پاکستانی سیاست، فوجی جنرلز اور تلخ حقیقت 65

فوج کی نیوٹرل پالیسی

گزشتہ دنوں ماضی کے برعکس فوجی قائدین ایک نئی شکل میں عوام کے سامنے آئے جس پر کچھ لوگوں نے ملی جلی حیرت اور خوشی کا اظہار کیا کہ اب فوج میں بھی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے اور آپ جو بھی کہیں مگر اس کا کریڈٹ بھی عمران خان کو جاتا ہے کہ جنہوں نے ملک کی معیشت کو مضبوط کیا یا نہیں مگر انہوں نے فوج کو بیرکوں میں واپس بھجوانے کی ابتداءکردی ہے۔ اس بار فوج کو یہ ماننا پڑا کہ انہوں نے عمران خان کی ہر موقع پر مدد کی یعنی جب تک مدد کی حکومت برقرار رہی اور جیسے ہی سیڑھی ہٹائی حکومت زمین بوس ہو گئی۔ نہ صرف فوج کے ترجمان اور آئی ایس پی آر جنرل بابر افتخار کو من پسند صحافیوں کو بلا کر فوج کا موقف پیش کرنا پڑا بلکہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو بھی فعال ہونا پڑا اور انہوں نے آرمی کے فارمیشن کمانڈرز اور ریٹائرز فوجی افسران کو وضاحت دینا پڑ گئی اور فوج کی پوزیشن کو واضح کرنے کی ناکام کوشش کی۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان کی سیاست میں فوج کا جو کردار رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایوب خان سے شروع کریں اور قمر جاوید باجوہ تک نظر ڈالیں تو صاف دکھائی دے گا کہ کیا کچھ ہوتا رہا اور کیونکر آج فوج خود کو نیوٹرل کہہ کر تمام گندگی سیاستدانوں کے کھاتے میں ڈال کر الگ کھڑی ہونا چاہتی ہے۔ یقیناً آج کے سیاستدان بھی فوج کی پیداوار ہیں، ماضی میں جو کرپشن ہوتی رہی فوج کو اس معاملہ میں کلین چٹ نہیں دی جا سکتی۔ ایک وقت تھا کہ کسی روڈ پر ایک فوجی جوان نظر آجاتا تھا تو پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگتے تھے مگر آج فوج کے قربانی دینے والے جوانوں کا سودا اُن کے چند فوجی جرنلوں نے کرکے پوری فوج کو متنازع بنا دیا ہے۔ اب تو لوگ ببانگ دھل یہ کہتے ہیں کہ فوج کے جنرل پیشہ ورانہ مہارت سے دور رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کے طور پر کام کررہے ہیں۔ چند کو چھوڑ کر تمام سابقہ فوجی جرنلوں کی کرپشن کی داستانیں زبان زد و عام ہیں۔ جہاں سیاستدانوں کی انویسٹمنٹ ملک سے باہر ہیں وہیں یہ سابق جنرل بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے یعنی ملک کو سب نے مل کر لوٹا اور عوام کو بدحالی کی بدترین سطح تک پہنچا دیا گیا۔ موجودہ آرمی چیف کی پوزیشن پر بھی سوالیہ نشان اُٹھ رہے ہیں۔ عمران خان کا بیانیہ تھا کہ مجھے ہٹایا تو خطرناک ہو جاﺅں گا انہوں نے ثابت کر دکھایا اور وہ اتنے خطرناک ہوئے کہ جاتے جاتے فوج کے چند جرنلز، میڈیا، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کے ججوں اور چند سازشی سیاسدانوں کے چہروں سے نقاب اُٹھا گئے اور اعلیٰ سطح پر بیٹھے ملک کے سوداگروں کو ننگا کر گئے۔ رہا سوال امریکہ کی دھمکی کا تو سپرپاورز کا وطیرہ ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہیں اور ہمیشہ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو نگلتی رہی ہیں۔ یہاں تو معاملہ ایک اسلامی مملکت کا ہے جو ایٹمی صلاحیتوں سے بھی مالا مال ہے مگر ایمان کی قوت سے محروم ہے۔ ماضی کے حکمرانوں اور مسلمانوں نے جنگیں ہتھیاروں اور فوج کی تعداد کے بل پر نہیں جیتیں بلکہ تمام جنگوں میں ان کا جذبہ جہاد، اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور ذات باری تعالیٰ پر مکمل بھروسہ اور اعتماد ہونے کے باعث جیتی ہیں۔ جس کا آج کے مسلمان میں فقدان ہے۔ ہمارے رسول آخری زماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ پیشن گوئی اپنے زمانے میں ہی کرگئے تھے کہ مسلمانوں میں موت کا خوف اور دولت سے محبت پیدا ہو جائے گی اور ان پر کافروں کی ہیبت طاری ہو جائے گی تو آج نبی کی کہی ہوئی باتیں سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود خود کو کمزور سمجھ رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے وہ بینک اکاﺅنٹس ہیں جو یورپی ممالک میں ہیں اور جن میں عوام کے لوٹے ہوئے اربوں روپیہ جمع ہیں اور پیسہ کی یہی محبت اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی سکت نہیں دے رہی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کا معاملہ بھی بظاہر مشکوک نظر آتا ہے مگر عوام جب آصف زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن جیسے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو انہیں یاد آجاتا ہے کہ گزشتہ 70 سالوں میں ملک میں ان سیاستدانوں اور حکمرانوں نے کون سی دودھ کی نہریں بہاد یں۔ کاش عمران خان اپنے چار سال مکمل کرتے اور پھر الیکشن کے ذریعہ دوبارہ آتے تو شاید بہتر ہوتا مگر شاید یہی کچھ ہونا تھا اور انہیں اسی طرح پذیرائی ملنا تھی وگرنہ تو عمران خان کی حکومت کے پاس بھی عوام کے پاس واپس جا کر دکھانے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ عمران خان کا امریکہ مخالف بیانیہ بھی بہت اچانک اور بھونڈے انداز میں سامنے آیا۔ ملکوں کے درمیان رویے اس طرح کام نہیں کرتے بلکہ سیاسی ڈپلومیسی کے ذریعہ معاملات کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اپنے مکمل مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت سمجھداری سے ملکی معیشت کی مضبوطی کے لئے کام کیا جاتا ہے مگر یہاں تو ہر معاملہ میں وہ طاقتیں بھی ملوث رہیں جو آج خود کو نیوٹرل کہہ کر دامن چھڑا رہی ہیں مگر شاید یہ ممکن نہ ہو اس لئے کہ امریکہ سرکار نے کبھی جمہوریت اور کبھی آمریت کو ویل کم کیا اور اپنے مفادات کی بھینٹ سب کو چڑھا دیا۔ پاکستان کی بے وقوفی تھی کہ وہ امریکہ اور روس کی جنگ میں کود گیا اور یوں دنیا بھر کا توازن بگڑ گیا۔ آج 70 سالوں بعد اچانک ایک کی گود سے اچھل کر کسی دوسرے کی گود میں کس طرح بیٹھا جا سکتا ہے؟ ہاں ہمیں ماضی کو سامنے رکھ کر اور فوج، تمام سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور کاروباری حلقوں کو مل بیٹھنا چاہئے کہ یہی چیز ملک کی بقاءاور سلامتی کی ضامن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں