دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے جو کہ اپوزیشن کے اندھوں کے ہسپتال میں کسی کو دکھائی نہیں دے رہا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں سب معلوم ہے مگر وہ ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں۔ پسماندہ سوچ کے حامل سیاستدان عمران خان کی سوچ اور فلسفی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں، یہ لوگ نیب اور عدالتوں میں اس قدر ذلیل ہو چکے ہیں کہ اب اس کی بحالی بہت مشکل ہے۔
وزیر اعظم اپنے ایجنڈے پر تیزی سے عمل کررہے ہیں۔ ان کو فوج اور عدلیہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے ہر میدان میں شفافیت کے نئے باب رقم کئے ہیں۔ عوام الناس کا بہت بڑا مطالبہ ہے کہ کرپٹ سابقہ حکمرانوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تو تب ان کے سینوں میں ٹھنڈ پڑے گی۔ قوم کے ساتھ ہوئی نا انصافی کا بدلہ بھرپور طریقے سے لینا چاہئے تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں اپنے آپ کو محفوظ بنا سکیں۔ کچھ بھی ہو عمران خان دونوں سیاسی پارٹیوں کے مقابلے میں دیانتدار اور محنتی شخص ہے اور پاکستان کو ترقی کی منزلوں کی طرف تیزی کے ساتھ لے کر جارہا ہے۔ بظاہر بہت سارے مافیاز پی ٹی آئی حکومت گرانے کے درپے ہیں مگر ہماری مقتدر قوتیں اگر پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں تو وہ یہ کبھی نہیں ہونے دیں گی۔ جمہوریت کی گاڑی ڈی ریل نہیں ہو گی، پانچ سال پورے ہونے کے بعد مستقبل کا فیصلہ عوام کریں گے۔
عوام بھی کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے اور ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ پاکستان کو شاید اس سے اچھا لیڈر بہت عرصہ تک نہ مل سکے۔ جس کا کوئی وارث اقتدار حاصل کرنے کے لئے بے تاب نہیں ہے جسے کوئی مل یا فیکٹری نہیں لگانی، اس نے تو اپنا گھر اور باقی اثاثے بھی شوکت خانم ٹرسٹ کو ہدیہ کردیا ہوا ہے۔ کچھ کمیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ جمہوری عمل چل رہا ہے جسے چلتے رہنا چاہئے اور دیکھئے گا کہ اللہ کے فضل و کرم سے آخری فتح پاکستانی عوام اور عمران خان کی ہو گی۔ تمام طاغوتی قوتیں ذلیل و رسوا ہو کر اوندھے منہ گریں گی اور پھر قصہ پارینہ بن جائیں گی۔ دو سالہ کارکردگی تشنہ ہے کہ مگر کوئی مایوسی نہیں ہے۔ اللہ عمران خان کا حامی و ناصر ہو، آمین۔ ہم اوورسیز پاکستانی عمران خان کی اب تک کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں