توہین 59

قائد اعظمؒ، زمزمہ پاکستان اور صبا اکبر آبادی

آج کل کرکٹ کے شوقین بچے بچے کی زبان پر بابر اعظم، فواد عالم اور شاہین شاہ آفریدی کا نام ہے، بجائے قائد اعظم کے۔ ہمارے جیسے ملکوں میں کرکٹ بہت مقبول کھیل ہے، قیام پاکستان سے پہلے گھر گھر شاعری کا دور دورہ رہا ہے۔ ہر دور میں ہر علاقے میں شاعروں کی شخصیت کو لوگ والہانہ انداز میں محبت سے اپنے دلوں میں رکھتے تھے۔ شاعروں کی شہرت اپنے اپنے علاقوں تک ہی محدود رہتی تھی، اس زمانے میں ٹی وی، ریڈیو کا رواج زیادہ عام نہیں تھا، جو کچھ چھپ کر اخباروں رسالوں میں آ جاتا یا شاعروں کے دیوان چھپ کر زباں زد عام ہو جاتے تو وہ مقبولیت کی انتہاﺅں پر پہنچ جاتا جیسے کہ موجودہ زمانے میں شاہد آفریدی، فواد عالم، ویرات کوہلی، شعیب اختر، وسیم اکرم، جاوید میانداد مقبول ترین کرکٹر میں شمار ہوتے ہیں۔ اس ہی طرح خواجہ محمد امیر کا شمار آگرہ کے خوبصورت اور مقبول ترین نوجوان شاعروں میں ہوتا تھا۔
خواجہ محمد امیر اپنے دور کے نہ صرف خوبصورت اور جاذب نظر شخصیتوں میں شمار ہوتے تھے بلکہ وہ شاعری کے تمام اصناف پر یکساں قدرت کے حامل سمجھے جاتے تھے، جیسے کہ موجودہ زمانے میں آل راﺅنڈر عمران خان اور کپیل دیو کا ہوتا ہے۔
خواجہ محمد امیر کی غزل اور مرثیہ اپنے اپنے شعبوں میں بہت اعلیٰ معیار کی ہوتی تھی، ان کی شخصیت بھی دل موہ لینے والی تھی، ان کے مداح علاقے میں بہت سے غیر مسلم بھی زیادہ شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کی تحریک میں عملی طور پر حصہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری کو بھی پاکستان کے لئے وقف کردیا، انہوں نے اسی عالم نوجوانی میں پاکستان سے محبت میں شاعری کی کتاب کا نام بھی زمزمہ پاکستان رکھا۔ جس میں پاکستان کے ساتھ ساتھ قائد اعظم کی شان اور عظمت میں اپنا کلام وقف کردیا۔
اس وجہ سے ان کے بہت سے مداح جو مسلمان نہیں تھے یا پاکستان کے حامی نہیں تھے وہ خواجہ صاحب سے مایوس ہو گئے لیکن خواجہ صاحب نے ان کی پرواہ کئے بغیر مسلسل پاکستان اور قائد اعظم کی شان میں نظمیں اور کلام تحریر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کے والد بھی اپنے علاقے میں بہت زیادہ پسندیدہ شخصیتوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ایک طرف خلافت تحریک کے رہنما تھے، دوسری طرف میڈیکل ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے سب کے دکھوں کا علاج بھی کرتے تھے، ان کے چاہنے والوں میں ہندو، سکھ، عیسائیوں کی تعداد کا شمار مشکل تھا۔ خواجہ محمد امیر نے ان سب کی پرواہ کئے بغیر اپنی توانائیاں پاکستان اور قائد اعظم کے لئے وقف کردیں۔
ان کو معلوم تھا کہ پاکستان ان کے علاقے میں کبھی نہیں بن سکتا۔ یہ جانتے بوجھتے وہ اس پاکستان کی محبت میں دیوانہ وار جدوجہد کرتے رہے اور جب پاکستان کا قیام عمل میں آگیا تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس خطے زمین کی جانب روانہ ہو گئے جو سرزمین حقائق کے بہت مختلف تھی۔
پھر ہوا بھی یوں ہی اس زمین پر، جہاں وہ سب کچھ لٹا کر آئے تو انہوں نے زندگی کو بالکل نئے انداز سے شروع کیا۔ جہاں نئے ٹرائیل کا سایہ تھا، نئی سرزمین کی فیلڈ بالکل مختلف فیلڈ ثابت ہوئی، اس نئی دنیا کے ٹرائیل میں ان کے ساتھ ہمیشہ نا انصافیوں کا سامنا رہا وہ پاکستان کی وہ محبت کے ساتھ ساتھ اس کے باوجود قائد اعظم کی محبت کو اپنے دل سے نکالنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ وہ پاکستان اور قائد اعظم کے گیت گاتے گاتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن پاکستان اور قائد کی محبت ان کے دل سے نہ نکل سکی۔ ایک مشہور نظم جو ان کی کتاب زمزمہ پاکستان سے اخذ کی گئی ہے، پیش خدمت ہے۔یہ ہے صبا اکبر آبادی کی محبت کا ثبوت جو پاکستان کی ٹیم سے ڈراپ ہونے کے باوجود اس کی محبت سے سرشار ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناحؒ
اوجِ فلک پہ مہرِ درخشاں جناح تھے
انسانیت کے نیّرِ تاباں جناح تھے
ارضِ وطن پہ ماہِ فروزاں جناح تھے
اپنا بنا کے حکمِ خدا اور رسول کو
دامن بچا کے چن لیا کانٹو سے پھول کو
دستِ فرنگ و مکرِ برہمن کو توڑ کے
بچھڑے ہوﺅں کو ایک بنایا تھا جوڑ کے
حق اپنا چھینا ظلم کا پنجہ مروڑ کے
خوابیدہ قوتوں کو جگایا جھنجھوڑ کے
قلبِ عدو کے واسطے خنجر بنے رہے
عزم و عمل کا آہنی پیکر بنے رہے
سوئی ہوئی تھی قوم جھنجھوڑا جناح نے
باطل کے ہر طلسم کو توڑا جناح نے
منہ حق کے راستے سے نہ موڑا جناح نے
آزاد کرکے قوم کو چھوڑا جناح نے
دستِ خزاں سے حسنِ چمن لے کے دے دیا
اغیار سے ہمارا وطن لے کے دے دیا
ایسا وطن کہ دولتِ دنیا و دیں جہاں
زرخیز و گل بدوش و گہر ریز و گل فشاں
دریا و کوہ و دشت و چمن کیا نہیں یہاں
ملت ہے آج کتنے خزانوں کی پاسباں
پاکیزہ و حسین بھی ایماں سرشت بھی
یہ بزمِ عیش بھی ہے جہاں میں بہشت بھی
اب یہ وطن ہے جذبہءمحکم کی یادگار
ممتاز، باکمال، درخشندہ ذی وقار
اس سرزمیں پہ اہل وطن کیوں نہ ہوں نثار
تصویرِ عزم قائد اعظم کا ہے مزار
اک مردِ حق پرست نے نقشہ بدل دیا
فتنے جو سر اٹھائے تھے ان کو کچل دیا
اب پھر وہی چمن ہے وہی گل وہی بہار
آراستہ ہوئے ہیں خیاباں چھٹے ہیں خار
ہر شاخ پر شباب ہے ہر پھول پر نکھار
اپنے وطن پہ اہلِ نظر کا ہے اختیار
یہ ارض پاک اور بھی شفاف ہوگئی
آئینہ دارِ عظمتِ اسلاف ہوگئی
اے اہلِ باغ اب کوئی کانٹا ابھر نہ آئے
اے اہلِ بزم پھر کوئی فتنہ نہ سر اٹھائے
غنچے کو حق ہے باغ میں وہ کھل کے مسکرائے
مانگو دعا بہار کی یہ رت بدل نہ جائے
تعمیر نو کے جذبہءمحکم سے کام لو
مشکل جو ہو تو قائدِ اعظم کا نام لو
اے قوم اس امانتِ عظمیٰ سے باخبر
اس پہ نہ اٹھنے پائے کبھی کوئی بدنظر
مہر ثبات ثبت ہے ایک ایک زرے پر
نعمت جو مل گئی ہے تجھے اس کی قدر کر
لیکر یقین و عزم کا پرچم نہ آئے گا
اب اور کوئی قائدِ اعظم نہ آئے گا
دنیا کی سمت دیکھ کے ہوگا نہ کچھ حصول
عرضِ مدد کبھی نہ کرے گا کوئی قبول
ان مادی ذریعوں سے ہے آرزو فضول
کافی ہے مومنوں کو بس اللہ اور رسول
پیشِ نگاہ ایک ہی مضون چاہیے
قرآن اور حدیث کا قانون چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں