اندھے لوگوں کا دیس 18

عیدالاضحیٰ مبارک

سب سے پہلے تو میں پاکستان ٹائمز کی انتظامیہ اور عملہ کی جانب سے تمام مسلمانوں کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ یہ اسلامی تقویم کے اہم ترین دنوں میں سے ایک ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمان اللہ رب العزت کے حضور حاضری دے کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں اور تجدید عہد وفا کرتے ہیں۔ حج بیت اللہ کا سب سے اہم رکن وقوف عرفہ ہے جو حج بیت اللہ کا رکن اعظم بھی ہے اور اسے آپ اللہ تبارک و تعالیٰ کا پالیسی بیان بھی کہہ سکتے ہیں جس کے تحت مسلمانوں کو اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ آپس میں مساوات اور ہمدردی کے تعلقات قائم کرو، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ احسان کرو اور سب کے حقوق کا خیال رکھو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس چیز کو سب سے زیادہ ناپسند فرمایا ہے وہ شرک کے بعد گھمنڈ ہے اور اللہ تعالیٰ گھمنڈ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ معاشرے اور معاشرتی معاملات میں احسان کرو۔ حضرت ابراہیمؑ کی سنت کو زندہ رکھنے کے لئے قربانی کرو۔ عداوت اور نفرتوں کو ختم کرو، مصائب و مشکلات پر صبر کرو۔ لوگوں پر احسان کرو، جس طرح تمہارے پروردگار نے تم پر کیا ہے کیونکہ اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے۔ میدان عرفات میں سال 2021ءمیں پیش کئے گئے خطبہ میں بھی انہی تمام باتوں کو دھرایا گیا۔
رواں برس خطبہ حج کے موقع پر کورونا وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی وباءکے بیان کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ لوگوں کو سمجھایا جا سکے کہ اس وبا سے خود کو بھی اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔ اس وقت مغربی دنیا بری طرح وبا کی گرت میں ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس وائرس کے سبب لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ کروڑوں لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ رکا نہیں ہے بلکہ کورونا وائرس ایک عفریت کی مانند دنیا بھر کے لوگوں کو مسلسل نگلتا جا رہا ہے۔
بھارت سے آنے والے نئے ڈیلٹا وائرس نے مزید خدشات اور خوف کو جنم دیا ہے۔ بھارت کے بعد پاکستان اور دیگر ممالک میں ایک بار پھر ڈیلٹا وائرس اپنے قدم جماتا نظر آرہا ہے جس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اس وبا نے پہلے ہی دنیا بھر کی معیشت کو کھربوں کا نقصان پہنچایا ہے اور مزید نقصانات مستقبل میں سامنے آنے کا امکان ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ کی نظر میں ایک شخص کی جان بچانا پوری انسانیت پر احسان ہے اور کسی ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ عید خوشیوں کا تہوار ہے مگر احتیاط لازم ہے اور ہمیں حکومتی احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے عید کی خوشیاں منانا چاہئے تاکہ ہم نادانستہ اس مشکل وقت میں اس وائرس کے پھیلاﺅ کے ذمہ دار نہ بن جائیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں تاکہ موجودہ تہوار کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ ہم آئندہ بھی صحت و تندرستی کے ساتھ دیگر اسلامی تہواربھی مناسکیں اور آئندہ سال سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے حج بیت اللہ کی رونقوں کو بھی واپس لوٹا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں