Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 65

عورت مارچ

عورت مارچ کی منطق آج تک سمجھ نا آئی۔اس مارچ کی نمائندگی کرنے والی خواتین پر زرا نظر ڈالیں ۔ ان کا لائف اسٹائل ، ان کی باتیں ،ان کی عادتیں ،ان کی مصروفیات وہ جو عورت مارچ میں آتی ہیں ۔میر ا جسم میری مرضی جب کہ اس طرح کی خواتین کی تو اس معاملے میں اپنی مرضی پہلے ہی سے چل رہی ہوتی ہے۔کھانا خود گرم کرو کتنی مضحکہ خیز بات ہے کیا یہ کبھی اپنے شوہر کے لئے کھانا گرم کرتی ہوں گی یہ خود تو مارچ میں ہوتی ہیں اور گھر پر ماسی چھوڑ کر آتی ہیں جو کہ خود بھی ایک عورت ہے اس کی ایک چھٹّی بھی ان سے برداشت نہیں ہوتی اگر وہ ماسی اپنے یا اپنے بچّے کی بیماری کی وجہ سے گھر جانے کی اجازت مانگے تو اسے کھڑے کھڑے نوکری سے نکال دیتی ہیں۔ زرا زرا سی بات پر اس کو جھڑکیاں اور پیسے کاٹ لینے کی دھمکی میری نظر میں تو اس مارچ کی اصل حقدار وہ ماسی ہے لیکن وہ بیچاری اس مارچ وغیرہ کی متحمل نہیں ہوسکتی وہ کس طرح سے اس مارچ کو وقت دے سکتی ہے ایک دن کی چھٹّی پر کھانے کے لالے پڑ جاتے ہیں۔یہ ماسیاں ہی مارچ میں حصّہ لینے والیوں اور ان کے شوہروں کے لئے کھانا بناتی ہیں کھانا گرم کرتی ہیں بلکہ سارے گھر کے کام یہی ماسیاں کرتی ہیں اور اب ان مارچ والیوں کی آزادی کی خواہش گھر کے لئے نہیں بلکہ گھر کے باہر کے لئے ہے۔اور وہ عورت جو واقعی عورت بن کر رہنا چاہتی ہے گھر کی چار دیواری میں ہی اپنے آپ کو اپنے شوہر کے ساتھ محفوظ سمجھتی ہے ۔اسے ایسی کسی عورت مارچ کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالی’ نے اسے بڑی ہمّت اور صبر سے نوازا ہے۔وہ جو کچھ اپنی زندگی میں اپنے گھر شوہر اور بچّوں کے لئے کرتی ہے ۔ اپنی پوری زندگی گھر کے لئے وقف کردیتی ہے شائید مرد اس کا چوتھائی حصّہ بھی نہیں کرسکتا۔صرف ایک دھونس ہے کہ میں کماکر لاتا ہوں میں گھر چلاتا ہوں۔اسے کچھ نہیں معلوم کہ گھر کس طرح چلایا جاتا ہے ۔اس کے ذہن میں بس یہی ہوتا ہے کہ عورت کو تو کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا جب کہ گھر کا کام مرد کے کام سے چار گنا زیادہ ہوتا ہے لیکن عورت کے ماتھے پر شکن نہیں آتی اور وہ پھر بھی خوش رہتی ہے۔اس کی صرف ایک ہی تمنّا ہوتی ہے کہ شوہر اس کے پیار اس کی محبّت کا جواب پیار سے ہی دے صرف پیار کے دو بول کتنا کم معاوضہ ہے ساری زندگی گھر کو سنبھالنے اپنی ساری محنت ساری تکلیفیں ساری تھکن کے بدلے صرف اچھا سلوک اور اگر شوہر کی طرف سے اچھّا سلوک ملے وہ اس کا خیال رکھے اس کی محنت اور گھر کو سنبھالنے پر چند تحسین آمیز کلمے ادا کردے۔تو وہ ہمیشہ خوش رہتی ہے ۔کچھ مرد حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی ساری مردانگی صرف اپنے گھر پر ہی دکھاتے ہیں گھر میں داخل ہوتے ہی عورت کو برا بھلا کہنا کھانے پینے میں برائیاں نکالنا ،زرا سی بات پر عورت پر ہاتھ اٹھانا بے وجہ مار پیٹ کرنا غرض یہ کہ بیوی کی زندگی اجیرن کردی ہوتی ہے اور وہ عورت کچھ نہیں کہتی نا مارچ پر نکلتی ہے نا احتجاج کرتی ہے ۔وہ بغاوت کرلیتی ہے اور اس بغاوت کا شوہر کو ساری زندگی پتہ نہیں چلتا عورت اس بغاوت کی آڑ میں اپنے اوپر ہونے والے تمام مظالم کا بدلہ لیتی ہے اور اسے تسکین پہونچتی ہے اور وہ مرد مونچھوں پر تاو¿ دیتا عورت کو مارتا پیٹتا سینہ تانے مرد بنا گھومتا رہتا ہے اسے ساری زندگی نہیں معلوم ہوتا کہ اس کے مظالم کی وجہ سے گھر میں کیا ہورہا ہے۔ہمارے معاشرے میں ہر طرح کے گھرانے موجود ہیں یہاں صرف عورت ہی مظلوم نہیں ہے بعض مرد حضرات بھی مظلومیت کی زندگی گزارتے ہیں لیکن اپنی مردانگی قائم رکھنے کے لئے خاموش رہتے ہیں اور کسی کو کچھ نہیں بتاتے کچھ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ اور ایسے بھی ہوتے ہیں کہ گھر میں کوئی بھی لڑائی جھگڑا ہو وہ اپنے دوستوں رشتے داروں میں سب بیان کردیتے ہیں کچھ صرف اس بات پر اکتفا کرتے ہیں کہ باہر یہ کہہ دیتے ہیں کہ عورت کے پاس عقل کی کمی ہے لہذا اس سے نپٹنا مشکل ہے اور ایک شخص وہ بھی ہوتا ہے کہ گھر میں کتنا بھی لڑائی جھگڑا ہو بیوی کتنی بھی بد سلیقہ بد تمیز ہو وہ کبھی بھی محلّے میں رشتے داروں میں یا دوستوں میں اس کے متعلق بات نہیں کرتا ہے وہ نہیں چاہتا کہ لوگوں میں اس کی بے عزّتی ہو لوگ باتیں بنائیں لہذا وہ خاموش رہتا ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ عورت بھی اس دنیا اور یہاں کے انسانوں سے تعلق رکھتی ہے اور انسانوں میں ہر طرح کے انسان ہوتے ہیں عورت ہو یا مرد طرح طرح کے لوگ ہوتے ہیں جن کی ذہنی حالت ،خیالات، عادات و کردار جدا جدا ہوتے ہیں۔بد تمیز ،جاہل،،مطلب پرست، دھوکے باز ، مکّار ،چالاک، جھوٹے ،دغا باز ،فریبی۔ حاسد، چور ،اچکّے نقصان پہونچانے والے اور دوسری طرف نیک صفت، نیک سیرت، با اصول ،با کردار، ایمان دار ، سچّے اور کھرے سب کی عزّت کرنے والے وغیرہ وغیرہ بعض عورتیں اس حد تک اپنے آپ کو گھر کا حاکم سمجھتی ہیں کہ گھر کا ہر فیصلہ مثلا” گھر کے سامان کی خریداری سے لے کر بچّوں کی تعلیم اور شادی بیاہ کا فیصلہ سب صرف ان کی مرضی کے مطابق ہونا چاہئے اور شوہر کی دخل اندازی نا ہو کیوں کہ ان کے نزدیک شوہر حضرات بے وقوف ہوتے ہیں کچھ صلح پسند شوہر زیادہ بحث و مباحثہ میں نہیں پڑتے اور خاموشی سے سر جھکالیتے ہیں جب کہ دوسرے شوہر جرح کرتے ہیں اور اپنی بات منوانے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن بیوی بھی ہار ماننے والی نہیں ہوتی کیونکہ امّاں نے چلتے وقت کہا تھا بیٹی جس دن تم شوہر کے سامنے خاموش ہوگئیں اسی دن سے تمھاری تباہی شروع ہوجائے گی لہذا وہ بھی خم ٹھوک کر لڑتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی بیوی اور اپنی اولاد کے لئے اپنے دل میں بے پناہ محبّت رکھتے ہیں لیکن کبھی اس کا اظہار نہیں کرپاتے بیوی یا اولاد کو بے شما ر شکایات بھی ہوتی ہیں جو کہ بے جا ہوتی ہیں اس کے باوجود وہ اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہہ پاتے کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ زبان سے کچھ کہیں لیکن وہ اپنی زبان سے اقرار نہیں کرپاتے گھر میں لڑائی جھگڑے بھی ہوتے ہیں ایک دوسرے کو باتیں بھی سناتے ہیں بیوی بچّے سمجھتے ہیں ان کو کسی کا خیال نہیں ہے لیکن وہ اپنے دل کی محبّت کو کبھی بھی ظاہر نہیں کرپاتے۔اگر دونوں ایک دوسرے کو سمجھیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور ایک دوسرے کا خیال رکھیں تو گھر کو جنّت بنایا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں