Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 117

مصنوعی دنیا

میں اب سیاست پر بہت کم لکھتا اور بولتا ہوں کیوں کہ اب یہ ایک احمقانہ فعل محسوس ہونے لگا ہے۔ اس وقت پاکستان میں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں موجود ہیں ان میں چور بھی ہیں، بدنام زمانہ اور نیک نام بھی ان تمام پارٹیوں کے چاہنے والے ایک مضبوط دیوار کی طرح ہیں لیکن یہ دیوار کسی کام کی نہیں ہے نا یہ کسی کو سایہ دے سکتی ہے اور نا ہی سہارا۔ آپ ان دیواروں پر ٹکریں مار مار کر اپنے آپ کو تو زخمی کر سکتے ہیں لیکن ان دیواروں کو نہیں ہلا سکتے اور جو ان دیواروں کو گرا سکتے ہیں وہ ان کو گرانا نہیں چاہتے۔
ٹی وی پر بیٹھ کر بولنے والوں اور لکھنے والوں کی اکثریت کا یہ لکھنا، بولنا پیشہ ہے اس کے لئے ان کو لمبی رقومات ملتی ہیں، وہ وہی بولتے ہیں اور لکھتے ہیں جس کا ان کو معاوضہ ملتا ہے۔ ہم جیسے غیر جانب دار اور کھل کر لکھنے والے کسی کی آنکھ کا تارا نہیں بن سکتے نا تو ہم قلم بیچتے ہیں اور نا ہی ضمیر۔ ویسے فی زمانہ ہم ایک مصنوعی اور نقلی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں، دیکھتے ہیں، سنتے ہیں کہ دل ایک مندر ہے یا دل ایک مسجد ہے۔ دل خدا کا گھر ہے اور بقیہ تمام مذاہب بھی دل کو اپنی عبادت گاہوں سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ ہم نے پڑھا، سنا، دیکھا اور اتفاق کر لیا کہ ہاں جی دل ایک عبادت گاہ ہے لیکن کیا کبھی ہم نے اس عبادت گاہ میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی۔ اس دل میں جسے ہم مندر مسجد کا نام دیتے ہیں، کبھی جھانک کر دیکھا کہ یہ مسجد کیسی ہے اس میں کیا ہوتا ہے اور ہم نے اس مسجد میں کتنی نفرتیں، عداوتیں، لالچ اور خود غرضیوں کا ڈھیر لگایا ہوا ہے۔ ہم لوگ بہت ہی جھوٹی، نقلی اور مصنوعی دنیا کے باسی ہیں کیونکہ ہم خود نقلی ہیں، جعلی ہیں اور ہم نے اس دنیا کو بھی نقلی اور جعلی بنا دیا ہے اور اسے مزید بدصورت کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس دنیا کے اصل باشندے اس کے رکھوالے اس دنیا سے جا چکے ہیں وہ جنہوں نے دنیا کو جنت جیسا بنانے کی کوشش کی ایک خوبصورت معاشرے کی تشکیل میں اپنا خون پسینہ ایک کیا وہ جنہوں نے ایک دوسرے کو جوڑنے، ملنے اور اتحاد کی کوشش کی جن میں بھائی چارگی، رواداری، احساس، محبت، ہمدردی اور خلوص تھا۔ رشتے کی اہمیت احساس سب ختم ہو گیا، ہم نے ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے بجائے ادھورا چھوڑ دیا اور معاشرے کی ایک خوبصورت اور مضبوط بننے والی عمارت کو کھنڈر میں تبدیل کردیا۔ ہم صرف اپنی ذات میں قید ہو گئے ہیں۔ صرف اپنے آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ انفرادی خوشیوں اور تسکین نے اجتماعی خوشیوں کی جگہ لے لی ہے، پہلے اگر کوئی کسی کا دوست، رشتے دار، چاہنے والا اس سے دور ہوتا تھا تو اس سے ملنے اسے دیکھنے باتیں کرنے کی تڑپ ہوتی تھی، کسی بھی طریقے سے اپنا کتنا بھی نقصان کرکے اسے دیکھنے چلا جاتا تھا اور جو سکون اطمینان اور خوشی محسوس ہوتی تھی وہ ساری دنیا کی دولت سے بڑھ کر ہوتی تھی۔
آج ہم اپنے سگے رشتے داروں سے اپنے ماں باپ، بھائی، بہن، دوست، یاروں سے ملنے کے لئے فالتو وقت کا انتظار کرتے ہیں۔ ہم کسی کی شادی یا کسی بھی قسم کی تقریب میں اس کی تقریب کامیاب کرنے یا اسے خوشی دینے کی خاطر شرکت نہیں کرتے بلکہ اپنے وقت کو خوشگوار بنانے اور اپنے آپ کو خوش کرنے کے لئے شریک ہوتے ہیں۔ مل بیٹھیں گے اور وقت اچھا گزر جائے گا۔ ہم یار دوستوں کی محفل میں ان کا وقت خوشگوار کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنا وقت اچھا گزارنے جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے اس وقت کو استعمال کرنا ہوتا ہے، جب ہمارے پاس اور کوئی کام نہیں ہوتا، کوئی تفریح نہیں ہوتی، وہ ایک فالتو وقت ہوتا ہے۔ جسے ہم بھائی، بہن، ماں، باپ یا دوست یار میں استعمال کرتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان میں اسلام کے تمام اصول و شرائط اور قوانین کو مانتا ہوں۔ بعض ایسی اضافی چیزیں ہیں جو اسلام کا حصہ نہیں ہیں لیکن زبردستی شامل کر لیا گیا ہے، یہ رسم و رواج ثقافت، حالات و واقعات تو کہلائے جا سکتے ہیں لیکن مذہب کا حصہ نہیں ہیں جب یہ مذہب کا حصہ ہی نہیں ہیں اور کسی برائی میں بھی شامل نہیں کئے جا سکتے تو پھر ان کو مذہب کے حوالے سے غلط کہنا یا اعتراض کرنا سمجھ سے باہر ہے۔
بے شمار چیزیں جن کو کلچر کا حصہ، علاج یا روحانی تسکین سمجھنا چاہئے ہم اسے مذہب کا حصہ بنا کر فیصلے دینے لگتے ہیں مثلاً میلاد ہے، ہم جب چھوٹے تھے، گھر میں یا محلے میں عورتوں کے میلاد میں جاتے تھے تو اشتیاق ہوتا تھا، میلاد کیا ہے وہاں بچوں کو ہمارے نبی کے بارے میں معلوم ہوتا تھا، محلے میں کوئی غیر مسلم بچہ ہوتا تھا تو اس کو بھی آگہی ہوتی تھی، لبوں پر نبی کا نام رہتا تھا، اب عالم یہ ہے کہ لوگ میلاد کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، کفر کا فتویٰ لگ جائے گا۔ لوگ اپنے ماں باپ، عزیز و اقارب کے لئے فاتحہ کرواتے تھے، قرآن خوانی ہوتی تھی، باپ دادا کا نام نسل در نسل چلتا تھا اب یہ سلسلہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے، دفنا کر آجاﺅ اور بھول جاﺅ، لوگوں نے قبرستان جانا چھوڑ دیا ہے۔ قبرستان میں یہ نہیں معلوم کہ ان کے ماں باپ کی قبر کہاں ہے کیوں کہ قبر پر جانا شرک ٹھہرا دیا ہے۔ انتقال کر جانے کے بعد بھلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئی کسی کو یاد رکھنا نہیں چاہتا، بچوں کو اب اپنے دادا، دادی کا نام بھی نہیں معلوم، مردوں کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ دنیا زندوں سے بھی دور ہوتی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی خواہش کے مطابق وباءکی صورت میں لوگوں کو ایک دوسرے سے خود ہی دور کر دیا ہے۔ ملنا ملانا، ساتھ بیٹھنا، کھانا کھانا کم ہوتا جارہا ہے۔ احساس تب ہوگا جب ہمارے آس پاس قریب دور تمام لوگ کنارا کر لیں گے اور جب ہم شدت سے تنہائی محسوس کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں