قونصلیٹ جنرل آف پاکستان شکاگو اور اوپن ایسوسی ایشن شکاگو کے اشتراک سے قونصلیٹ آفس شکاگو میں سیمینار کا اہتمام 94

قونصلیٹ جنرل آف پاکستان شکاگو اور اوپن ایسوسی ایشن شکاگو کے اشتراک سے قونصلیٹ آفس شکاگو میں سیمینار کا اہتمام

شکاگو (رپورٹ: جمال صدیقی) قونصلیٹ جنرل آف پاکستان شکاگو اور نان پرافٹ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے قونصل جنرل جناب طارق کریم نے ایک سیمینار کا اہتمام کیا۔ امریکہ مڈویسٹ ریجن کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی شراکت داری، تجارت اور سرمایہ کاری سیاحت اور ترسیلات زر کے مواقع ان تمام کوششوں میں مزید قدم آگے بڑھانے کے لئے اور شکاگو اور امریکہ میں بسے ہوئے دوسرے کاروباری تارکین وطن کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی مواقع اور انہیں حالیہ سہولتیں دینے پر پاکستان سے آئے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر سید مرتضیٰ نے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ پاکستانی کمیونٹی کے کاروباری حضرات کی ایک بڑی اکثریت نے اس سیمینار میں شرکت کی۔ ڈاکٹر مرتضیٰ نے شراکین کے بہت سے اہم سوالات کے نہایت تفصیل سے اطمینان بخش جواب دیئے۔ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی بینکوں میں اپنا اکاﺅنٹ کھولیں جو کہ 48 گھنٹے میں کھل سکتا ہے۔ پاکستانی روپے میں یا باہر کی کرنسی اور ڈالر میں بھی اکاﺅنٹ کھول سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹ کے ذریعے آپ سرمایہ کاری بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے بارے میں بھی تفصیل سے آگاہ کیا۔ یہ سرٹیفکیٹ غیر ممالک میں مقیم اکستانی ڈالر، یورو اور پاکستانی روپے میں خرید سکتے ہیں۔ اس میں ساڑھے پانچ فیصد سے سات فیصد تک منافع ہو سکتا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ تین ماہ سے لے کر پانچ سال کی میعاد تک خریدے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں غیر ممالک میں بسے پاکستانیوں کا اہم کردار ہے۔ اس وقت پاکستان کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ سیمینار سے قونصل جنرل طارق کریم نے بھی خطاب کیا اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرکے پاکستان کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ پاکستان ٹورزم کو سپورٹ کریں، پاکستان میں سیاحت کے بے شمار مقامات ہیں۔ سیمینار سے ڈاکٹر طارق بٹ اور ایسٹ ویسٹ یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر وصی اللہ خان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طالب علموں کو خصوصی طور پر آسانیاں پیدا کی جائیں، اسی طرح امریکہ سے کالج یونیورسٹی کے اساتذہ کو پاکستان میں خدمات انجام دینے کے لئے دعوت دی جائے۔ سینٹرل ایشین پروڈکٹیوٹی ریسرچ سینٹر کے مسٹر ہیری لیپنسکی نے بھی پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں