خطرناک راﺅنڈ شروع 43

ملک دشمن بے نقاب؟

پاکستان سے کون مخلص ہے اور کون نہیں؟ اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی مگر بدقسمتی سے ملکی میڈیا حرام خوری اور ذاتی مفاد کو ترجیح دینے کی وجہ سے ملکی سلامتی کے اس نازک صورتحال پر بھی دروغ گوئی سے کام لے رہا ہے۔ وزیر اعظم ہاﺅس کی جو آڈیو لیک ہوئی ہے اس نے امپورٹڈ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ حکمران پارٹی ایسے کسی جرنل کو آرمیچیف نہیں بنوانا چاہتی جسے بھارت پسند نہ کرتا ہو۔ یہ ایک انتہائی خطرے کی بات ہے اور اس سے ملکی سلامتی نہ صرف کمپرومائیز نظر آرہی ہے بلکہ پوری طرح سے سوالیہ نشان بھی بن گئی ہے اور ان میں نہ رکنے والے سوچ و بچار کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
کسی بھی ملک کی حکومت اپنے دفاعی اداروں میں کی جانے والی اہم ترین تقرریوں کو دوسرے ملکوں کے تعلقات سے مشروط نہیں کرتی ہے کیونکہ اس طرح سے کرکے ان ملکوں کی خودمختاری بھی پھر سوالیہ نشان بن جاتی ہے اس وجہ سے حکمرانوں کی یہ سوچ خود ملک دشمنی اور غداری کے زمرے میں آتی ہے اگر اس طرح کی غلطی عمران خان اور ان کی حکومت سے سرزد ہو جاتی تو یہ ہی بکاﺅ مال میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا اور عمران خان پر نہ صرف غداری بلکہ ملک دشمنی کے فتوے لگاتے بلکہ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمات بھی درج کروالیتے لیکن چونکہ یہ مسلم لیگ ن کے حکومت نے کام کیا ہے اس وجہ سے ملکی میڈیا اس اہم ترین معاملے پر آئیں بائیں شائیں سے کام لے رہا ہے اور معاملے کو دوسری جانب موڑ رہا ہے کہ وزیر اعظم ہاﺅس میں ہونے والی گفتگو بھی محفوظ نہیں رہی۔
ملک دشمنی سے زیادہ اب انہیں اپنی پرائیویسی کی فکر ہو گئی ہے کہ کس نے انہیں رنگے ہاتھوں ملک دشمنی کرتے ہوئے پکڑا ہے۔ میر جعفر اور میر صادقوں کے اس ٹولے کے خلاف اور ان کے سہولت کار میڈیا ہاﺅسز کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے جو پاکستان کے سلامتی اور اس کے خودمختاری سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ پرائیویسی میں مداخلت کرنے سے زیادہ سنگین جرم ملک کی اہم ترین پوسٹنگ کو دشمن ملک کی رضامندی سے مشروط کروانا ہے۔ یہ ایک ناقابل تلافی ناقابل معافی جرم ہے جسے کوئی بھی محب الوطن پاکستانی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس انکشاف کے بعد تو پالیسی میکرز کو چاہئے کہ وہ آرمی چیف کے تقرری میں ضرورت سے زیادہ ہی احتیاط سے کام لیں کیونکہ حکمراں پارٹی کے عزائم تو پوری طرح سے بے نقاب ہو چکے ہیں کہ وہ پاکستان کو بھارت کی ایک طرح سے کالونی بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اپنی تجارتی منڈیاں بھارتی تاجروں کے لئے کھلوانا اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ پاکستانی افواج کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے ہی بھارت اپنے ہمنوا کسی جرنل کو اپنی کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے آرمی چیف بنوانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کے 75 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا جسے اس امپورٹڈ حکومت میں کرنے کی کوشش کی گئی جسے خود حساس اداروں نے اس آڈیو لیک کے ذریعے ناکام بنا دی اس پر جتنا بھی افسوس اور ماتم کیا جائے کم ہے اس سازش اور اس شرمناک حرکت نے عمران خان کے اس بیانیے کو تقویت دے دی ہے کہ ان کی حکومت کو غیر ملکی سازش کے تحت ختم کروایا گیا ہے۔
حکومت کے خاتمے کا مقصد پاکستان کو ترقی اور خودمختاری کی راہ سے ہٹا کر غیر مستحکم کرنا تھا۔ ایسے لوگوں کو عوام پر مسلط کروایا گیا جو قومی خزانہ لوٹنے کی وارداتوں میں ملوث تھے اور اپنے خلاف چلنے والے نیب کے اربوں کی کرپشن کے کیس انہوں نے حکومت میں آتے ہی ختم کروا دیئے، کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کے تحت ہی پاکستانی حکمرانوں کے ہاتھوں پاکستان کے سلامتی سے کھلواڑ کرنے لگے۔ اب پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں کہ سپریم کورٹ آرمی چیف کی تقرری کے معاملے میں مداخلت کرے۔ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں اور موجودہ حکمرانوں کے ہاتھوں دشمن ملک کو اپنے مرضی کی پوسٹنگ کا موقع نہ دیا جائے بلکہ میرٹ پر جس کا استحقاق ہے اسے ہی یہ اہم ترین منصب دیا جائے کیونکہ اسی اہم ترین منصب پر ہی پاکستان کی سلامتی اور اس کی بقاءکا دارومدار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں