ریاست پاکستان تنزلی کی آخری حدوں پر۔۔۔ 47

”لہو پکارے گا آستیں کا“

بے اختیاری سی بے اختیار ہے، گمان ہوتا ہے کہ گویا کسی کے ہاتھ میں اس الجھی ہوئی ڈور کا کوئی سرا ہے ہی نہیں، کسی بھی سلسلے میں۔ وقوعے انجام پا رہے ہیں۔ واقعات ہو رہے ہیں، بھیانک سے بھیانک تر، مایوس ترین مگر لگتا ہے کہ ہوش و ہواس سے نابلد ہو چکے، تمام ماحول کا مزاج صرف نفرتوں اور عدو کی کثافتوں سے لبریز ہے۔ خرد کی ہوا عنقا ہو چکی اور اب صرف قیامت کا صور پھونکے جانے کا انتظار ہے، ہر طرف اور اس کے راستے کی بھی بنیاد بھی پڑچکی ہے۔ پاکستان میں اس سے قبل بھی ہولناک سیاست کے کھیل کھیلے جا چکے مگر موجودہ حکومت نے تو اپنے تمام پیشروﺅں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان کی سیاست اس انحطاط تک چلی جائے گی شاید ماضی میں کسی نے اس کا تصور بھی نہ کیا ہو۔ سیاستدانوں سے لے کر صحافیوں اور عام عوام کے ساتھ جو واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ ناقابل یقین ہیں۔ کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں رہ گئی۔ چادر اور چہار دیواری کا تقدس پامال کرنے والے اپنے معاشرہ کے اخلاقی قدروں سے بے بہرہ نظر آتے ہیں۔ اظہار رائے پر قدغن لگا دی گئی اور یہ اعلان کردیا گیا کہ ہر صفت گویائی پر لازم پڑی مناجات شاہوں کی وگرنہ زمین کی عنابیں کھینچی جا سکتی ہیں اور آسمان گرایا جا سکتا ہے۔
ارشد شریف، ایک بے باک اور نڈر صحافی ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا گیا۔ یہ ایک مثال قائم کی گئی سچ بولنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جو سوال اٹھانے سے گھبراتے نہیں جو حقیقت جاننے کے لئے پاتال کی گہرائیوں میں اترنے سے ڈرتے نہیں۔ ایمانداری سے فرائض ادا کرنے والوں کے لئے۔ ان کے لئے جو راست گوئی کو اپنا ایمان سمجھتے ہیں اور کسی طور بکنے پر آمادہ نہیں ہوتے، فی الحال کہانی یہ ہی گھڑی جارہی ہے کہ شناختی غلطی کی وجہ سے گولیوں کی زد میں آگئے مگر درون خانہ ہر بشر آگاہ ہے کہ ارشد کا پاکستان سے کوچ کر جانا ہی بڑے منڈلاتے خطرے کے سبب تھا۔ اس کے پاس بہت سی ایسی کہانیاں تھیں جن میں کئی پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں، وہ ایک ملک اور وطن سے محبت کرنے والا ایسا صحافی تھا جو کبھی اپنے مفاد اور ذات کے لئے حقیقت سامنے لانے سے گریزاں نہیں ہوا۔ پس پردہ وہ کون سے کردار ہیں جو اس سانحہ کے ذمہ دار ٹھہریں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ارشد کا پاکستان چھوڑ کر جانا، پھر دوبئی سے اسے نکالا جانا، پھر کینیا میں اس کی شہادت سے متعلق بیانات نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی طور پر ایک گمبھیر مسئلہ کو جنم دے دیا ہے اب عالمی تنظیموں کے سامنے وہ تمام واقعات لائیں جائیں گے جو پاکستان میں صحافیوں پر گزشتہ دنوں میں رونما ہوئے وہ تمام باتیں دہرائی جائیں گی جو کسی بھی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے ملک اور اس کی حکومت کے لئے باعث ندامت ثابت ہوتی ہیں۔ اس وقت پاکستان عالمی سطح پر اس شرمندگی سے دوچار ہوگا۔
کینیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور قانونی ماہرین کے علاوہ اس وقت عالمی حقوق انسانی کی تنظیموں کے علاوہ قانون دان بے شمار سوالات اٹھا رہے ہیں اور امریکہ سمیت حکومتیں غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہیں۔ ارشد شریف کی صحافتی کاوشیں جب عالمی ذرائع ابلاغ کا مرکز بنیں گی تو پاکستان اور اس کی سیاسی اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق کثیر معلومات منظرعام پر آئیں گی۔ پاکستان ایک توہین آمیز مقام سے گزرے گا اور سب سے پہلے یہ سوال اٹھایا جائے ہر جانب سے کہ اشرف شریف جیسے براڈکاسٹر کو پاکستان کیوں چھوڑنا پڑا اور کوئی دوسرے صحافی اس وقت پاکستان سے باہر کیوں سکونت پذیر ہیں۔
منظر عیاں یہ ہی کررہا ہے کہ اس وقت پورا ملک آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا ہے۔ بگل بچ چکا ہے، اور آلہ کار بننے والوں کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ کس طریقے سے استعمال ہوئے ہیں۔ ریاست، ملک اور عوام میں کوئی ہم آہنگی نہیں رہ گئی ہے۔ ریاست کرپٹ اور نا اہل سیاستدانوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے عوام اداروں پر بھروسہ کرتے کرتے صبر کے انتہائی درجوں سے گزر رہے ہیں اور حیران و پریشان ہیں کہ کس طرف دیکھیں اور کس سے توقع رکھیں۔ اقتدار کے لئے ایک انتہائی دشوار گزار صورت حال پیدا کرے گا۔ اتحادی جماعتیں ایسی صورت حال کے لئے کوشاں ہیں جس سے بڑا تنازعہ کھڑا ہو اور تمام بساط لیٹ دی جا سکے۔ بزرگ سیاستدان اعتزاز احسن نے جو اشارے کئے ہیں وہ بہت معنی رکھتے ہیں۔ اگلے کچھ ہفتے پاکستان کے لئے نازک ترین ہوں گے۔ عمران خان نے لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے۔ ارشد شریف کا پاکستان تابوت میں واپس لوٹنا اور عام آدمی کے لئے مایوسی کی انتہا میں مبتلا ہو جانا پاکستان کے حالات کے لئے ہولناکی کا منظر پیش کررہا ہے۔
ارشد شریف اپنے پیچھے ایک جرات آمیز تاریخ رقم کر گیا ہے جو نہ صرف صحافتی حلقوں بلکہ پاکستان کی سالمیت پر یقین رکھنے والوں کے لئے ایک مشعل راہ ثابت ہو گی۔ اس وقت عمران خان کا لانگ مارچ شاید پاکستان کی تاریخ کے ابواب میں ایک ایسی جدوجہد آزادی رقم کرے گا جو کہ ہر قسم کے تصور سے بالاتر ہوگا۔
بے گناہوں کا خون رائیگاں نہیں جاتا، سر پر کفن باندھ کر صحافت اور سچائی کی علمبرداری بلند رکھنے والے ارشد شریف کا لہو ذمہ داروں کی آستینوں سے ٹپک ٹپک کر گواہی دے گا نہ صرف اس کی کہ وہ کھڑا تھا ہر خطرہ اور مشکل میں اپنے ملک و قوم کے ساتھ بلکہ گواہی دے گا ہر اس ظلم کی، ہر اس ستم کی جو اس مملکت پاکستان میں سچ بولنے پر کئے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں