لمبے ہاتھوں اور گہری جیبوں والے 44

فلسطینیوں کے حقوق کی بات کرنا یہود دشمنی نہیں ہے

جب بھی فلسطینیوں کے حقوق کی بات شروع ہوتی ہے ، خواہ وہ کتنی ہی معروضی کیوں نہ ہو ، دو طرح کے فوری ردِّ عمل سامنے آتے ہیں۔ اسرائیل کے حمایتی ایسی ہر کسی رائے کو ، یہود دشمنی، یاAntisemitismکا غلغلہ بلند کرکے ، مختلف میڈیا میں سنسر شپ کا سلسلہ شروع کر وادیتے ہیں۔ دوسری جانب وہ لوگ جو تاریخی حقائق سے یا تو واقف نہیں ہوتے یا دانستہ طور پر حقائق سے رو گردانی کرتے ہیں، موجودہ تنازعہ میں صرف اور صرف حماس کو موردِ الزام قرار دیتے ہیں ، اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر صاحبِ رائے ، حماس کو فنا کرنے کا مطالبہ کرے۔ان میں بدقسمتی سے ایسے جریدوں کے مدیر بھی شامل ہیں جن سے ہمارا تعلق ہے۔
اس کے باوجود عالمی رائے عامہ میں ایسے بھی ہیں جو حقائق کو سمجھاتے ہوئے، تنازعہ کے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں ’ بیتسیلم ‘ B’Tselem جیسی اسرائیلی تنظیم ، میڈیا ادارہ Democracy Now، اور نیو یورک ٹائمز، یا گارڈین جیسے میڈیا اداروں کے کچھ صحافی اور مبصر بھی شامل۔
اس ضمن میں نیو یورک ٹائمز نے ایک تفصیلی مضمون میں ان فوری محرکات کا جائزہ لیا ہے، جو موجودہ گمبھیر صورتِ حال کا باعث بنے۔ اس رپورٹ میں اسرایئلی پارلیمان کے سابق اسپیکر ، اور عالمی صہہونی تنطیم کے سابق چیئر مین، Avraham Burg کے ایک بیان کا حوالہ دیا گیا ہے، جنہوں نے کہا کہ، ”یہ سالہا سال سے غزّہ پر جبری حصار، سخت پابندیوں ، اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں پر کئی دہایﺅں سے جاری قبضہ، اور اس سے زیادہ عرصہ سے اسرایئلی ریاست میں جاری عربوں کے ساتھ نسلی امتیاز، کا قدرتی نتیجہ تھا“۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ، ’آتش گیری کے سب اسباب پہلے ہی سے موجود تھے، جن کو صرف ایک چنگاری کی ضرورت تھی، اور یہ چنگاری مسجدِ اقصٰی میں ہونے والے واقعات نے فراہم کر دی“۔
مسجد اقصیٰ کی ضمن میں نیویورک ٹائمز کے اسرائئلی بیورو چیف کی تحریر توجہہ طلب ہے۔ اس نے لکھا کہ، ” اس ہفتہ غزہ سے پھینکے جانے والے پہلے راکٹ سے ،ستائیس دن قبل ، پہلی رمضان کو اسرائیلی پولس مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوئی، اور وہاں کے فلسطینی کارکنوں کو دھکیلنے کے بعد ، اس نے لاﺅڈ اسپیکروں کے وہ تار کاٹ دیئے جن سے مسجدِ اقصیٰ کے چار تاریخی میناروں سے اذان اور نماز کی کاروائی نشر ہونی تھی۔ یہ دراصل 13 اپریل کی شام تھی۔ اس دن اسرایئل میں ان لوگوں کی یاد منائی جاتی ہے، جو اسرایئل کے لیئے جنگوں میں ہلاک ہوئے۔اس دن بیت المقدس میں یہودیوں کے مقدس مقام ، دیوارِ گریہ، پر اسرایئلی صدر کا خطا ب بھی ہونا تھا، اور اسرائیلی افسروں کو خدشہ تھا کہ، ان کی آواز اذانوں میں دب جائے گی۔ اسرایئلی پولس نے تا ر کاٹنے کے واقعہ کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی، اور بیرونی دنیا میں بھی یہ خبر نہیں پھیلی۔“
لاﺅڈ اسپیکروں کے کاٹے جانے کے فوراً بعد اسرایئلی پولس نے بیت القدس کا وہ چھوٹا سا میدا ن بھی بند کردیا تھا جو وہاں ”دمشقی دروازہ‘ ‘کے باہر ہے۔ یہ وہ جگہہ ہے جہاں فلسطینی مسلمان شام کی نمازوں کے بعد جمع ہوکر رمضان مناتے ہیں۔ پولس کاکہنا تھا کہ اس نے ایسا زیادہ بڑے مجمع کو کنٹرول کرنے کے لیئے کیا تھا تاکہ امن و امان کی صورتِ حال نہ پیدا ہو۔ فلسظینیوں نے اسے ایک اور ذلت انگیز اقدام قرار دیا ، جس کے بعد ان میں اور پولس میں تصادم کئی دن جاری رہا اور اپریل کے تیسرے ہفتہ میں اس میدان کو کھولے جانے کے بعد اس میں کچھ کمی آئی۔
اسی دوران فلسطینی نوجوانوں نے اسرایئلیوں پر حملے شروع کیے اور سوشل میڈیا پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے جواب میںایک شدت پرست اسرائئلی تنظیم، نے جوابی کاروائی شروع کی اور ’ عربوں کو مارنے ‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ایک فلسطینی گھر پر حملہ کیا ، اور ان گاڑی سواروں پر تشدد کیا جو ان کے نزدیک عرب تھے۔
اسی اثنا میں یروشلم کے مشرقی علاقہ، شیخ جراح ، میں ایک اور تنازعہ زور پکڑ رہا تھا۔ یہاں کم ازکم بیس سال سے اس علاقہ سے فلسطینوں کی بے دخلی کے مقدمات عدالتوں میں جاری ہیں۔ یہ ایک سابقہ فلسطینی علاقہ ہے جہاں فلسطینی سالہا سال سے آباد ہیں۔ اسرائیلی قوانین کے مطابق اسرائیلی یہودی تو ان علاقوں میں بس سکتے ہیں جہاں وہ قیامِ اسرایئل سے پہلے رہایئش کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن اسرایئلی عربوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ اسی ماہ ایسے چھ عرب خاندنوں کے خلاف فیصلہ ہونے کا امکان ہے۔ فلسطینی اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اور ان پر اسرایئلی پولس کے حملوں اور تشدد کی خبریں آئیں ہیں۔
حالیہ تنازعہ میں حماس کا پہلا راکٹ دس مئی کو پھینکا گیا۔یہاں یہ بھی یا رکھنا کہ اسرایئل اور فلسطینیوں کے درمیان موجودہ بڑا تنازعہ کئی سال بعد شروع ہوا ہے۔ اب سے پہلے اسرائیل اور حماس میں بڑا جھگڑا تقریباً سات سال پہلے ہوا اور پہلا فلسطینی انتفاضہ سولہہ سال قبل ہوا تھا۔
حالیہ قضیہ کے سیاسی محرکات بھی بہت اہم ہیں۔ گزشتہ کئی سال سے اسرایئلی وزیر اعظم نیتھنیاہو، Nethanyu اایسی اقلیتی حکومتیں بنانے پر مجبور ہیں، جن میں انہیں دایئں بازو کے شدت پرست اسرائیلی مذہبی گروہوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ان کو فوجداری مقدموں کا بھی سامنا ہے۔ اپنی سیاسی اور ذاتی بقا کے لیئے وہ آج کل بھی شدت پرست یہودی جماعتوں سے مذاکرات اور لین دین میں مصروف ہیں۔ فلسطینیوں کے خلاف حکومت کی سختی ان مذاکرات میں ان کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ایسا وہ وہ گزشتہ تقریباً بیس سال سے کرتے رہیں۔ ان کے نزدیک فلسطینی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
دوسر ی جانب فلسطینی بھی ایک سیاسی خلفشار کا شکار ہیں۔ فلسطینیوں کی قومی حکومت، Palestinian National Authority چلاتی ہے۔ یہ ایک عارضی انتظام ہے جو ، اوسلو معاہدوں کے بعد طے پایا تھا۔ اس میں بنیادی کردار PLOکی باقیات کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کے PLO کو سالہا سال خود اسرایئل نے کمزور کیا۔ ایک زمانے تک اسرایئل اور اس کے مغربی حامیوں بالخصوص امریکہ کی نظر میں PLO اور اس کی ساتھی جماعتیں دہشت گرد جماعتیں تھیں۔ ان جماعتوں کو کمزور کیئے جانے کاایک اہم نتیجہ یہ تھا، کہ فلسطینیوں کے حقوق اور اہم مدنی معامالات کھٹائی میں پڑ گئے۔ جس کے نتیجہ میں دایئں بازو کی فلسطینی مذہبی جماعت حماس کو فروغ ملا۔
اور فلسطینی دو واضح گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ کمپ ڈیوڈ اور اوسلو معاہدوں سے قبل PLO اور اس کی حامی جماعتیں اسرایئل کو تسلیم نہیں کرتی تھیں۔ ان معاہدوں کے بعد ان کے رویوں میں نرمی پید ا ہوئی۔ لیکن یوں وہ دایئں بازو کے مذہبی گروہوں کے نزدیک غدار قرا پایئں جس کا فایئدہ حماس کو پہنچا۔
حماس PNA کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتی اور اس کا غزہ پر مکمل کنٹرول ہے جہاں وہ حکمران ہے۔ فلسطینی معاملہ کے ہر طالب علم کو جان رکھنا چاہیئے کہ حماس کے قیام میں، اسرائیلی جارحیت اور اسرایئلی حکومت کے ہاتھوں فلسطینیوں کی شدید حق تلفی، اہم ترین عناصر ہیں۔ PLO کی شکست و ریخت کے بعد ہر اسرایئلی حکومت حماس کو بھی تباہ کرنا چاہے گی۔ لیکن کوئی بھی اسرائیل حکومت فلسطینیوں کو حق دینے کی کوئی بات نہیں مانے گی۔
موجودہ تنازعہ کے دوران تقریباً پندرہ سال بعد فلسطینی انتخابات ہونے والے تھے۔ یہ انتخابات دریائے اردن کے مغربی کنارے کے کٹے پھٹے اسرایئلی علاقہ اور غزہ دونوں ہی میں ہونے والے تھے۔ اپریل کے آخری ہفتہ میں محمود عباس نے انتخابات کے التوا کا اعلان کر دیا۔ جس کوحماس نے ان کی کمزوری قرار دیا ہے۔ اور اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اب سے پہلے کی ابتدائی سطروں سے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ موجود صورت ِ حال میں جارحیت کی ابتدا حماس نے نہیں کی تھی۔ وہ تقریباً سات سال سے غیر متحرک تھی۔ سو اس پر کوئی بھی فوری الز ام لگانا درست نہیں ہے۔ ہم بذاتِ خود حماس کے قیام اور اس کے اقدامات کے کبھی بھی حامی نہیں رہے۔ ہمارا جھکاﺅ ہمیشہ سیکولر فلسطینیوں کی طرف تھا اور رہے گا۔
ہماری دانست میں فلسطینی مسئلہ کا ،کوئی بھی حل کسی مذہبی یا مسلم جہاد میں نہیں ہے۔ سب سے سے پہلے ہمیں ماننا ہو گا کہ نازیوں کے ہاتھوں یہودی نسل کشی یا Holocaust ایک حقیقت ہے۔ یہودی من حیث القوم اپنی ریاست اور بقا کا حق رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ فلسطینی بھی اپنی ریاست اور اپنے انسانی حقو ق کا ویسا ہی حق رکھتے ہیں جیسا کہ یہودی۔
اسرائیل کے قیام ہی سے اسرائیلی ریاست نے فلسطینیوں کے ساتھ جو حق تلفی او ر ظلم کیا ہے، کینیڈا میں مقیم ممتاز آرٹسٹ امین رحمان کی نظر میں یہ ویسی ہی زیادتی ہے جو ہٹلر یہودیوںں کے ساتھ کر رہا تھا۔ ان کا اشارہ وہ نسل ک±ش اقدامات ہیں جو اسرائیلی حکومت نے روا رکھے ہیں۔
ہماری نظر میں فلسطینی معاملات معروضی زمینی حقیقتوں کی روشنی میں ہی ہوں گے۔ اور اس کا عملی نتیجہ جب ہی نکلے گا جب سب سے پہلے اسرائیل کا اہم طرح اتحادی امریکہ اور اس کے دیگر حلیف فلسطینیوں کے حقوق کو تسلیم کریں گے۔ اس ضمن میں انہیں حماس کو بھی مسئلہ کے حل میں شامل کرنا ہوگا۔ کئی مبصرین کے نزدیک یہ ایک خام خیالی ہے۔ہم بار بار کہتے رہیں گے کہ فلسطینوںکے حق کی آواز اٹھانا ، یہود دشمنی یا، Antisemitism ہر گز نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں