نئے صوبے کیوں نہیں؟ 84

فیٹف، پاکستان اور اُمید و پیہم

پاکستان ایک دفعہ پھر فیٹف سے نکلنے کی اُمید و پیگم کی کیفیت میں ہے۔ وہ تمام سفارشات اور شرائط جو مالیاتی ادارے کی جانب سے پاکستان سے مانگی گئی تھیں تقریباً مکمل ہونے کا اشارہ دے رہی ہیں پر نظرثانی کی جائے گی۔ پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ میں پچھلی حکومت کے دوران شامل کیا گیا تھا۔ پچھلی فروری میں پاکستان کی کوششوں کو سراہنے کے باوجود اس کی حیثیت تبدیل نہیں کی گئی اور چند سفارشات پر مزید کام کرنے کی تاکید کی گئی۔ نئے وزیر خزانہ شوکت ترین جو صرف چند ماہ قبل حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کرنے کے بعد اس منصب پر فائز کئے گئے اس وقت حکومت کی معیشت کی ترقی بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ اندازہ یوں ہو رہا ہے کہ پاکستان نے طویل المدت اہداف پر قدم بڑھانے شروع کردیئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے ساتھ ساتھ ایف بی آر نے بھی کچھ نہ کچھ کامیابی کی خبریں سنانی شروع کردی ہیں۔ حکومت نے مالی سال کی ابتداءمیں جی ڈی پی کا ہدف دو اشاریہ ایک (2.1) کا تعین کیا تھا مگر اکاﺅنٹ کمیٹی کی جانب سے موجودہ مالی سال میں جی ڈ پی اس سے دُگنی سطح پر بڑھنے کے اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی آئندہ سال کے لئے پاکستان میں جی ڈی پی میں 4 فیصد اضافہ کی توقع ظاہر کی ہے۔
حکومت اپنے اعداد و شمار پر اطمینان کے ساتھ ساتھ سیاسی محاذ پر بھی پُرسکون نظر آرہی ہے۔ اپوزیشن خود اپنی صفوں میں ہی شدید انتشار کا شکار نظر آتی ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تقریباً غیر فعال ہو چکی ہے۔ اجلاسوں کے بعد بیانیے اور اعلامیے ضرور جاری کئے جاتے ہیں مگر اُن میں کتنی حقیقت ہے اس کا اظہار بھی ہو رہا ہے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی پُرانی روشنی روش کی طرف لوٹ چکی ہیں۔ پیپلزپارٹی اس وقت مجموعی طور پر ایک مضبوط طریقہ کار پر اصرار کررہی ہے اُس نے آئینی طور پر موجودہ حکومت سے مزاحمت کرنے کا راستہ اپنانے کا اعلان کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسمبلیوں میں قانون سازی سے متعلق کارروائیوں میں شرکت کا عندیہ بھی دیا ہے۔ یہ لائحہ عمل جمہوری عمل کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے اور خود اس کی اپنی صفوں میں بھی استحکام کی صورت پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ پی پی پی کی سندھ حکومت اس وقت وفاق سے مستقل محاذ آرائی میں ہے۔ کراچی امپروومنٹ پیکیج سے لے کر پانی کی تقسیم تک حکومت سندھ وفاق سے سوالات اور احتجاج کرتی نظر آتی ہے مگر حکومت سندھ خود اپنی ذمہ داریاں مکمل کرنے میں کیوں ناکام رہی اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔
شہری اور اندرون سندھ کا کوئی بھی مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اندرون سندھ اور شہری سندھ دونوں میں زبوں حالی نظر آتی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد سندھ کے بڑے شہر ہونے کے باوجود مردم شماری کے غلط اعداد کا شکار نظر آتے ہیں اور اس وجہ سے اسمبلیوں می کم نمائندگی حاصل کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اس مد میں ابھی تک کسی قسم کی بھی احتجاجی پیشرفت کرنے کا کوئی ارادہ کرتی نظر نہیں آرہی۔ وفاق نے اس دفعہ مالی امداد کے ضمن میں حکومت سندھ کے بجائے براہ راست منصوبوں پر خرچ کرنے کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر حکومت سندھ بنیادی مسائل حل کرنے کی ناکامی کے ساتھ ساتھ وفاق سے محاذ آرائی میں مصروف رہنے کے علاوہ پنجاب اور سندھ جیسے کارڈ کھیلتی رہی تو ممکن ہے کہ وفاقی حکومت کسی دوسرے آپشن پر غور کرنے لگے۔
سندھ میں نہ صرف تحریک انصاف کے نمائندوں بلکہ کئی اطراف سے گورنر راجا کے نعرے سنائی دیئے جانے لگے ہیں اگر ایسا ہوا تو یہ یقینی طور پر پیپلزپارٹی کے حق میں انتہائی نقصان دہ ہوگا۔ ن لیگ کی سیاست خود اپنی جماعت میں شدید کشمکش میں مبتلا نظر آتی ہے۔ شہباز شریف قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے سربراہ اور ن لیگ کے صدر ہونے کی حیثیت سے مفاہمتی اور اداروں سے تنازعات میں نہ اُلجھنے کے اعلانات کرتے ہیں اور مریم نواز اس کے برعکس بیانات دیتی ہیں۔ نواز لیگ میں یقینی طور پر اس وقت شدید اختلافات نظر آرہے ہیں۔ استعفوں اور لانگ مارچ کے اعلانات اب بھی آرہے ہیں مگر اس کا اصرار کرنے والے وہ لوگ ہیں جو خود ویسے ہی خالی ہاتھ ہیں۔ سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ اگر ن لیگ اپنی مزاحمت کے طریقہ کار ہیں پر اتنی سنجیدہ ہے تو اب تک اس پر کسی قسم کی پیش رفت کیوں نہیں ہوئی۔ استعفیٰ دے کر پنجاب اور قومی اسمبلیوں سے فارغ کیوں نہیں ہوتے بلکہ ضمنی انتخابات کے علاوہ سینیٹ کے الیکشن میں حصہ دار کیوں بنی بلکہ اس وقت تو ن لیگ نے کئی قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی بھی قبول کی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ چوہدری نثار کا سیاست میں لوٹنا اتنا معمولی نہ ہو جتنا اُسے فی الحال ظاہر کیا جارہا ہے۔ شہباز شریف کو اپنی جماعت میں مزاحمت کا سامنا ہے یقینی طور پر۔ اگر نواز شریف ان کے طریقہ سیاست پر اثبات کا اشارہ دیتے بھی ہیں پھر بھی جماعت کے اندر ایک دراڑ موجود رہے گی گو کہ ن لیگی اس موضوع پر گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
حکومت کے اپنے حلقوں میں بھی جہانگیر ترین کی صورت ایک فارورڈ بلاک سامنے آیا ہے۔ اس کی جس صورت میں بھی تشریح کی جائے مگر یہ حقیقت ہے۔ 2018ءکے انتخابات کے دوران یہ بارہا کئی حلقوں کی جانب سے کہا جاتا رہا ہے کہ تحریک انصاف ان لوگوں کی بجائے جو ابتداءہی سے اس کے نظریاتی حلیف اور محض اس کے نظریہ کی بنا پر اسے سپورٹ کرتے رہے ہیں ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیئے گئے جو دوسری جماعتوں سے محض اس طرف اس لئے آئے تاکہ کسی نہ کسی طور حکومت میں شامل رہیں۔ ظاہر سی بات ہے ایسے لوگوں کی وفاداریاں اپنے مفاد سے زیادہ اور جماعت سے کم ہوتی ہیں، ورنہ کثیر تعداد اس وقت ایسے لوگوں کی ہوتی جو اس نظریہ پر کاربند رہتے کہ چونکہ تحریک انصاف اس نظریہ اور نعرہ کی بنیاد پر انتہائی میدان میں اُتری تھی کہ احتساب بلاتفریق و امتیاز کیا جائے گا۔ 2 نہیں بلکہ ایک پاکستان کی بنیاد ڈالی جائے گی، جس میں سب کے حقوق یکساں ہوں گے۔ اس لئے جہانگیر ترین کو مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے آپ کو الزامات سے بری کروانا چاہئے۔ 40 کے قریب نمائندگان جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہ ایک الگ سیاسی جماعت کی صورت اختیار کریں اور 2023ءکے الیکشنز میں اپنے طور پر حصہ لینے کی کوشش کریں۔
حکومت اس وقت بجٹ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ معاشی انڈیکس بہتری دکھا رہے ہیں مگر عام آدمی مستقل مہنگائی کا شکار ہے۔ بجٹ کو پاس کروانے میں حکومت کو تعداد درکار ہو گی گو کہ اپوزیشن کے کئی حلقوں سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ زیادہ مخالفت نہیں کریں گے مگر ایک تو اسمبلیوں میں اپوزیشن خود کئی دھڑوں میں تقسیم ہے اور اس کے علاوہ سینیٹ کے حالیہ الیکشن میں ووٹوں کے رُخ بدلنے کا مظاہرہ ہو چکا ہے۔ حکومت پُراُمید ضرور ہے مگر فکر مند بھی ہے۔
اس وقت پاکستان کورونا جیسے بحران سے گزرنے کے باوجود اپنی معاشی پالیسیوں پر کافی حد تک عمل کرنے میں کامیاب رہا ہے اس وقت نہ صرف کرونا بلکہ دیگر کئی اہم معاملات میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا جارہا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی ہوئی۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں جس کی صدارت عمران خان کے حصے میں آئی، مختلف عالمی اداروں اور ممالک کے سربراہان نے پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔ پاکستان نے ایک ارب شجرکاری کے ہدف کو پورا کیا ہے اور 9 ارب مزید درخت لگانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے عالمی برادری سے اپنے خطاب میں اپیل کی ہے کہ وہ بھرپور طور پر ایک دفعہ پھر جنگلات کو محفوظ رکھنے پر زور دیں تاکہ فضائی آلودگی سے بچا جا سکے اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر اور صحت مند ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کی ذمہ داری اور حقیقت اس کرہ ارض پر بسنے والے ہری ذی ہوش پر عائد ہوتی ہے۔ معاشرہ افراد کے مجموعہ اور اس کے برتاﺅ سے وجود میں آتا ہے۔ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے ہر ایک کو متحرک ہونا ہو گا اور اپنے حصے کا کام انجام دینا ہوگا تبھی عالمی طور پر ماحولیاتی بہتری کی صورت نکل سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں