حکومت کا انتخابی اصلاحات کا اعلان 22

قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کا ” U“ ٹرن!

پاکستان میں اپوزیشن کی تمام وہ جماعتیں جو مالی بدعنوانیوں میں ملوث رہی ہیں اور جن کے خلاف احتساب عدالتوں اور نیب میں کیسز زیر التواءہیں کا یکساق موقف رہا ہے کہ عمران خان نے اپنے اڑھائی سالہ دور حکمرانی میں بے شمار یو ٹرن لئے ہیں اور عمران خان کو U ٹرن خان کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔
مگر آج تمام اہل فکر و نظر نے انگلیاں اپنے دانتوں کے نیچے دبا لیں جب سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کا قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلہ آیا۔ یاد رہے کہ صدر پاکستان نے حکومت کی ایڈوائس پر کچھ مہینے پہلے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک ریفرنس بھیجا تھا جس میں سرینا عیسیٰ کی لندن میں تین جائیدادوں کی منی ٹریل پوچھی گئی تھی۔ سرینا عیسیٰ قاضی فائز عیسیٰ کی زوجہ ہیں۔ انہوں نے لندن میں جائیدادیں خرید رکھی ہیں جس کا کھوج ایسٹ ریکوری ایونٹ نے لگایا تھا جس کی سربراہی مرزا شہزاد اکبر کررہے ہیں۔ ایسٹ ریکوی یونٹ اس سے پہلے نواز شریف اور زرداری فیملی کی کئی جائیدادوں کو بے نقاب کر چکا ہے لہذا یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی کہ ایک جج کی جائیدادوں کا پتہ چلایا جائے اور اس سے ذرائع آمدن اور پیسے بیرون ملک کیسے بھیجے گئے پوچھا جائے۔
فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس پر بڑا احتجاج کیا۔ نہ صرف تحریری بلکہ زبانی بھی۔ عمران خان، وفاق وزیر قانون اور شہزاد اکبر کے خلاف بہت زہر اگلا۔
فائز عیسیٰ کے کسی بھی ایکشن سے نہیں لگا کہ وہ سپریم کورٹ کے جج ہیں۔ دوران سماعت انہوں نے نہ صرف بنچ کے دیگر ارکان سمیت چیف جسٹس کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ تک کہا کہ میرے سابق ججوں نے میری پیٹھ پر خنجر گھونپا ہے۔ کئی دفعہ اپنی وکالت کرتے ہوئے قاضی نے سپریم کورٹ کے تقدس کا خیال نہ رکھا۔ کئی وکلاءتنظیموں نے قاضی فائز کی پشت پناہی کی اور بنچ پر پریشر ڈالتے رہے جب کہ حکومت کی طرف سے فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے جو کہ تہذیب اور قانون کے دائرے میں تھے۔
سپریم کورٹ نے اپنی پہلی ججمنٹ میں قرار دیا کہ ایف بی آر اس سارے معاملے کی تحقیق کرکے ستر اَسی دنوں میں رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوائے گا۔ سپریم کورٹ کا یہ آرڈر بڑا واضح اور سخت تھا جس میں ٹائم لائن مقرر کی گئی تھی اس فیصلے پر بھی قاضی فیملی سراپا احتجاج تھی اور کسی بدمست ہاتھی کی طرح ادھر ادھر ٹکریں مار رہی تھی اور ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا۔ قاضی فائز خجل ہو کر رہ گیا۔ اگر کہا جائے کہ اب قاضی کو بطور جج سپریم کورٹ استعفیٰ دے دینا چاہئے تو غلط نہ ہوگا۔
موجودہ فیصلہ سپریم کورٹ کا اتنا بڑا U ٹرن ہے کہ اس کے سامنے عمران خان کے تمام U ٹرن پھیکے پڑ گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ نے قاضی فائز عیسیٰ کی اپیل پانچ پانچ کے حساب سے نمٹا دی جو کہ فیصلے کے راستے میں بہت بڑا ڈیڈ لاک تھا۔ اس طرح نیا بحران پیدا ہو رہا تھا تو پھر ایک جج نے اپنا فیصلہ تبدیل کرکے فیصلہ چھ، چار کردیا۔ اس طرح عدالتی تاریخ کی سب سے بڑی بددیانتی کی گئی اور اپنا پہلا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی اور انصاف کے تابوت میں کھیل ٹھونک دیا۔
دن کی روشنی میں یہ شب خون مارا گیا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے اژدھا کے سامنے یہ فیصلہ پھینک دیا گیا کہ اب اس کا پوسٹ مارٹم کریں۔ آج پاکستان کے پرائیویٹ چینلز اور سوشل میڈیا کے ہاتھوں ایسا کاغذ لگ گیا جس طرح بندر کے ہاتھوں میں ماچس آجاتی ہے۔
اس شارٹ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف قانون دان اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ بہت حیران کن ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنا ہی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ جیسے مستقبل میں کسی جج سے آمدن اور جائیدادوں کے متعلق سوال نہیں پوچھا جا سکے گا لیکن یہ بات شریعت اور ریاستی قوانین کے اصولوں کے خلاف ہے کیوں کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں جس طرح امیر المومنین حضرت عمرؓ نے دو چادروں کے سوال کا بڑی خندہ پیشانی سے جواب دیا تھا اگر سب سے کڑی نظر اور احتساب ہونا چاہئے تو وہ ججوں کا ہونا چاہئے کیونکہ ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں یہ مقدس گائے ہیں۔ جو دل اور دماغ فیصلہ کرلے وہ صادر کر دیتے ہیں۔ قانون اور آئین کو تو انہوں نے طاق پر رکھا ہوا ہے۔ جب تک کسی معاشرے میں انصاف صحیح معنوں میں نہیں ہو گا اس وقت تک وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ سپریم کورٹ کے اس بے ہودہ فیصلے پر ہر طرف سے شدید تنقید آئے گی۔ جس کے لئے انہیں تیار رہنا ہوگا۔ افسوس صدر افسوس!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں