عمران خان نے کشمیر بھی فتح کرلیا! 36

مسی ساگا سے مونٹریال!

گزشتہ چار سالوں میں ہماری فیملی نے کوئی ہالیڈیز نہیں منائی تھیں جب سے ہم کینیڈا آئے صرف اور صرف سو ڈیڑھ سو کلو میٹر کے اندر اندر مختلف مقامات کی سیاحت کی یعنی صرف ڈے ٹرپ (Day Trip) جو کہ جسمانی اور روحانی تھکاوٹ اتارنے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ایک تندرست جسم، ذہن اور روح کے لئے سال میں کم از کم پندرہ سے تین دنوں کی ہالیڈیز کرنا انتہائی ضروری ہیں۔ اس سے آپ آئندہ آنے والے سال کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ چھٹیاں کم یا پھر نہ منانے والے اشخاص ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ آج کے ترقی یافتہ جدید دور میں اتنی پریشانیاں ہیں کہ جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔
فیملی، روزگار، رشتہ دار، دوست احباب، ہمسائے، ٹریفک کا شور اور دنیا کی ہنگامہ خیزی اتنی ٹینشن ہے کہ بیان سے باہر۔
میں نے بھی فیملی کے اصرار پر ہمت جٹائی اور تین دن کا اوٹاوہ اور مونٹریال کا پروگرام ترتیب دیا۔ میں نے اوٹاوہ میں ہوٹل بک کیا اور مسسی ساگا سے بذریعہ گاڑی ضروری سامان کے ساتھ صبح ناشتہ سے فارغ ہو کر روانہ ہو گئے۔ مسی ساگا سے اوٹاوہ کا سفر تقریباً ساڑھے چار گھنٹوں پر محیط ہے اور فاصلہ تقریباً ساڑھے چار سو کلو میٹر ہے۔
سفر میں شریک میری مسز، بیٹی اور بیٹا انتہائی مسرور تھے کہ ہم نے بھی بالاخر بہت سالوں بعد سیر و تفریح کا پروگرام بنایا ہے وگرنہ گزرے ہوئے سالوں میں ہم نے دنیا بھر کی تفصیلاً سیاحت کر رکھی ہے۔ سفر انتہائی خوشگوار اور آرام دہ تھا، ہائی ویز پر ٹریفک معمول کے مطابق تھی، بہت زیادہ رش نہیں تھا۔
ہم لوگوں نے ہاف وے (Half Way) پہنچ کر کچھ دیر قیام کیا اور فریش ہوئے، گاڑی میں گیس ڈلوائی اور لنچ کیا۔
تقریباً چار بجے سہ پہر ہم ہالی ڈے ان ہوٹل اوٹاوہ پہنچ گئے، چیک ان کرنے کے بعد کچھ دیر آرام کیا اور پھر تازہ دم ہو کر شہر کی مٹر گشت کو نکل گئے۔ اوٹاوہ کینیڈا کا دارالحکومت ہے اس کی آبادی تقریباً دس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ کافی بڑا شہر ہے۔ جددی عمارتیں ایستادہ ہیں۔ یہاں سب سے اہم عمارت پارلیمنٹ ہاﺅس ہے جو کہ پرانی تاریخی عمارتوں کا ایک سلسلہ ہے۔ بہت عالیشان طرز تعمیر ہے۔ اسی طرح کی بہت ساری عمارتیں انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کے دوران بھی تعمیر کروائی تھیں باکل وہی اسٹائل ہے۔ لال اینٹوں سے بڑی مضبوط چنائی کی گئی ہے۔ یہاں دن بھر سیاحوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے رہتے ہیں۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں اور اوٹاوہ کے حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ رات دیر ئے یہاں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ سیاح فوٹوگرافی کرتے ہیں۔ ویڈیو بناتے ہیں۔ لڑکیاں بالیاں اٹکھیلیاں کرتی نظر آتی ہیں۔ ہر شخص دنیا و مافیا سے بے خبر مختلف مشغلوں میں دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے بھی یہاں بڑا اچھا کوالٹی ٹائم گزارا۔ فوٹوگرافی کی اور ان خوبصورت لمحات کو ویڈیو کیمروں میں قید کیا جسے میں اپنے یوٹیوب چینل ”وائس آف کینیڈا آوور“ پر بھی پیش کروں گا۔
رات کے کھانے پر جناب حامد وٹو پریس سیکریٹری پاکستان ہائی کمیشن نے گھر پر مدعو کر رکھا تھا۔ وٹو صاحب کا تعلق اوکاڑہ سے ہے اور وہ نہایت با اخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیں ان کی مسز بھی بہت سگھڑ خاتون ہیں انہوں نے بڑے پرتکلف کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ کھانا بھی بہت لذیز تھا اور اس پر حامد صاحب کے ساتھ نشست جو کہ رات دیر تک جاری رہی، بڑی پُرمغز تھی وہ سرائیکی زبان اور وصیب پر ایک ضخیم کتاب بھی تخلیق کررہے ہیں۔ بڑے مہذب اور سلجھے ہوئے شخص ہیں، بنیادی طور پر ان کا تعلق انفارمیشن گروپ سے ہے، اس سے پہلے کوالالمپور میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ ایف سی کالج لاہور سے فارغ التحصیل ہیں۔
اگلے دن صبح ناشتے سے فارغ ہو کر ہم لوگ پاکستان ہائی کمیشن کا وزٹ کرنے کے لئے پہنچ گئے۔ مرکزی دروازے پر حامد صاحب نے پرتپاک استقبال کیا اور کچھ دیر گپ شپ ہوئی، سرکاری چائے سے تواضع کی گئی، پاکستان ہائی کمیشن کی یہ عمارت خاصی پرانی ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان گورنمنٹ نے یہ بلڈنگ خریدی ہوئی ہے جو کہ اوٹاوہ کی مرکزی جگہ پر واقع ہے۔ حامد وٹو صاحب سے دو نشستیں ہوئیں جو کہ بہت مزیدار رہیں، راقم شکر گزار ہے۔
ہائی کمیشن سے فارغ ہو کر ہم لوگ مونٹریال روانہ ہو گئے۔ مونٹریال اوٹاوہ سے دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر بہت بڑا اور جدید شہر ہے لیکن قدیم شہر کا سحر بھی اپنی جگہ پر ہے۔ مونٹریال دیکھ کر مجھے نیویارک اور پیرس یاد آگیا اور اس کی بعض تنگ و تاریک لال اینٹوں سے مزین گلیاں تو مجھے زیورخ کی یاد دلاتی ہیس۔ مونٹریال جدید اور قدیم تہذیب کا گہوارہ ہے۔ یہ کینیڈا کے صوبے کیوبک کا مرکزی شہر ہے اور یہاں فرانسیسی زبان بولی جاتی ہے۔ انگریزی دوسری زبان ہے، یہاں سڑکوں کے نام اور بل بورڈ سب فرنچ میں ہیں۔ ٹورنٹو سے سفر کرتے ہوئے مونٹریال پہنچتے پہنچتے ایسے لگ رہا تھا کہ شاید ہم فرانس آگئے ہوں۔ ہم نے کچھ گھنٹے یہاں قیام کیا، فریش ہوئے، فوٹو گرافی کی اور خوبصورت لمحات کو کیمرے میں سمیٹ کر شام واپس اوٹاوہ لوٹ آئے۔
اوٹاوہ میں ہمارے چینل سے وابستہ محترمہ عظمیٰ خان کے گھر شام کے کھانے کا اہتمام تھا، انہوں نے پروفیسر فیاض باقر اور ان کی مسز پروفیسر ریحانہ ہاشمی کو بھی مدعو کر رکھا تھا۔ سب نے بڑا والہانہ استقبال کیا، بڑا مزیدار کھانا کھایا۔ رات گیارہ بجے ہم لوگ بڑی خوش گوار یادوں کے ساتھ وہاں سے روانہ ہوئے اور ہوٹل پہنچ کر تھک کر سو گئے کیوں کہ ہمیں صبح واپس مسی ساگا روانہ ہونا تھا۔
تین دنوں پر محیط یہ مختصر سا ٹور بڑا لطف اندوز رہا، ہماری بہت ساری ٹینشن ہم سے دور رہیں حتیٰ کہ معمول کی دوائی کھانا بھی یاد نہیں رہا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ Holidays بہت ضروری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں