Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 41

فل بنچ کا فیصلہ ۔۔۔؟؟

پاکستان میں ایک عدالتی فیصلے نے کرپشن کی دنیا میں ہل چل مچا دی ہے اور اس ایک تاریخ ساز فیصلے نے بہت سارے سوالات کھڑے کردیئے ہیں جب کہ خود ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کا وقار بھی بہت ہی بُری طرح سے خطرے میں پڑ گیا ہے۔ پورے ملک میں اس عدالتی فیصلے پر بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ہر کسی کی نظریں اس فیصلے اور اس کے اثرات و ردعمل پر جمی ہوئی ہیں۔ معاشرے کے ہر فرد اپنی اعلیٰ عدلیہ سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کی فل بنچ کے اس فیصلے کا اطلاق صرف اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر ہوگا یا پھر مملکت خداداد کے تمام سرکاری افسران اور ملک کے تمام باشندگان اس تاریخ ساز فیصلے سے مستفیض ہو سکیں گے کیونکہ فل بنچ کے فیصلے میں ایک طرح سے لکونہ چھوڑ دیا گیا کہ جج اپنی اہلیہ کے اثاثوں کا جواب دہ نہیں یعنی ان کی اہلیہ کے پاس اثاثے بینک بیلنس کہیں سے بھی آجائیں، کوئی منی ٹریل بھی نہ ہو، تب بھی ان کا شوہر یعنی جج صاحبان جواب دہ نہیں ہوں گے۔
اب یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ کیا فل بنچ کے اس فیصلے کا اطلاق ملک کی تمام چھوٹی بڑی عدالتوں کے ججوں پر ہوگا اس طرح سے تمام چھوٹے بڑے سرکاری محکموں کے افسران بھی فل بنچ کے اس تاریخ ساز فیصلے سے مستفیض ہو سکیں گے۔ اس فیصلے سے پولیس، بیوروکریسی اور خود سیاستدانوں کے علاوہ کسٹم افسروں میں خوشی کی ایک نہ رکنے والی لہر دوڑ گئی ہے کہ عدلیہ کا یہ فیصلہ آگے چل کر خود عدلیہ کے لئے مشکلات کا باعث بنے گا۔ اس لئے کہ اس فیصلے سے ایک نیا پنڈورہ بکس کھل گیا ہے اگر فل بنچ کے اس فیصلے کو اس تناظر میں دیکھا جائے کہ اس کا اطلاق سب پر ہوگا تو اس سے کرپشن کے نئے دروازے کھل جائیں گے اور یہ عدالتی فیصلہ میگا کرپشن اور دوسرے بیوروکریٹس اور اعلیٰ پولیس افسروں کے کرپشن کے لئے سہولت کاری کا کردار ادا کرے گا، ہر کرپٹ بیوروکریٹ اور پولیس کے اعلیٰ افسران کرپشن کی کمائی سے اپنی بیگمات کے نام پر اربوں کی پراپرٹیاں خرید لیں گے اور اس کے بعد
جب کوئی تحقیقاتی ادارہ انکوائری کرے گا تو جس بڑے افسر کی وہ اہلیہ ہو گی وہ بڑا افسر اس عدالتی فیصلے کی وجہ سے صاف طور پر بچ جائے گا اور اگر فل بنچ اپنے اس فیصلے سے متعلق یہ وضاحت کرتی ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق دوسروں پر نہیں ہو گا تو پھر اعلیٰ عدلیہ کے فل بنچ کے اس تاریخ ساز فیصلے پر امتیازی فیصلہ کئے جانے کا لیبل لگ جائے گا کہ یہ صرف اپنے پیٹی بندھ بھائی کو بچانے کے لئے اس طرح کا متنازعہ فیصلہ دیا گیا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے متنازعہ فیصلے کے بعد یہ دوسرا بہت بڑا متنازعہ فیصلہ آیا ہے جس سے پاکستان کے اعلیٰ عدلیہ کی ساکھ کو بہت ہی بری طرح سے ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس فیصلے کے آنے کے ٹائم بہت زیادہ اہم ہیں یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت پوری کرکے سبکدوش ہو رہے ہیں اور نیا چیف جسٹس آنے کی تیاری کررہا ہے اس بیچ یہ متنازعہ فیصلہ آگیا جس نے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کو پوری دنیا میں ایک سوالیہ نشان بنا دیا ہے کہ کس طرح سے اس فیصلے کے ذریعے اپنے ایک ساتھی جج کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے جب کہ سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے اس عدالتی فیصلے کو تضادات کا مجموعہ قرار دے دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے میں اتنی قانونی خامیاں ہیں کہ اسے با آسانی چیلنج کیا جا سکتا ہے اور حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے کا سوچ رہی ہے، پہلے وہ بنچ میں شامل چار ججوں کے اختلافی نوٹ کے آنے کا انتظار کررہی ہے۔ غرض اس عدالتی فیصلے سے پاکستان کا عدالتی نظام سوالیہ نشان بن گیا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں