Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 121

عمران خان کی مشکلیں

وزیر اعظم عمران خان حکومت کے بعض غلط فیصلوں کی وجہ سے بہت تیزی کے ساتھ اپنے عوامی مقبولیت کھو رہے ہیں اس سے قطع تعلق کے اس میں ان کا قصور ہے یا نہیں مگر عوامی حلقوں میں وہ خود ہی اس کے ذمہ دار گردانے جاتے ہیں۔ مہنگائی ایک اس طرح کا زہر ہے جو عمران خان کی حکومت سے زیادہ خود عمران خان کو تباہ و برباد کرتا چلا جارہا ہے۔ فصلی بٹیروں نے عمران خان کی مقبولیت میں بالواسطہ اور ان کی حکومت کو براہ راست اس طرح سے شگاف ڈال دیا ہے کہ اس کا بھرنا مجھے نظر نہیں آرہا ہے۔ ہر نیا روز عمران خان کے لئے ایک نئی مشکل لا رہا ہے اب ان کے پانچ مشیروں کی دوہری نیشنلٹی ان کے لئے مصیبت بنتی جارہی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ مطالبہ اب شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ دوہری نیشنلتی پر سرکاری عہدہ رکھنا غیر آئینی ہے اس لئے عمران خان کو جلد از جلد اس پر کوئی نہ کوئی ایکشن لینا چاہئے۔ ایک ان کا ڈڈو منسٹر آئے روز میڈیا کا بن بلایا مہمان بن کر ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ والا کردار ادا کرکے جہاں میڈیا کو خوراک مہیا کررہا ہے وہیں خود اپنی حکومت کی ناﺅ ڈبونے کے لئے سمندری طوفان کی راہیں ہموار کرنے کا سامان بھی کررہا ہے۔ اب عمرانخان کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے، بقول ایک پشتو کہاوت کے ”پرائی چار پائی آدھی رات کی ہوتی ہے“ اس لئے پرائے لوگ اب اپنا رنگ دکھا رہے ہیں جس کی زندہ مثال ان کے ڈڈو منسٹر کی ہے۔
عمران خان اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ان کی حکومت رواں بھی ہے اور دواں بھی۔۔۔ لیکن وہ جن بیساکھیوں پر کھڑی ہے وہ کسی کو بھی نظر آرہی ہے جس کی تازہ ترین مثال بجٹ کا قومی اسمبلی سے 41 ووٹوں کے برتری سے پاس ہونا ہے جب کہ اس وقت خود حکومتی اتحادی بھی ناراض تھے اور حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے چکے تھے اور وہ اب تک ناراض ہیں لیکن اس کے باوجود بجٹ پاس بھی ہو گیا اور عمران خان وزیر اعظم بھی ہیں یہ سب کے سب زمینی حقائق ہیں جسے ہر کوئی کھلی اور بند دونوں طرح کی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کے پاس نہ تو بجٹ پاس کروانے کے لئے ووٹ پورے تھے اور نہ ہی اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے۔۔۔ لیکن زمینی حقائق یہ ہے کہ بجٹ بھی پاس ہو گیا اور ان کی حکومت بھی صحیح سلامت چل رہی ہے۔ میں ہمیشہ سے ہی اس کا قائل رہا ہوں کہ کتابوں میں لکھے ہوئے ہر بات پر مت چلو بلکہ جو اردگرد ہو رہا ہے اس کو صحیح سمجھو اور اس پر عمل کرو۔ ہمیشہ زمینی حقائق یعنی گراﺅنڈ ریالیٹی پر عمل کرو اور اسے ہی سچ مانو، اس لئے کہ آپ کا واسطہ یا سامنا اس سے ہی پڑتا ہے۔ آپ لاکھ چلائیں اور شور مچائیں کہ عمران خان کے پاس عددی اکثریت پوری نہیں ہے مگر آپ ان کے خلاف
تحریک عدم اعتماد نہیں لا سکتے جس کا علم آپ کو بھی ہے اور خود عمران خان کو بھی۔۔۔ بعض باتیں بعض حالات نہ تو کہنے کے ہوتے ہیں اور نہ ہی لکھنے کے، انہیں صرف اور صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح سے آپ خوشبو اور بدبو کو محسوس کرتے ہیں اس کے لئے آپ کو نہ تو پڑھنا پڑھتا ہے اور نہ ہی لکھنا۔ میں کالم کی ابتداءمیں لکھ چکا ہوں کہ عمران خان تیزی کے ساتھ اپنی مقبولیت کھو رہا ہے، اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ یہ سب کون لوگ کررہے ہیں؟ ظاہر ہے وہی لوگ یہ سب کچھ اپنے وفاداروں سے کروا رہے ہوں گے جو عمران خان کی مقبولیت سے خائف ہیں یا جن کی دکانداری یا جن کا چورن عمران خان کے مقبول ہونے کی وجہ سے نہیں بک پا رہا تھا۔ وہی لوگ عمران خان کی مقبولیت ان کی شہرت سے نالاں ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ عمران خان مزید کنگلے، بے روزگار اور غریب لوگوں کے دلوں پر راج کرے۔ اس لئے وہ ان غریبوں کو مہنگائی کے وار سے اتنا زخمی کررہے ہیں کہ وہ اپنے زخموں کا ذمہ دار کسی اور کو نہیں صرف عمران خان کو ٹھہرائے اور اٹھتے بیٹھتے عمران خان کا برا بھلا کہنا شروع کر دے۔ یہ ہی حکمت عملی ان تمام لوگوں کی ہے جسے عمران خان مافیاز کے نام سے پکارتا ہے اور جن کے بارے میں وہ برملا کہتا ہے کہ اس کا مقابلہ ان مافیاز سے ہے جو ملک پر قابض ہے اور جس نے ملکی عوام کو قرضوں میں جکڑ کر برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ اب معلوم نہیں کون سچ بول رہا ہے۔ عمران خان یا وہ سارے جنہیں عمران خان مافیاز کا نام دے رہا ہے۔ اب اس کا فیصلہ تو وہ ملکی عوام ہی کریں گے جو ان دونوں دو بڑی قوتوں کے درمیان برگر بنے ہوئے ہیں اور مہنگائی کی تپش نے انہیں اب کھانے کے لئے تیار کر دیا ہے۔ کوئی بھی انہیں آسانی کے ساتھ ڈکار لئے بغیر ہڑپ کر سکتا ہے۔ ملکی عوام کو اصل صورتحال کا فہم و ادراک ہونا چاہئے تاکہ وہ اصلیت جان سکے اور وہ میڈیا کے غلط یکطرفہ پروپیگنڈے کا شکار نہ ہو سکے جو اپوزیشن کے ساتھ مل کر عمران خان کی حکومت کے خلاف ایک مہم چلا رہے ہیں۔ کالم لکھنے کے دوران ہی اسلام آباد کے معروف صحافی مطیع اللہ جان کے اغواءکی اطلاع ملی ہے جو آخری خبروں کے آنے تک لاپتہ تھے جنہیں بعد ازاں اغواءکاروں نے فتح جنگ کے علاقے میں آزاد کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان سے گزارش ہے کہ وہ اغواءمیں ملوث افراد کو چاہے ان کا تعلق کسی سے بھی انہیں جلد از جلد عدالت کے کٹہرے میں لائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں