Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 138

موازنہ

دنیا میں شائید کوئی ایسا ملک ہوگا جہاں کے عوام حکومتی نظام ،اپنی نوکری، اور حالات سے سو فیصد مطمئن ہوں۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہر شخص خوش نہیں ہوتا کیوں کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔دنیا کے تمام ممالک میں عوام کا معیار زندگی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔رہن سہن ، ثقافت،خاندانی معاملات میں تضاد ہے۔اور یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ قدرت نے ہمیں ایک بہترین معاشرہ،ثقافت اور خاندانی اقدار سے نوازہ تھا جس کا اثر ابھی تک مکمل طور پر زائل نہیں ہوا ہے۔جس طرح ایک پر امن محلّے میں دو تین بدمعاش قسم کے لوگ آکر پورے محلّے کا سکون برباد کردیتے ہیں اسی طرح ہماری حکومتوں میں آنے والے بدعنوان لوگوں نے پورے معاشرے کی ہئیت بدل کر رکھ دی ۔ہمارے معاشرے کا خاندانی نظام ایک بہترین نظام تھا لیکن حکومتوں کی جانب سے عطا کردہ غربت،مایوسی، انتشار ،لاقانونیت، ناانصافی نے اس نظام میں کافی حد تک زہر گھول دیا لیکن اس کے باوجود ایک بڑی تعداد ابھی بھی خاندانی قدروں اور معاشرے کے اصولوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ایک بڑی بد نصیبی کی بات یہ ہے کہ ہم اپنا موازنہ مغرب سے کرتے ہیں اور اسے اپنے سے بہت برتر گردانتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے جسم پر ایک قیمتی سوٹ ہو اپنے کپڑوں جوتوں سے ایک خوش اور مطمئن شخص نظر آتا ہو تو ہر شخص اس سے متاثّر نظر آتا ہے اور خواہش ہوتی ہے اس جیسا بننے کی لیکن کسی کو اس شخص کے کپڑوں کے اندر چھپے جسم کے بدنما داغ اور گھاو¿ نظر نہیں آتے لیکن اندر کے زخم تو صرف وہی شخص جانتا ہے۔ہمارے اور مغربی معاشرے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔امریکہ میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کی زندگی ایسی ہے کہ جب تک جسم میں جان ہے کام کرتے ہیں اور زندگی سے انجوائے بھی لیکن جیسے جیسے بڑھاپا قریب آتا جاتا ہے وہ معاشرے سے کٹنا شروع ہوجاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب وہ بالکل تنہا رہ جاتے ہیں۔وہ زندہ تو رہتےہیں لیکن ایک لاش کی مانند اور میں نے اس ملک میں بے شمار زندہ لاشوں کو گھومتے دیکھا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں جن کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے مغرب میں بہت کچھ ایسا ہے جسے دیکھ کر لوگ رشک کرتے ہیں لیکن حقیقت نہیں جانتے پوری دنیا میں تین حیثیت کے لوگ رہتے ہیں امیر متوسط اور غریب اور یہی معیار مغرب میں بھی ہے دو منٹ میں ایمبولینس کا آجانا اور اسپتال والوں کی توجّہ کو ہم انسانی ہمدردی کہتے ہیں لیکن یہ صرف کاروبار ہے اور اس کاروبار پر قانون کی سختی ہے مریض کے نام پر ایمبولینس کا چار سو ڈالر کا بل اور اسپتال کا پورا بل جو کہ اس نے ہر صورت ادا کرنا ہے ورنہ یہ بل کلیکشن ایجنسی میں جائے گا وکیلوں کے دھمکی آمیز فون اور پھر اس کو عدالت میں کھینچا جائے گا۔کیو ں کے قانون کی سختی ہے۔اگر وہ شخص یہ ثبوت دے دے کہ وہ بہت غریب ہے اور یہ بل ادا کرنے کے قابل نہیں تو یہ بل گورنمنٹ کی طرف سے ادا ہوجائیں گے لیکن اس کا مستقبل ختم ہوگیا زندگی محدود آگے بڑھنے کے راستے بند دوسرے لفظوں میں ادائیگی تو ہوجاتی ہے لیکن زندگی تباہی کے کنارے ہوجاتی ہے کاروبار کرنے جائیں قرضہ لینا ہو ہر جگہ اس کا کریڈٹ آڑے آئے گا۔۔مزید آگے بڑھتے ہیں ۔۔۔مغرب کا پورا نظام خود غرضی پر چل رہا ہے۔یہ خود غرضی جوانی اور صحت قائم رہنے تک تو بہت خوبصورت ہے بہت تفریح والی زندگی ہے لیکن بڑھاپا آتے ہی بہت بھیانک بن جاتی ہے۔اگر کوئی شخص بہت اچھی حیثیت کا تھا کوئی بڑی نوکری یا کاروبار تھا تو بڑھاپے میں رہنے سہنے اور کھانے پینے کی تو کوئی تکلیف نہیں ہوگی ،اس نے جو زندگی بھر ٹیکس دیا تھا اس ٹیکس کے حساب سے اس کو ریٹائیرمینٹ کے پیسے ملیں گے رہنا سہنا تو آرام سے ہوگا لیکن چار پانچ اولادوں کے ہونے کے باوجود تنہائی کا زخم اندر ہی اندر کھاجائے گا ۔نظام خود غرضی کے باعث اولادیں اس کو تنہا چھوڑ دیں گی اور بد قسمتی سے اگر وہ کوئی چھوٹا موٹا کام کرتا رہا ہے ٹیکس بھی کم دیا یا بالکل نہ دیا تو بڑھاپا گوورنمنٹ کے سینئیر سٹیزن ہوم یا نرسنگ ہوم میں کٹتا ہے جہاں بقیہ کی تمام عمر بہت تکلیف میں گزرتی ہے ہر جگہ کا اسٹاف بھی بہت اچھا نہیں ہوتا ہے۔ کچھ اولادیں تو ساری زندگی پلٹ کر نہیں آتی ہیں ماں باپ کے انتقال کے بعد ان کو ڈھونڈ کر خبر دی جاتی ہے ورنہ لاوارثوں کی طرح دفنا دیا جاتا ہے اور کچھ لوگ سال میں ایک دفعہ ملنے آجاتے ہیں۔میں نے اپنے ریڈیو ٹاک شو اور اخبار کی وجہ سے کئی سینئیر ہوم اور نرسنگ ہوم میں جاکر بوڑھے لوگوں کے انٹرویو لئے تھے اور ان کے دردناک واقعات سن کر آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔مغرب کا خاندانی نظام ہمارے خاندانی نظام سے بہت مختلف ہے کچھ اچھے خاندانوں میں رشتوں کا احترام ہے لیکن ہمارے یہاں سے بہت کم ہوتا ہے۔مغرب میں ہر شخص کام کرتا ہے میاں بیوی اور چھٹّیوں میں بچّے بھی کام کرتے ہیں ہر شخص اپنے خرچے کا خود ذمّہ دار ہے باپ بچّوں کی تعلیم پر جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے ان کے بڑے ہونے پر حساب سامنے رکھ دیتا ہے۔اس کے بعدظاہر ہے ایک رسمی رشتہ رہ جاتا ہے۔جوان ہونے کے بعد سب علیحدہ ہوجاتے ہیں ۔بعض اوقات ماں باپ دوسرے شہر بیٹے یا بیٹی سے ملنے جاتے ہیں تو ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں اور تھوڑا سا گھوم پھر کر بیٹا یا بیٹی کے ساتھ ریسٹورینٹ میں ڈنر کرکے واپس چلے جاتے ہیں ہر چیز رسمی ہوتی ہے۔بھائی بہن سب صرف اپنے لئے جیتے ہیں اور بعض اوقات کوئی بھائی بہن کتنے بھی برے حال میں ہو ایک دوسرے کی مدد یہ کہہ کر نہیں کرتے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔جب کہ ہمارے معاشرے میں باپ اپنے بچّوں کے لئے قربانی دیتا ہے ان کے جوان ہونے تک ان کے نوکریوں پر لگ جانے تک ان کی پرورش کرتا ہے اور بدلے میں کچھ نہیں مانگتا ہے۔بھائی بہن ایک دوسرے کے لئے جان تک دینے کو تیّار ہوجاتے ہیں بے شک ہمارا خاندانی نظام محبّت اور قربانی پر قائم ہے اور ایک بہترین نظام ہے۔اب آجائیں ملکی نظام پر مغرب کے پاس ایک بہترین ملکی نظام ہے جس نے سب کو بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ایک لکیر بنادی گئی ہے اور ہر شخص کو اس پر چلنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔میں نے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ صرف ایک عدلیہ ہے جو کسی بھی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈّی کا کام کرتی ہے۔قانون کی بالا دستی ہر چیز پر افضل ہے۔انسانی حقوق پر ہر شخص پابند ہے کہ دوسرے کے حق کی پابندی کرے اور یہ اس سے زبردستی قانون کا سہارا لے کر کروایا جارہا ہے وہ صرف اپنی خوشی سے نہیں کررہا ہے بلکہ قانون کے خوف سے کرنے پر مجبور ہے۔یہاں صرف قانون ہی ایسی چیز ہے جس نے سب کو باندھ کر رکھّا ہوا ہے۔ورنہ یقین کریں قانون کی اتنی سختی نہ ہو تو اس ملک کا حشر ہمارے ملک سے بھی برا ہو ایک عام خیال یہ ہے کہ مغرب میں لوگ بہت اصول اور پابندی اور ایمان داری سے رہتے ہیں منظّم ہیں اور قانون کا احترام کرتے ہیں نہیں جناب قانون کا احترام زبردستی کرایا جاتا ہے۔یہاں لوگوں سے زبردستی ٹیکس لیا جاتا ہے کوئی شخص ٹیکس سے بچ نہیں سکتا اگر ہیرا پھیری کرے گا اور قابو میں آگیا تو پھر سخت سزا سے بھی بچ نہیں سکتا ہے۔نوکری پیشہ کا ٹیکس تو تنخواہ سے ہی کٹ جاتا ہے کاروباری شخص کوشش کرتا ہے کہ ٹیکس میں بچت ہوجائے لیکن اگر حساب کتاب میں آگیا تو سخت جرمانہ اور بعض اوقات سزا بھی ملتی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کی مغرب میں لوگ چوری لوٹ مار نہیں کرتے اس کی وجہ صرف اور صرف قانون کا خوف ہے کیوں کہ ایک چھوٹے سے اسٹور سے لے کر بڑے بڑے ڈپارٹمنٹ اسٹور تک ہر جگہ کیمروں کی بھرمار ہے ہر سڑک پر ہر چوک پر کیمرے لگے ہیں اس کے باوجود زرا سا بھی موقعہ ملے لوگ کام دکھاجاتے ہیں نیویارک میں ایک مرتبہ لائٹ چلی گئی کیمرے کام نہیں کررہے تھے راہ چلتے لوگوں نے لوٹ مار شروع کردی اور ایک بڑا علاقہ لٹ گیا۔اتنی سختی کے باوجود ہر روز جرائم ہوتے ہیں اور گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں۔ہمارے ملک میں سب کچھ ہے صرف قانون کی بالا دستی نہیں ہے قانون بہت سستا سڑکوں پر بکتا ہے۔بڑی بڑی عمارتیں بنالیں، پل ،سڑکیں اور بہترین ٹرانسپورٹ سے ترقّی نہیں ہوتی صرف قانون صحیح کرلیں ہر چیز ٹھکانے پر آجاتی ہے۔انصاف نہ ہونے کی وجہ سے برائیاں جنم لیتی ہیں لوگوں کے حقوق سلب ہوتے ہیں جس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ابھی بھی ہمارے خاندانی معاشرے میں محبّتوں کی شرح مغرب کی نسبت زیادہ ہے یقین کریں آپ ایک خوش قسمت معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خاندانی اقدار ہیں محبّتیں ہیں قربانیاں ہیں اور ایک دوسرے کا سہارا ہیں اور یہ اللہ کی نعمت ہے کمی ہے تو ایک مضبوط عدلیہ کی اور انصاف کی ایک امید ہے کہ شائید اب کچھ بہتر ہوجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں