۔۔۔ جنہیں تصویر بنا آتی ہے 154

محسن کش

پاکستانی قوم اپنے قرب و جوار کے حالات سے اس قدر تغافل برتی ہے کہ اگر پڑوس میں کوئی جان سے جارہا ہو تو اسے اپنے دانت کا درد زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ یہ بے حس معاشرہ اب اس حد تک گر چکا ہے کہ اہم ترین قومی اور ملکی معاملات پر اپنی ذاتی ضرورتوں اور تعاشیات کو ترجیح دیتا ہے۔ اس وقت ملک جس سنگین صورت حال سے گزر رہا ہے اور آنے والا وقت اس سے سنگین تر ہو گا اس پر کوئی غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ عوام تو رہے ایک طرف جنہیں عوام کا نعام کہا جاتا ہے یعنی چوپائے جنہیں جس طرف چاہو ہنکا کر لے جاﺅ وہیں وہ قوم کے نام نہاد راہنما جن کو دعویٰ ہے کہ ان سب کا ہر ایک ہی وہی واحد ہے، ڈوبتی نیا کو وہی پار لگا سکتا ہے۔ یہ خود کو عہد حاضر کے بقراط سمجھنے والے دانشور اپنے علاوہ سب کو نا اہل، غدار، ملک فروش اور دشمنوں کے ایجنٹ سمجھتے ہیں، صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں، انہیں نہ ملک کی سالمیت کی فکر ہے اور نہ ہی قوم کی (اگر اس ہجوم کو قوم کہا جائے جس کی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہے) یہ افراد اپنی ناک سے آگے کے حالات کا ادراک سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں یہ اقتدار کے بھوکے یا اقتدار کو بچانے والے دنیا کے بدلتے ہوئے حالات، اردگرد اٹھنے والے طوفانوں اور خود ان کے ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں سے بے خبر ہیں بلکہ بلاواسطہ خود ان کے حصے بنے ہوئے ہیں یہ دشمنوں کی چالوں میں آکر اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے ان کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں یہ اپنی دولت کے تحفظ کے لئے قومی سلامتی کے لئے ایسا خطرہ بن گئے ہیں جس کے ذریعے دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں یہ وہ عناصر ہیں جو کبھی اقتدار کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور قومی راز ان پر ظاہر ہو چکے ہیں اب یہ دشمنوں کو انہیں افشاں کررہے ہیں۔
اب ظاہر ہو چکا ہے کہ ملک سے فرار ہو کر یہ ایک بار پھر دشمن کے کندھے پر سوار ہو کر اقتدار کا حصول چاہتے ہیں، آج پڑوس میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے مہیب سائے پاکستان پر پڑنے شروع ہو گئے ہیں۔ یہ ملک افغانستان جس کی سرشست میں شروع دن سے ہی پاکستان دشمنی موجود تھی اور جس نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا بلکہ پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستان کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منصوبے بناتا رہا۔ یہ وہ احسان فروش قوم ہے کہ جب روس اور پھر امریکہ سے جوتے کھانے کے بعد اس کے تیس لاکھ سے زائد باشندوں کو پاکستان نے پناہ دی اور آج تک ان کو اپنے ہاں تحفظ فراہم کیا آج یہی احسان فراموش پاکستان کے خلاف بد زبانی کررہے ہیں اور اسے ”ہیرا منڈی“ کہہ رہے ہیں یہ ہندوستان کے ساتھ مل کر اسے ساری دنیا کے سامنے گالیاں دے رہے ہیں، بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں کے سامنے مظاہرے کرتے ہیں اور دشمنوں کی زبان استعمال کرتے ہیں اور انہیں عناصر کے ساتھ پاکستان کے مفرور سیاستدان ان کی میزبانی کرکے انہیں اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہیں ایک طرف تو یہ افغانستان کی موجودہ برسر اقتدار ٹولی کا یہ کردار ہے جو ہندوستان کو اپنا آقا سمجھتا ہے اور اسے افغانستان میں بھرپور کردار ادا کرانے کے لئے سرگرم ہے جب کہ پاکستان جس کے ذریعے اس کا رابطہ ساری دنیا سے ہے جہاں سے اسے خوراک اور زندہ رہنے کے لئے وسائل حاصل ہوتے ہیں جو اس کی راہ داری ہے اس کے خلاف دنیا کے سامنے اسے بدنام کرتا ہے۔ الزام تراشیاں کرتا ہے تو دوسری طرف وہ طالبان ہیں جن کی پاکستان نے ہمیشہ مدد کی اور روس کے خلاف کھل کر ساتھ دیا جس میں اس کے ہزاروں افراد اپنی جان سے گئے اور جب اس نے افغانستان میں اقتدار حاصل کیا تو سب سے پہلے پاکستان نے ہی اسے تسلیم کیا اور ہر طرح سے ان کی امداد کی مگر اب حالات بتا رہے ہیں کہ وہ برسر اقتدار آ کر ان احسانات کا بدلہ چکانے کے بجائے پاکستان میں اپنا وہ نظام رائج کرنے کی کوشش کریں گے جس کا نمونہ ایک دفعہ برسر اقتدار آکر افغانستان میں دکھا چکے ہیں یہ اپنے عقائد کے علاوہ دیگر عقائد والوں کو واجب القتل گردانتے ہیں یہ عورتوں کے حقوق اور تعلیم کے حق کو تسلیم نہیں کرتے یہ کسی بھی ایسی چیز کو ماننے کے منکر ہیں جو ان کی عقل میں نہیں آتی ہو گو اس وقت مصلحت کی خاطر ساری دنیا کے سامنے خود کو جدید خیالات کے حامل ثابت کررہے ہیں مگر اقتدار میں آنے کے بعد یہ ایک ایسا معاشرہ لاگو کرنے کی کوشش کریں گے جو قدامت پسندی اور کٹر یکطرفہ مذہبی روایات کا حامل ہوگا اور اس کا مظاہرہ اس سے قبل کر چکے ہیں ہر جمعہ کو میدانوں میں لوگوں کی گردنیں کاٹنا، چوروں کے ہاتھ قلم کرنا، کھیلوں پر پابندیاں، خواتین کے حقوق سلب کرنا شامل ہیں انہوں نے ہزاروں کے قتل کو کافر کہہ کر جائز کردیا تھا۔ اب آنے والا وقت ایک مرتبہ پھر اسے دہرائے گا اس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر پڑے گا بلکہ پڑنا شروع ہو گیا ہے۔ افغانستان کا کٹر مذہبی اثر اس کے سرحدی علاقوں میں نمایاں تو تھا ہی اب اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان، ایک نام نہاد کالعدم جماعت ہے مگر ہر شخص کو معلوم ہے اس کے انتہائی گہرے اثرات پاکستان بن العموم اور پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں بالخصوص ظاہر ہو گئے ہیں جہاں فوج پر حملے، پولیس پر حملے، اور تخریبی کارروائیاں جاری ہیں بلکہ ان صوبوں میں طالبان نے اپنے گورنر بھی نامزد کر دیئے ہیں جو افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد اپنی خفیہ تحریک کو عام کردیں گے جس کے لئے یہاں ماحول پہلے سے ہی سازگار ہے۔
سعودی عرب کی مدد سے قائم 24 ہزار مدارس کے تربیت یافتہ مسلح افراد کے علاوہ بعض مذہبی جماعتوں کے کارکن اس تحریک کا حصہ ہوں گے جب کہ کچھ سیاسی جماعتیں جو اپنے اقتدار کے دور میں ”تحریک طالبان پاکستان“ کو تحفظ فراہم کرتی تھیں کہ انہیں کچھ نہ کہا جائے اور ان کی حکومت چلتی رہی اور طالبان جو کارروائیاں کریں حکومت انہیں کچھ نہیں کہے گی اور اس کے نتیجے میں ”لشکر جھنگوی“ اور دیگر مذہبی انتہا پسندوں نے دیگر عقیدے والوں کا قتل عام کیا اور آج بھی وہی عناصر درپردہ انہیں اپنی حمایت کا یقین دلا رہے ہیں اور حصول اقتدار کی خاطر ملک کو داﺅ پر لگا رہے ہیں۔
اس طوفان کی طرف سے لوگوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں مگر پاکستان کے دشمن ہندوستان، اسرائیل اور امریکہ انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس قوم کو صرف اسی طریقے سے پارہ پارہ کیا جا سکتا ہے اور ماضی اس کا گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان تاخت و تاراج ہوئے اپنوں کے ہی ہاتھوں ہوئے ہیں اور اب ان افغانوں کے ذریعے جنہوں نے کسی سے وفا نہیں کی، یہ ہمیشہ محسن کش رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں