افکار پریشاں 40

غلامی کی طرف

پاکستانی سیاست کے موجودہ بحران میں مرکزی کردار جس شخص نے کیا ہے وہ سازشی اور اقتدار کے حصول میں ہر ہتھکنڈا استعمال کرنے والا زرداری ہے جس میکاولی اور چانکیہ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو ذلیل و خوار کرنے اور حصول اقتدار میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو اگر ضرورت پڑے تو موت کے گھاٹ اتار دے۔ اس شخص نے اپنی زندگی میں جس مکاری سے حصول دولت اور اقتدار حاصل کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے حتیٰ کہ ایک وزیر اعظم کے قتل کے اشارے بھی اسی کی طرف جاتے ہیں۔ اس نے ایک جعلی وصیت لہرا کر پارٹی پر قبضہ کیا اور پھر اقتدار کی کرسی پر جا بیٹھا، اس کی مکاری کی ادنیٰ مثال اقوام متحدہ کی تفتیشی ٹیم کی آمد اور اسے معلومات نہ فراہم کرکے ایک ایسی رپورٹ بنوائی گئی جو سراسر ایک دھوکہ تھی اور اس کے لئے لاکھوں ڈالر بھی ادا کئے گئے۔
موجودہ سیاسی صورت حال اور ملک کی غیر یقینی کی حالت تک پہچانے کا ذمہ دار یہی مکار فرد ہے، اس شخص نے انتہائی مکاری سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے لٹیرے لیڈروں کو جو حصول اقتدار اور اپنے کئے کی پانے والی سزاﺅں سے بچنے کے لئے مرے جارہے تھے کو اپنے دام میں لا کر انہیں ذلیل کردیا اور ملک کو ایسے بحران میں مبتلا کردیا کہ جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کا سازشی مقصد یہ ہے کہ حالات کو اس نہج پر لے جائے جہاں اس کا ”مخنث“ بیٹا بلاول وزیر اعظم بن جائے (فی الوقت یہ ”نابالغ“ سیاستدان وزیر خارجہ بنا ہوا ہے اور امریکی ایجنڈے کی تکمیل کی راہ ہموار کررہا ہے، جہاں حسین حقانی جیسا ضمیر فروش اور یہودی ایجنٹ اسے امریکی لیڈروں سے ملوا رہے ہیں اور مسلم لیگ ایسی صورت حال میں گرفتار ہو چکی ہے کہ اب اس کو زرداری کی بات ماننے ہی بنے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو پیپلزپارٹی کی مدد سے بننے والی ناپائیدار حکومت زرداری منٹوں میں ختم کرسکتا ہے۔ زرداری اس وقت ملک کی درگوں معاشی اور سیاسی صورت حال سے لطف اندوز ہو رہا ہے کیونکہ شہباز شریف جس نے کبھی زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا اعلان کیا تھا آج اس کے رحم و کرم پر ہے جب کہ اس کا بڑا بھائی لندن میں دبکا بیٹھا ہے۔
سیاست، حالات ک زرداری اس سمت لے جارہا ہے جب کہ شہباز شریف ہر طرف گھر کر ناکام ہو جائے اور زرداری اس سے کہے کہ وہ وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہو جائے اور موجودہ اتحاد کو تورنے سے بچائے اور اس طرح وہ بلاول کے لئے راہ ہموار کرے۔
زرداری جو بظاہر اقتدار میں زیادہ شریک نہیں ہے، ماسوائے بیٹے کے جو وزیر خارجہ بن کر امریکی مفادات کو بروئے کار لا رہا ہے جب کہ ان کی خارجہ پالیسی شہباز شریف کی نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ زرداری یہ بھی سمجھنا ہے کہ اگر انتخابات ہوتے بھی ہیں تو مسلم لیگ اس وقت اتنی ذلیل ہو چکی ہو گی کہ اس کا اقتدار میں آنا ناممکن ہو جائے گا، اگر ایک دفعہ بلاول اقتدار میں آ جاتا ہے تو زرداری اپنی مکارانہ سیاست سے تمام پارٹیوں کو ساتھ ملا کر مسلم لیگ کا پتہ ہمیشہ کے لئے کاٹ دے گا۔ اس صورت حال سے مسلم لیگ بخوبی واقف ہے مگر اقتدار کے لالچ میں عمران خان کو ہٹا کر وہ ایک طرح سے زرداری کے جال میں پھنس چکی ہے اور اب بالکل بے بس ہے کیونکہ عمران خان کی اقتدار کے بعد مقبولیت اور موجودہ غیر یقینی صورت حال میں عوام کی طرف سے مخالفت اسے اب سیاست سے باہر کر سکتی ہے جب کہ منقسم مزاج زرداری شہباز شریف کے اس عمل کو نہیں بھولا ہے جو اس نے زرداری کے خلاف ماضی میں ادا رکھا تھا اب وہ اس سے گن گن کے بدلے لے گا۔ یہی نہیں بلکہ اسے شریفوں کے وہ الفاظ بھی یاد ہیں جو انہوں نے اس کے اور اس کی بیوی کے خلاف استعمال کئے تھے اور اب وہ ان ہی الفاظ کو نئے معنی پہنا رہا ہے کہ جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے۔ اس نے شہباز شریف اور ہمنواﺅں پی ڈی ایم بنائی اور جو کچھ اس کے دل میں تھا اس نے دوسروں کی زبان سے کہلوایا اس نے عمران خان کے خلاف الزامات دوسرے سے دلوائے، فوج کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا بلکہ اندرون خانہ اس کا رابطہ اسٹیبلشمنٹ سے برابر رہا ہے اس نے استعفوں کی مخالفت کی اس نے اسمبلیاں توڑنے کی مخالفت کی کیونکہ وہ سندھ کی حکومت ہاتھ سے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا اس نے ایم کیو ایم کو جو کہ موم کی ناک کی طرح ”ان“ کے کہنے سے مڑ جانے کی بات کرتے تھے، سندھ میں وزارتیں دینے اور دیگر عہدوں کا لالچ دے کر عمران خان کے خلاف ووٹ دلوائے۔ اس نے انتہائی چالاکی سے کام کیا اور پھر عمران خان کے بعد اس نے مقاصد کے حصول کے لئے جو کہ غیر ملکی آقاﺅں کا ایجنڈا صرف وزارت خارجہ پر قبضہ کرکے انہیں یقین دلا دیا کہ مستقبل میں اگر اسے حکومت ملی تو وہ اس کے ایجنڈے پر عملدرآمد کرے گا اور اس مقصد کے لئے بلاول کو امریکہ کے دورے کروائے گئے۔ اب اس کی آئندہ چال یہ ہو گی کہ وہ تنہا اقتدار میں آئے اور خدانخواستہ یہ ہو گیا تو ایم کیو ایم سمیت تمام اتحادی اس کا منہ تکتے رہ جائیں گے اور وہ اپنی من مانی کرے گا، ہو سکتا ہے کہ خود صدر بن جائے (جس عہدے کے لئے فضل الرحمان مرا جا رہا ہے) اور بیٹے کو وزیر اعظم بنا دے اس کے بعد شریفوں کو پتہ چلے گا کہ ان کے ساتھ کونسی واردات ہو گئی ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی سودے بازی کرے گا، روس اور چین سے علیحدگی کے بعد امریکہ کی خواہش پر سی پیک کو ختم کردیا جائے گا اور ہندوستان کی خواہش پر کشمیر کا مسئلہ قصہ پارینہ ہو جائے گا، جسے کہ نابالغ سیاستدان کے جموں سے میرپور تک ٹرین کی بات کی ہے اور مستقبل کا منظرنامہ صاف ہو گیا ہے، رہ گئے عمران خان تو اللہ اس کی حفاظت کرے، زرداری اسے بھی راستے سے ہٹانے کے لئے کسی حد تک جا سکتا ہے اور پھر امریکہ بہادر، برطانوی سامراج کا ہاتھ تو اس کے سر پر ہی ہے اب تازہ ترین صورت حال میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان نام نہاد جمہوریت پسند حکمرانوں نے امریکی ایجنڈے پر عمل شروع کردیا ہے۔ چین کی طرف سے قائم کردہ ”کنفوشس سینٹر“ سارے ملک میں بند کردیئے گئے ہیں جن کے تحت ہزاروں پاکستانی چینی زبان سیکھ رہے تھے اور ان میں پڑھانے والے چینی اساتذہ چین چلے گئے ہیں اس کے علاوہ سی پیک اتھارٹی کو ختم کرکے اسے کسی وزارت کے تحت کردیا جائے گا، اس طرح یہ انے آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے روس اور چین سے سارے روابط ختم کراکر اس دیوالیہ ہونے والے ملک کو اگر ”آکسیجن“ دیں گے بھی تو اپنی شرائط پر، اس طرح ایک بار پھر کروڑوں پاکستانی سامراجیوں کے غلام بن جائیں گے اور ملک کی اکائی پارہ پارہ ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں