انتخابات اور انتخابی انداز 17

فیصلوں میں تاخیر

پاکستانی فلمی دنیا کے نامور کہانی نویس، گیت و مکالمہ نگار مسرور بھائی المعروف مسرور انور کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے میں بھی روزانہ ڈائری لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان کے بقول کبھی سالوں پہلے کی ڈائری سے ایسی بات مل جاتی ہے جو ایک نئے خیال کا موجب بنتی ہے۔میںنے بھی گزشتہ روز اپنی2016 اور 2017 کی ڈائری کو سرسری دیکھا تو یہ موضوع مل گیا: 8 اکتوبر 2016 کی خبر ہے کہ سپریم کورٹ نے موت کی سزا پانے والے ایک شخص کو قید سے رہائی کا حکم دیا جو 2 سال قبل زندگی ہی سے آزاد ہوچکا تھا۔ اِس کے انتقال کی خبر جیل حکّام نے عدالتِ عظمیٰ کو نہیں دی تھی۔ بالاخر اس کو بعد از مرگ، 19 سال بعد انصاف مِل گیا۔ یہ فوجداری کیس تھا، دیوانی کیسوں میں اکثر اس وقت فیصلے کئے جاتے ہیں جب انصاف کا طالب دوسری دنیا میں جا چکا ہوتا ہے۔ پھر نومبر 2016 میں سزائے موت کے ایک قیدی کو 24 سال بعد سپریم کورٹ نے ناکافی شہادتوں کی بِنا پر بری کر نے کا حکم دیا۔7 مارچ 2017 کو سپریم کورٹ نے 20 سال سے پابند سلاسل دہرے قتل کے ملزم کو جرم ثابت نہ ہونے پر رہا کر دیا۔ ہائی کورٹ سے اِس قیدی کو 2 مرتبہ سزائے موت ہوئی۔ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ گواہوں نے سچ نہیں بولا تھا۔ حیرانگی ہے کہ 6 کنال کے فاصلے سے اندھیرے کے باوجود زخم بھی دیکھ لئے گئے۔ اپنے مسائل اور شکایتوں کی داد رسی کے لئے عوام کی رسائی زیادہ تر تحصیل دار، اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے دفاتر تک ہی محدود ہوتی ہے۔ ضلع کچہریوں میں نسبتاََ بڑے کیس آتے ہیں جہاں بے انتہا وقت لگتا ہے نیز وکلائ اور قانونی چار ہ جوئی کی فیسیں عام آدمی کے بس سے باہر ہوتی ہیں۔ ضلع کچہری میں کئے گئے فیصلوں پر معینہ وقت کے اندر سائل کو اپیل کا حق حاصل ہوتا ہے، پھر حتمی فیصلے کے بعد اگر آپ استطا عت رکھتے ہیں تو ہائی کورٹ میں جا سکتے ہیں۔ہائی کورٹ وہ جگہ ہے جہاں ججوں کی واقعی بہت کمی ہے۔ ایک کیس کو جج مکمل پڑھتا ہے اِس کے لئے وقت اور توانائی دونوں درکار ہیں یہیں پر کیس کی ا سٹڈی اور فیصلے میں دیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں بھی یہی صورتِ حال ہوتی ہے۔ یہ تو بہت اآسانی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف میں بہت تاخیر کی جاتی ہے گویا کہ یہ تاخیر ” ارادتاََ کی جا رہی ہو “۔یہ جملہ ہی غلط ہے کیوں کہ ماتحت عدالتوں پر حل طلب کیسوں کا پہلے ہی بے حد دباﺅ ہو تا ہے، سونے پہ سہاگہ ( بعض وجوہ کی بِنا پر) تاریخوں کو آگے بڑھا ئے جانے کا سلسلہ۔ ایک سادہ سے کیس کو وکلائ کی جانب سے مزید پیچیدہ کیا جانا اور پھر ’ اسٹے آرڈر کا حصول ‘، پولیس کی جانب سے ابتدائی چالان میں تاخیر یا اس کا ناقص ہونا، پیشہ ور گواہان یا گواہان کا منحرف ہونا ، جانبین کے وکلاءکا ارادتاََ تاخیری حربے استعمال کرنا یہ وہ چند اسباب ہیں جو عدالتی فیصلوں میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں۔ جب دہشت گردی اور اِس سے متعلق کیسوں کو خصوصی طور پر پر الگ سے سنا جاتا ہے تو بعض حلقے گلا پھاڑ پھاڑ کر بے انصافی کی دہائی دینے لگتے ہیں۔اب اِس عدالتی فیصلوں میں تاخیر کا کیا کیا جائے؟ خصوصی عدالتوں، مجسٹریٹوں کے ہاں، نیب ( قومی احتسابی عدالتیں) ، انسداد ِ دہشت گردی کی عدالتوں، بینکوں کی عدالتوں میں شنوائی کے منتظر بہت سے کیس ز یرِ التواہیں۔ طرہءامتیاز یہ کہ اِن کی موجودگی میں مزید کیسوں کا اآئے دِن اضافہ ہو تا رہتا ہے۔ گویا جتنی تعداد میں حل طلب کیسوں کے فیصلے ہوتے ہیں تقریباً اتنے ہی نئے کیس اآجاتے ہیں، اِن میں پہلے سے زیر ِ التوا کیس بھی شامِل کریں تو یہ تعداد سر چکرانے کے لئے کافی ہو گی۔اب اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو مستقبل قریب میں یہ تعداد کہاں تک پہنچے گی؟ ضرورت اِس بات کی ہے کہ مقدمات کے طریقہئ کار کو مزید آسان بنایا جائے، خاص طور پر قانونِ شہادت اور عدالتوں میں فیصلہ کے خلاف اپیل کے عمل میں اصلاحات کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اِس سلسلہ میں قانون سازی کی جائے۔ بعض ممالک میں مقدمات کی تعداد کے پیشِ نظر جنگی بنیادوں پر عدالتیں قائم کی جاتی ہیں جو دِن رات ان کو سنتی ہیں اور اِس طرح کم مدّت میں فیصلے ہو جاتے ہیں۔ بعض ممالک میںعمومی نوعیت کے کیسوں کی پہلے ہی سے ایک معیا د مقرر ہوتی ہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ جِس طرح حج کی قرعہ اندازی میں جِن لوگوں کے نام نہیں نکلا کرتے انہں اگلی مرتبہ حج پر جانے کی تر جیحی فہرست میں شامِل کر لیا جاتا ہے بعنیہ اِسی طرح جو مقدمات جو ایک مقرر کردہ مدت سے زیادہ التواءمیں رہیں ان کی ترجیحاََ پہلے شنوائی کی جائے۔ ہمارے ہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ پولیس اور عدالتیں ان مقدمات کو، جہاں اعلیٰ قیادت ملوث ہو، دوسرے مقدمات پر فوقیت دیتے ہیں۔ عام چوری چکاری کا کیس اور خواتین پر تشدد کے مقدمات لٹکتے ہی رہتے ہیں جب تک میڈیا میں اِن کی دہائی نہ دی جائے۔سنگین نوعیت کے کیسوں کی تاریخوں پر تاریخ لینے کے تاخیری عمل کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔ کتنے ہی وکلاءصرف اسی وجہ سے ارب پتی بن چکے ہیں اب ان کو اِس ’ کارِ خیر‘ سے کنارہ کر لینا چاہیے۔ایک اور رائے یہ بھی ہے کہ ہائی کورٹوں میں وہی کیس جانا چاہییں جو واقعی ضروری ہوں۔ایک مرتبہ میرا کسی مکان کے سلسلے میں عدالت جانا ہوا۔ وہاں کثیر تعداد میں زرعی، دیہی، شہری زمینوں کے جھگڑوں کے بے شمار کیس تھے۔پھر ایک زمیں پر کئی کئی دعوے دار نظر اآرہے تھے۔ اپنے جائز ’ کھیوٹ اور خسرا نمبر ‘ کے حصول کے لئے جوتے گھسائی اور پٹواریوں کے مسائل الگ۔اگر اِن جگہوں سے ناجائز رشوت اور مٹھی گرم ختم کر دی جائے تو ایک بڑی تعداد میں ایسے مقدمات از خود کم ہو سکتے ہیں۔ اگر لوگوں کے دِلوں میں اللہ کا نہیں تو کم از کم حکومت اور قانون کا کوئی خوف ہو تو یہ زمینوں پر قبضے، لینڈ مافیا اور جعلی کاغذات کا دھندہ خاصی حد تک کم ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں