Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 38

قتل اور معافی

ہر ملک کا ایک آئین ہوتا ہے پھر اس آئین کے تحت قوانین بنائے جاتے ہیں جن کی کوئی سرکاری حیثیت ہوتی ہے۔ اسلامی ممالک میں قانون بناتے وقت اسلامی قوانین اور احکامات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ قوانین بغیر رنگ و نسل مذہب قومیت کے سب پر لاگو ہوتے ہیں اور اس پر عمل کرنا سب کا فرض ہوتا ہے لیکن یہ تمام اصلی قوانین صرف کتابوں میں چھپے رہتے ہیں کیوں کہ ان قوانین سے کچھ اور قوانین جنم لیتے ہیں جن کی سرکاری حیثیت تو نہیں ہوتی لیکن معاشی اور معاشرتی حیثیت ان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ خاص طور پر ہمارے ملک میں یہ قوانین مرتبے اور حیثیت کے مطابق استعمال ہوتے ہیں۔ عدالتیں بنائی جاتی ہیں جہاں اس قانون کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں جن کا تعلق آئینی قوانین سے بالکل نہیں ہوتا۔ بڑے لوگ قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہونے سے مستثنیٰ ہوتے ہیں البتہ سیاسی مخالفت میں بڑے بڑے سیاسی لیڈر سابقہ سربراہان معزول کئے ہوئے لوگ اور اہم معزز شخصیات کو ان کٹہروں میں آنا پڑتا ہے اگر ان کے سیاسی مخالفین ان سے زیادہ طاقت رکھتے ہوں۔
لوگ کہتے ہیں قانون میں دراڑیں پڑ گئی ہیں لیکن میرے خیال میں یہ دراڑیں نہیں بلکہ بڑی بڑی شاہراہیں بن چکی ہیں جہاں سے کوئی بھی شخص جو با اثر ہو آرام اور سکون سے گزر سکتا ہے۔ عدالت میں ایک مجسمہ بھی ہوتا ہے جس کی آنکھوں پر پٹی ہے آج کل اس کا مطلب یہ ہے کہ مجرم اور اس کے خلاف تمام ثبوت ہونے کے باوجود آنکھوں پر پٹی باندھے ہو اور کان میں جو سرگوشی ہو رہی ہے صرف اس پر عمل کرو اور ترازو ہمیشہ اس کے پاس ہوتا ہے جو کچھ بیچ رہا ہو ترازو کا آج کل اور کوئی تصور نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں کوئی بڑی شخصیت کسی کو بھی قتل کرکے صاف بچ نکلتا ہے، کہیں پیسہ کام آتا ہے اور کہیں دھونس دھمکی، کچھ جگہ مذہب کا بھی سہارا لیا جاتا ہے کہ ودیعت کے تحت معاف کروالیا۔ جس میں قصاص کے اسلامی قانون کا فائدہ اٹھا کر جان بوجھ کر پلان کے ساتھ قتل کرکے بھی قاتل بچ جاتا ہے۔ یہ سراسر اسلامی قانون کو ناجائز طریقے سے استعمال کرنا اور مذاق اڑانا ہے۔ بار بار جب اس معافی کو دہرایا جاتا ہے ہر جگہ اسے پیسوں کی خاطر یا ڈر کی وجہ سے قبول کیا جاتا ہے تو مزید قاتلوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ کوئی بھی صوبہ ہو یہ ہر جگہ اور بہت زمانے سے ہو رہا ہے خاص طور پر یہ بہت زیادہ صوبہ سندھ میں ہوتا ہے۔
شاہ زیب خان کا قتل شاہ رخ جتوئی کے ہاتھوں سب کو یاد ہو گا جو 25 دسمبر 2012ءکو ہوا اس کیس میں 7 جون 2017ءکو عدالت کی جانب سے شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھی سراج تالپور کو سزائے موت سنائی گئی اور اس کے مزید دو ساتھیوں کو عمر قید کی سزا ہوئی لیکن ستمبر 2017ءمیں ڈرامائی طور پر شاہ زیب کے والدین کی جانب سے قاتلوں کو معاف کر دینے کا اعلان ہوا جب کہ قاتلوں کو اس قتل پر کوئی شرمندگی نہیں تھی بلکہ فخر تھا ایسے حالات میں کون والدین چاہیں گے کہ اس کے جوان سپوت کے قاتلوں کو یوں معاف کردیا جائے اور وڈیروں کے ان ظالم قاتل اور مغرور سنپولوں کو رہا کردیا جائے۔ لازمی اس کے یپچھے ڈرانے دھمکانے کی کوئی کہانی چھپی ہوئی تھی۔
سندھ کا ایک اور پرانا کیس ہے۔ 18 ستمبر 1997ءکو سابقہ فیڈرل سیکریٹری عالم خان المانی یا عالم بلوچ کا قتل ہوتا ہے اور ساتھ میں ان کا گارڈ امداد بلوچ مارا جاتا ہے۔ اس قتل کے پیچھے ٹندوالہ یار کی ایک زمین کا تنازعہ ہے۔ جس کی کارروائی سندھ ہائی کورٹ میں ہو رہی تھی اور مقتول اسی کارروائی سے واپس آرہا تھا کہ راستے میں اسے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ مقتول کے بیٹے عثمان المانی اور لقمان المانی کی طرف سے قاسم آباد تھانے میں آصف زرداری اور ان کے والد حاکم زرداری کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ کیس عدالتوں میں چلتا رہا ممکن تھا کہ فیصلہ زرداری خاندان کے خلاف جاتا کہ اچانک مقتول کے بیٹوں نے معافی نامے پر دستخط کردیئے اور ستمبر 2018ءکو انہوں نے قاتلوں کو یعنی زرداری کو معاف کردیا۔ معافی کی وجہ یہ بتائی گئی کہ سندھ کے رواج کے مطابق اگر قاتلوں کی طرف سے کوئی عورت مقتول کے گھر آکر معافی کی درخواست کرے تو اسے معاف کردیا جاتا ہے اور یہ کام زرداری کی بہن فریال تالپور نے قائم علی شاہ کے ساتھ مقتول کے گھر جا کر کیا یعنی جسے چاہو قتل کر دو اور گھر کی کوئی عورت بھیج کر معافی کروالو۔ بہت خوب نظام بنایا گیا ہے لیکن اس معافی کے پیچھے بھی دھمکانے والا سلسلہ معلوم ہوتا ہے، ایک بات تو طے ہے کہ معافی کی درخواست اسی وقت کی جاتی ہے جب قتل قبول کرلیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مقتول کے لواحقین کی جانب سے کسی وجہ سے معافی کردینے پر کیا قاتلوں کے دامن سے خون کے دھبے صاف ہو جاتے ہیں، کیا قتل کا لفظ ان کی شخصیت سے نکل جاتا ہے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایک قاتل جس کے ماتھے پر قتل لکھا ہوا ہے اور جسے ایک گھر کی عورت نے معافی دلوادی کیا پاکستان کا صدر بن سکتا ہے۔ شرم کا مقام ہے۔ صوبوں کے اندرونی علاقوں میں غریب کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اسے کوئی بھی وڈیرہ، جاگیردار یا اس کی بگڑی ہوئی اولاد صرف اپنی دہشت بٹھانے، اپنے آپ کو منوانے کے لئے قتل کردیتا ہے، اسے معلوم ہے کہ پاکستان کا ٹوٹا پھوٹا قانون اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ایم پی اے مجید اچکزئی کے ہاتھوں ٹریفک سارجنٹ کی ہلاکت 2017ءمیں گرفتاری، پھر ضمانت اور 2020ءمیں مقدمے سے بری عوام کے منہ پر طمانچہ کرلو جو کرنا ہے۔ تازہ کیس میں ایک ملیر کا نوجوان ناظم جوکھیو قتل ہوا ہے۔ جوکھیو قبیلہ 300 سال سے ملیر کے علاقہ میں آباد ہے۔ ان کے ایک فرد کو جام کا خطاب کلہوڑو دور حکومت میں ملا تھا اور وہ جوکھیو قبیلے کے سردار بن گئے تھے جب سے یہ تفریق موجود ہے۔ جوکھیو قبیلہ جام خاندان کی اطاعت ہی کرتا رہتا ہے اور ان کی خدمت کرتا ہے۔ ناظم جوکھیو کے علاقے میں کچھ عرب لوگ تلور کا شکار کررہے تھے، پاکستان میں تلور کے شکار پر پابندی ہے، لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں کے عرب کے سامنے جھکے رہنے سے عربوں کو ہر طرح کا شکار کرنے کی اجازت ہے۔ ناظم جوکھیو نے عربوں کو تلور کا شکار کرنے سے منع کیا لیکن ان کے اوپر جام اویس جو کہ پیپلزپارٹی کے ایم پی اے ہیں اور ن کے والد جوکھیو قبیلے کے نام نہاد سردار بھی ہیں ان کا ہاتھ تھا لہذا انہوں نے ناظم جوکھیو کو ڈرایا دھمکایا لیکن ناظم جوکھیو نے ان کی ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی اس پر جام اویس نے ناظم جوکھیو کے بھائی افضل کو فون کیا اور کہا کہ ویڈیو ڈیلیٹ کردو اور ہم سے بات کرنے کے لئے ناظم جوکھیو کو ساتھ لاﺅ اور معافی تلافی کرو۔ افضل جوکھیو اپنے بھائی ناظم جوکھیو کو جب جام اویس کے پاس لے گیا تو جام اویس کے آدمیوں نے ناظم جوکھیو کو مارا پیٹا اور کمرے میں بند کردیا۔ افضل جوکھیو کے ہاتھ جوڑنے اور پیروں پڑنے پر اس نے کہا صبح آنا اور اپنے بزرگ لانا، جب تصفیہ ہو گا لہذا افضل رات تین بجے واپس آگیا، صبح جب وہ وہاں پہنچے تو ان کو ناظم جوکھیو کی تشدد زدہ لاش ملی۔ پولیس کا گھناﺅنا کردار اور اندھیر نگری دیکھیں کہ انہوں نے رپورٹ بنائی کہ دو گروہوں کے درمیان تصادم ہوا ہے جس میں ایک نوجوان ناظم جوکھیو مارا گیا ہے جب کہ ناظم جوکھیو پہلے ہی ایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر بھیج چکا تھا کہ اسے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ساری شہادتیں ہونے کے باوجود اویس کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ جب ناظم کے بھائی اور خاندان والوں نے دھرنا دیا، ہنگامہ کیا اس کے بعد لازم ہے کہ پارٹی کی طرف سے کہا گیا کہ گرفتاری دے دو تاکہ یہ دھرنا ختم ہو لہذا جام اویس نے گرفتاری دے دی لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ یہ مقدمہ بھی دھمکیاں دے کر اور معافی نامے پر دستخط کرواکر ختم ہو جائے گا۔
یہی قانون ہے اور سب کو اسی قانون پر چلنا ہے، زبان بند رکھنی ہے اور اپنی جانب بڑھتی ہوئی گولی کا نظارہ دیکھنا ہے۔ بزدل قوموں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے جو اپنے حق کے لئے لڑنا نا جانتے ہوں صرف ہاتھ جوڑنا جانتے ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں