اقبال لطیف کا تجزیہ 131

غنچے جو مرجھا گئے

دنیا کی تاریخ میں ایسے ایسے المناک واقعات ظہور پذیر ہوچکے ہیں جن کو سن کر انسان ایک لمحے کو سوچتا ہے کہ کیا ممکنات میں سے ہو سکتا ہے مگر چونکہ یہ ماضی کے قصے ہوتے ہیں لہذا یہ کہہ کر بھی گزر جاتے ہیں کہ بڑھا بھی دیتے ہیں۔کچھ زیب داستان کیلئے۔ ہم چنگیز خان اور ہلاکو خان کی کہانیاں دھراتے رہتے ہیں کہ کس طرح وہ سروں کے مینار بناتے تھے، ہم ان فاتحین کے قصے سنتے ہیں جو صرف تفریح کی غرض سے کرسیوں پر بیٹھ کر انسانوں کی ہلاکتوں کا تماشا دیکھتے تھے۔ ہم ہندوستان آنے والے فاتحین کے واقعات کو دہراتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے نہ صرف غیر مسلموں کو تڑپا تڑپاکر مارا بلکہ نادر شاہ درانی جنہوں نے دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام کرایا ہے اور جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر اس کا نظارا کیا، ہم آج ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے گیس چیمبرز میں بند کرنے کے واقعات پر نظر ڈالتے ہیں اور یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ یہودی تھے ہی اسی قابل۔ ہم ترقی یافتہ ملکوں کے ہاتھوں لاکھوں کروڑوں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں کو سامراجی قوتوں کی بہیمانہ کارروائی کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ کیا عراق، شام، لیبیا، بوسنیا ہرزوگوینا میں قتل ہونے والے افراد اس بات کے مستحق تھے کہ انہیں ان کی زندگیوں سے محروم کردیا جائے؟ غرض کہ دنیا میں قتل و غارت گری کے واقعات کو ہم کسی نہ کسی کے سر ڈال کر دل میں خود کو بری الذمہ قرار دے لیتے ہیں۔ کہیں کفار ذمہ دار ہیں تو کہیں اقتدار کے بھوکے ان جرائم کے ذمہ دار تو کہیں اقتدار حکومت کے لالچ میں افراد ملوث ہیں۔ ریاست پر قبضہ کرنے کے لئے آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والے اس کے مرتکب تو کہیں مذہبی اختلافات پر جنت حاصل کرنے کے عناصر اس کے ذمہ دار غرض ہم اگر خود اس کا ارتکاب کریں تو کوئی نہ کوئی توجیح گڑھ لیتے ہیں اور دوسرا کرے تو وہ گردن زدنی، ظالم اور قاتل غرض کہ کسی کی بھی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے بلکہ یہ کام مختلف حالات میں مختلف حیلے اور بہانے سے سر انجام دیا جاتا ہے اور اس کا جواز بھی ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔
یہاں محض اپنی انا کی تسکین کے لئے ایسے ایسے جواز پیش کئے جاتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مظالم، یہ قتل و غارتگری، یہ بہیمانہ مظالم اللہ اور رسول کے احکامات کے تحت اور ان کی مرضی اور رضا سے کئے گئے ہیں اور اس کے مرتکب افراد کو اللہ نے ہدایت کی ہے کہ میرے بندوں کو خاک و خوں میں نہلا دو اور سیدھے جنت میں پہنچ جاﺅ مگر کیا ان معصوم اور بے گناہ بچوں کا خون بھی ان درندوں پر ہے جو ابھی اس گلستان جہاں میں کلیوں کی طرح کھلنے بھی نہ پائے تھے، کیا ان فرشتوں کا خون بہانا جائز ہے جنہوں نے ابھی دنیا میں کچھ دیکھا بھی نہیں تھا۔ کیا ان پاکیزہ روحوں کا یہ گناہ تھا کہ وہ دنیا میں آئے اور انہیں جو زندگی اللہ نے عطا کی اسے ظالم اور درندہ صفت انسان چھین لیں اور سب سے بڑا المیہ یہ کہ ان مرنے والوں کو یہ پتہ نہیں کہ ہم کیوں مارے گئے اور مارنے والوں کو علم نہیں کہ ہم کیوں مار رہے ہیں؟
کیا 16 دسمبر کا دن ساری انسانیت کے لئے ایک ایسا دن ہے کہ اس کے بعد قیامت آنے کا تصور ختم ہو جاتا ہے کیونکہ ان بچوں کے لئے ان غنچوں کے لئے جو بن کھلے مرجھا گئے ایک قیامت کا دن ہے ان والدین کے لئے قیامت کا دن ہے جنہوں نے اپنے گل رخوں کو بنا سنوار کر گھروں سے حصول علم کے لئے رخصت کیا کہ انہوں نے رسول کریم کی حدیث کہ ہر مسلم مرد و عورت پر حصول علم واجب ہے، پر عمل کرنے کی کوشش کی اور اپنی زندگی کو حصول علم کی جدوجہد کے لئے تیار کیا۔ کیا ان بچوں کو ذرا سا بھی احساس تھا کہ ان کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور ان کے والدین زندگی بھر عذاب سے گزرتے رہیں گے۔
انسانی تاریخ کا یہ المیہ 16 دسمبر کو مملکت خداداد اکستان میں وقوع پذیر ہوا جو خدا اور اس کے رسول کے نام پر بنایا گیا تھا، اس قیامت کے دن 144 معصوم بچے جو پشاور میں اسکول گئے اور اس کے بعد کبھی واپس اپنے گھروں کو نہیں لوٹے۔ کیا اب بھی ہم اس سانحہ کو فراموش کر سکتے ہیں، کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ 144 فرشتوں کو گنوا کر بھی ہم ان عناصر کو درگزر کر دیں گے جو اس سانحہ کے ذمہ دار ہیں اور آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔ آج اگر اس عظیم سانحہ کے موقعہ پر ہم عہد کرلیں کہ آئندہ ہم ایسے کسی بھی فرد کو معاف نہیں کریں گے جو اپنے اس گھناﺅنے جرم کو جس میں ایک انسان کے قتل کو انسانیت کو قتل کیا جاتا ہے۔ 144 بار انسانیت کو قتل کیا ہے، آج بھی وہ شیطان صفت انسانی حصول اقتدار کے لئے بے حیائی سے جلسوں کو خطاب کرتا ہے اور اس کے ساتھ شامل افراد لاکھوں انسانوں کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔ کیا اب پاکستانی ان سفاک قاتلوں کو اپنا لیڈر تسلیم کریں جنہوں نے انتہائی سفاکی کے ساتھ 144 پھولوں کو روند ڈالا۔ یہ سنگدلانہ قتل عام انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے اور اس کے مرتکب انسان انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس مکروہ اور گھناﺅنے جرم کے ارتکاب کرنے والے اس کی مذہبی تاویل کررہے ہیں اور اسے رحمت الالعالمین اور محسن انسانیت کے احکامات کی تفسیر بناتے ہیں۔ کیا یہ توہین رسالت کے مرتکب نہیں ہیں؟ کیا ان پر حد جاری نہیں کی جا سکتی؟ کیا آج تک ان مذہبی شعبہ بازوں نے جو آج اقتدار کے لئے شعبدہ بازیاں دکھا رہے ہیں اس سانحہ کی مذمت کی؟ اب ذرا ان مذہبی قاتلوں کے ترجمان کا بیان بھی دیکھ لیا جائے جو اس نے ان معصوموں کے قتل کے جواز میں پیش کیا۔
طالبان کے ترجمان محمد خراسان کا کہنا ہے کہ مجاہدین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ صرف بڑے بچوں کا قتال کریں۔ پشاور کی کارروائی سنت نبوی کے عین مطابق ہے کیونکہ نبی کریم نے بنو قرنطبہ کے قتال کے وقت یہی شرط مبارک عائد کی تھی کہ صرف ان بچوں کو قتل کیا جائے جن کے ”زیر ناف“ بال دکھائی دینا شروع ہو گئے ہیں۔ بچوں اور عورتوں کا قتل عین رسول پاک کی تعلیم کے مطابق ہے“۔
اعتراض کرنے والے صحیح بخاری جلد پانچ حدیث ایک سو اڑتالیس کا مطالعہ کریں“۔ انا اللہ حضور پاک کا نام استعمال کرکے قتل عام کا جواز پیدا کرنا اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اس کو کفار کے قتل سے ان معصوم بچوں کا قتل عام کہا جائے جو رسول کی امت، کلمہ گو اور فرشتوں کی طرح معصوم تھے۔ کیا آج طالبان کے فرنٹ مین فضل الرحمن اور اس کے گروہ کے افراد سے قوم یہ سوال کرے گی یا یہ سانحہ بھی ان اسلام فروشوں کے کارناموں میں شامل کرکے اسے عین اسلام کے مطابق قرار دیا جائے گا۔ کیا سوئیڈن اور فرانس کے واقعات ان جلادوں کے کارناموں کی تعبیر نہیں ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں