اسلام آباد ہائی کورٹ میں سولہ صحافیوں کی سبکی! 42

متنازعہ امریکی انتخابات!

3 نومبر کو منعقد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کا جو نتیجہ سامنے آیا ہے اس میں صدر ٹرمپ نے بڑے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ شاید امریکی تاریخ میں پہلی بار انتخابی ریلیوں اور امیدواران کے درمیان مباحثے میں ایک دوسرے پر کرپشن سمیت ٹیکس چوری کے لاتعداد الزامات عائد کئے گئے۔ ششد الفاظ میں غیر پارلیمانی زبان بھی استعمال کی گئی۔ کئی مہینوں سے جاری انتخابی مہم کے دوران بہت نشیب و فراز مشاہدے میں آئے۔ کرونا وائرس کے دوران انتخابی ریلیوں میں کسی حفاظتی تدبیر کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ اسی کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کو بھی کرونا ہو گیا اس کے باوجود وہ بمشکل چار دن ہی ہسپتال میں رہ سکے۔ انتخابات ان کے سر پر سوار تھے۔ اور انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دوبارہ سیاسی سرگرمیاں شروع کردیں۔ جس پر بہت تنقید بھی کی گئی۔ صدر ٹرمپ نے کئی مہینوں سے انتخابات میں پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ہونے والی دھاندلی کا شور مچا رکھا تھا اور پوسٹل سروسز کے نظام کو بوسیدہ اور کرپٹ قرار دے دیا تھا۔
اس مرتبہ کرونا وائرس کے پیش نظر ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن نے اپنے ووٹرز کو پیغام دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ Early Voting میں حصہ لیں اور پوسٹل بیلٹ کا استعمال کریں تاکہ الیکشن والے دن پولنگ اسٹیشنز پر بہت زیادہ جم غفیر نہ ہو اور کرونا کے پھیلاﺅ کو روکا جا سکے۔
انتخابات کے آخری نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن اور کملا دیوی ہیرس کامیاب قرار پائے ہیں۔ ڈیموکریٹ کو تقریباً ساڑھے سات کروڑ ووٹ پڑے جب کہ ٹرمپ کو سات کروڑ ووٹ ڈالے گئے۔ اس مرتبہ امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ ووٹ کاسٹ ہوئے۔
صدر ٹرمپ کے چار سالہ دور اقتدار میں بہت سارے متنازعہ احکامات جاری کئے گئے اور صدر ٹرمپ کو مواخذے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس دور میں نہ صرف امریکہ میں بسنے والی اقلیتوں کو تعصب کا نشانہ بنایا گیا بلکہ امریکہ سے باہر دیگر ممالک کو بھی ناراض کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے اندرون ملک امیگریشن سے متعلق سخت اور جابرانہ احکامات دیئے۔ بچوں کو والدین سے جدا کردیا گیا۔ سیاہ فام امریکنوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔ ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ تارکین وطن کو ڈرا دھمکا کر رکھا گیا۔ امیگریشن پراسس کو بہت سست کردیا گیا جس سے بیرون ممالک سے آنے والے شادی شدہ لڑکے اور لڑکیاں بہت متاثر ہوئے۔ پچھلے دس دس سالوں سے امیگریشن حاصل کرنے والے انتظار کی سولی پر لٹک رہے ہیں۔ جن افراد کے گرین کارڈ زائد المیعاد ہو گئے ہیں ان کی تجدید نہیں کی جارہی۔ مسلمانوں کے ساتھ سخت تضحیک آمیز رویہ رکھا گیا۔ صدر ٹرمپ نے کرونا کو چائنیز وائرس قرار دیا۔ جس پر بہت تنقید کی گئی۔ میڈیا کو بہت برا بھلا کہا گیا۔ دنیا بھر میں صدر ٹرمپ کی حرکات دیکھ کر لوگ اس پر ہنستے تھے۔ حتیٰ کہ وائٹ امریکن بھی شرمندہ ہوتے تھے۔ میکسیکو کے سامنے آہنی دیوار کھڑی کردی گئی جو کہ سخت ناپسند کی گئی۔ چین، روس، ایران، نیٹو کے ممالک کو ڈکٹیشن دینے کی کوشش کی گئی۔
دنیا بھر میں امریکہ مذاق بن کر رہ گیا، ٹرمپ نے کینیڈا جیسے ہمسائے کے ساتھ بھی سوتیلوں جیسا سلوک کیا اس نے ملک کو ایک انڈسٹری کی طرح چلانے کی کوشش کی نہ کہ ایک سپرپاور ریاست کے سربراہ کے طور پر۔ جب بھی کوئی سربراہ مملکت وائٹ ہاﺅس میں اس سے ملنے آیا اسے امریکہ میں بننے والے اسلحے کو بطور سیلزمین متعارف کروایا گیا۔ دنیا بھر کے ممالک کو اسلحہ بیچنے کی کوشش کی گئی۔
صدر ٹرمپ نے مسلمانوں کے جذبات کو اس وقت ٹھیس پہنچائی جب امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا اور اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو عراق میں شہید کرنے پر بھی عالم اسلام میں نفرت پیدا ہو گئی۔ حال ہی میں امریکی دباﺅ کے پیش نظر متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا۔ جس کی اسلامی ریاستوں میں بہت تنقید کی گئی۔ صدر ٹرمپ کی خواہش تھی کہ الیکشن سےپہلے سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ اس سے وہ سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتا تھا جو کہ نہ ہو سکا۔ امریکہ میں بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو ٹرپ کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ محب وطن ہے اور جو پالیسیز امریکہ کے حق میں بہتر ہیں وہ ان کی حمایت کرتے ہیں۔ افغانستان سے فوجوں کے انخلاءاور طالبان کے ساتھ معاہدہ سے ٹرمپ کو خاصی پذیرائی ملی۔ لیکن جنوبی ایشیا میں ہندوستان کو زیادہ مضبوط کیا جارہا ہے جو کہ خطے کے باقی ممالک کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ حال ہی میں ہونے والا امریکہ۔ ہندوستان معاہدہ چین، روس، پاکستان اور ایران کے لئے ناقابل قبول ہے۔ اس معاہدہ سے امریکہ بدستور جنوبی ایشیا کو بارود کے ڈھیر پر کھڑے رکھنا چاہتا ہے۔ غیر یقینی کی صورت حال سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور چائنا کی مشترکہ پیشکش سی پیک امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل کو سخت تکلیف میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ امریکہ کے پالیسی ساز ادارے اس کو چائنا کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کو مزید مضبوط ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ حال ہی میں شائع شدہ رپورٹس کے مطابق چین دنیا کی پہلی بڑی معیشت بن چکا ہے۔
صدر ٹرمپنے اپنے خلاف پہلے دن سے ہی اتنے محاذ کھول لئے تھے کہ اس کی اس شکست کو امریکہ کے لوگوں کے ووٹ کی پرچی نے ثابت کردیا۔ حال ہیں میں صدر ٹرمپ نے چین اور ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مجھے الیکشن میں ہروانے کے لئے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ ٹرمپ کی ہار میں اس کی اپنی پالیسیز نے اہم کردار ادا کیا۔ جس میں اقلیتوں کے ساتھ نارواسلوک، امیگریشن کی سخت حکمت عملی، میڈیا پر ہر وقت تنقید، کرونا وائرس کو چائنیز وائرس قرار دینا۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنا، عرب ممالک کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے دباﺅ ڈالنا، چین کے ساتھ تجارتی روابط تقریباً منقطع کرنا، نیٹو کے خلاف بیان بازی، ڈبلیو ایچ او کو ہدف تنقید بنانا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
جوبائیڈن واضح اکثریت سے صدر منتخب ہو چکے ہیں جو کہ ایک تجربہ کار سیاسی ورکر رہے ہیں۔ پہلے وہ وائس پریذیڈنٹ کے فرائض بھی سر انجام دے چکے ہیں۔ لہذا دیکھنا ہے کہ وہ ٹوٹے پھوٹے اور تقسیم شدہ امریکہ کو کس طرح مرہم پٹی کرتے ہیں۔ بیرون سے پہلے انہیں اندرون ملک بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ ستر سالہ جوبائیڈن اتنے پریشر کو برداشت کرسکیں گے لیکن ایک بات طے ہے کہ اب صدر کی طرف سے شائستہ اور نرم لہجے میں بات کرنے کو ملے گا۔ خواہ مخواہ کسی کو ہدف تنقید نہیں بنایا جائے گا۔ تمام مذاہب اور نسلوں کو ایک ہی آنکھ سے دیکھا جائے گا۔ تعصبانہ پالیساں دم توڑ جائیں گی۔ انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے جوبائیڈن مسلمانوں پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کردیں گے جس سے عالم اسلام میں امریکہ کے متعلق پائی جانے والی تشویش ختم ہو سکے گی۔ امیگریشن پالیسیز کو نرم کیا جائے گا۔ جن خاندانوں کو جدا کردیا گیا تھا ان کو آپس میں جوڑ دیا جائے گا۔ کرونا وائرس کو بھرپور طریقے سے نمٹا جائے گا۔ مڈل کلاس لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں لائی جائیں گی، امیر طبقوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ٹیکس وصول کئے جائیں گے۔ ہیلتھ کا نظام بہتر کیا جائے گا۔ جو جو بھی وعدے جوبائیڈن کے منشور میں شامل ہیں ان کو پورا کرنے کی طرف نگاہیں لگی رہیں گی۔
وائس پریذیڈنٹ منتخب ہونے والی کملا دیوی ہیرس خصوصی بالخصوص عورتوں کے حقوق کے لئے کام کریں گی۔ وہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں ان کی شمولیت سے امریکہ میں بسنے والی اقلتیں اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگی ہیں، امریکی تاریخ کی یہ پہلی وائس پریذیڈنٹ خاتون ہیں یہ اپنے اس اعزاز کی لاج رکھیں گی۔ اور ساﺅتھ ایسٹ ایشیا میں پائی جانے والی بے چینی کو حل کروانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں