ملک کے غداروں کو ہماری افواج کیونکر سلامی پیش کرتی رہیں؟ 22

ملک کے غداروں کو ہماری افواج کیونکر سلامی پیش کرتی رہیں؟

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران پر مقدمہ کے اندراج نے حکومتی حلقوں میں جوار بھاٹا پیدا کردیا ہے اور وزیر اعظم نے اس تمام معاملہ سے لاعلمی ظاہر کرکے اپنے بھونڈے پن کا ثبوت دے دیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اپوزیشن چور ہے، غدار نہیں جب کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص ملکی وسائل کا غلط استعمال کرے اور پاکستان کے عوام کا مجرم قرار پائے وہ ملک کا غدار ہی کہلائے گا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چور اچکے اور لٹیرے کیونکر بار بار حکومت کرتے رہے اور کس نے انہیں عوام پر شب خون مارنے کی اجازت دی۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ملک کے اثاثے چوری کرنے والوں کو ہماری افواج گارڈ آف آنر پیش کرتی رہیں۔ کیا ہماری آئی ایس آئی جو دنیا کی چند بہترین ایجنسیوں میں سے ایک ہے صرف اور صرف اپنے ہی عوام کو گھروں سے غائب کرنے کے کام پر مامور ہے اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ یہ سب چور اچکے اور لٹیرے ہیں جنہیں ہماری پاک فوج ہر قومی دن کے موقع پر سلامی پیش کرتی رہی۔ غداری کا مقدمہ کس کے اشارے پر ہوا اور کیسے پاکستان کے ایک عام شہری نے جہاں عوام اپنی بیٹیوں کو عزت و ناموس لٹنے کا مقدمہ درج نہیں کرواسکتے کیونکر ملک کے سابق صدر، وزراءاور سابق وفاقی وزراءکے خلاف پرچہ کٹوا دیا۔ یہ حکومت کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ ہے کہ جس کی شدت شاید نہ ہی حکومت، نہ آرمی چیف ہی بھلا سکیں گے۔ ہماری بہادر فوجی قیادت کا بھانڈا تو مولانا فضل الرحمن چند روز قبل ہی پھوڑ چکے ہیں بس ان کا سلامی کے چبوترے پر آنا باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں