Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 41

موروثی سیاست

ہماری قوم کا مزاج بھی موسموں کی طرح بدلتا رہتا ہے، مستقل مزاجی کا فقدان ہے، سیاست ہی کو لے لیں، اپنی سیاسی پارٹی یا سیاسی لیڈر کو چننے کا کوئی معیار مقرر نہیں ہے، اکثریت صرف اپنے گھر والوں، جاننے والوں، رشتہ داروں کی تقلید کرتے ہوئے اپنا لیڈر اسے ہی مانتی ہے جسے گھر والے یا رشتہ دار مانتے ہیں۔ چاہے کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو، چاہے لیڈر کرپٹ ہو، پوری پارٹی چور ہو، تمام سیاسی پارٹیوں کو سپورٹ کرنے والے اپنی پارٹی کو اسی لئے سپورٹ کرتے ہیں کہ ان کے بھائی یا والد یا رشتہ دار اس پارٹی میں ہیں تو پھر موروثی سیاست ایک شکل ہیں۔ سپورٹر چاہے کسی بھی پارٹی کے ہوں یوں سمجھ لیں پوری قوم سیاست کے معاملے میں ضبط و تحمل، رواداری، محبت و اخلاص، سب کھو چکی ہے۔ سیاست میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں، اپنے سیاسی مفاد کے لئے ایسی گھناﺅنی اور ذلت آمیز حرکتیں ہو رہی ہیں کہ انسانیت ہی شرمائے جائے۔
پاکستانیوں کی اکثریت ان جاگیرداروں، سرمایہ داروں، نوابوں اور خانوں کے زیر اثر ہے جو زیادہ تر بدمعاش ٹائپ لوگ ہیں جو اپنی دولت اور اپنے پالے ہوئے بدمعاشوں، غنڈوں کے ذریعے جس کو چاہیں قتل کرادیں، کسی کی املاک پر قبضہ کرلیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، ان کے علاقے کے لوگ ان سے خوف زدہ رہتے ہیں اور ہر طرح کے ظلم سہنے کے باوجود وہ ان کے کہنے پر ہی عمل کرتے ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ دیہی علاقوں میں پینے کو صاف پانی نہیں، اسپتالوں، دوائیوں کا فقدان انتہائی ناقص معیار زندگی کے باوجود وہ ان ظالموں کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں اور ان کو یا ان کے پسندیدہ لیڈر کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔ دوسری طرف شہری علاقوں کے رہنے والوں کی اکثریت صرف اپنے دو نمبری کاموں کو قائم رکھنے اور اپنے اپنے ذاتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے نمائندے کو ووٹ دیتے ہیں جو مستقبل میں ان کو کوئی فائدہ دے سکے۔ اس میں مختلف کاروباری لائسنس کا حصول، پلاٹوں کے الاٹمنٹ، نوکریاں یا نوکریوں میں ترقیاں شامل ہیں۔ ان تمام لوگوں کو جس میں دیہی علاقوں کے اور شہر کے لوگ سب شامل ہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کا نمائندہ کتنا کرپٹ یا کتنا بڑا فراڈیا یا چور ہے، ان کو صرف اپنی بقاءکی فکر ہے، جان کا خوف یا ذاتی مفاد زیادہ عزیز ہے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کا جس کا لیڈر اور اس کے ساتھ پارٹی میں شامل لوگ عام سے لوگ ہوں، نا ہی کسی علاقے کے ٹھیکے دار ہوں اور نا ہی خوف کا سمبل ہوں۔ سیاست کے میدان میں دوڑنا اور کامیاب ہونا ناممکن ہے۔
عمران خان کو یہ حقیقت سمجھنے میں 20 سال لگے، تب اپنی حکومت بنانے کے لئے ایسے لوگوں کو بھی مجبوراً شامل کرنا پڑا جن کو وہ پسند نہیں کرتے تھے۔ عمران خان بہت کم سیٹوں سے اقتدار میں آئے تھے لہذا ہمیشہ بلیک میل ہوتے رہے اور اپنے ہی حواریوں کی غداری کی بناءپر حکومت چھوڑنا پڑی۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ جس پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں اس پارٹی کا ہر قائد صادق و امین ہو جاتا ہے۔ پارٹی کے کسی بھی شخص کے بارے میں وہ کوئی غلط بات نہیں سن سکتا جو کبھی کبھی سچ بھی ثابت ہوتی تھی۔
ایم کیو ایم کے لوگوں کے بارے میں جب جب میں نے کہا یہ بھتہ لیتے ہیں، یہ قبضے کرتے ہیں تو ہمارے دوست بہت ناراض ہوتے تھے لیکن جب یہ لوگ ٹکڑوں میں تقسیم ہوئے تو یہی ہمارے دوست ان کو گالیاں دے رہے تھے۔ اسی طرح پی ٹی آئی سمیت کسی بھی پارٹی کے نمائندے پر آپ اعتراض کریں اس پارٹی کا سپورٹر آپ سے لڑنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی کے ایم این ایز عدم اعتماد کی کارروائی کے دوران پی ٹی آئی کے منحرف ہو گئے، اسی طرح جاوید ہاشمی جب پی ٹی آئی میں تھے تو کوئی کچھ کہنا تھا تو گالیاں کھاتا تھا، بعد میں وہی لوگ جاوید ہاشمی کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ فیصل واوڈا پر میں نے پہلے بہتر اعتراض کیا، لوگ برا مانے، انجام آپ کے سامنے ہے۔ سواتی کی ویڈیو کا معاملہ سواتی کے سابقہ ریکارڈ کی بدولت امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں فراڈ کے کیس پاکستان میں غریب فیملی پر ظلم کا کیس اس وجہ سے مجھے اس کے آنسوﺅں کا کوئی اثر نہیں ہوا اور میں ابھی تک ویڈیو والی بات پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں عمران خان یا پی ٹی آئی کے خلاف ہو گیا۔ ایک صاحب نے کہہ دیا آپ کا کوئی ذاتی اختلاف ہو گا اعظم سواتی کے ساتھ۔ ارے بھائی اپنے لیڈر سے اپنی پارٹی سے بے انتہا محبت کرو، لیکن اعتراض کرنے کا حق تو محفوظ رکھو یا اپنی مرضی، اپنے ذہن سب لیڈر کے پاس گروی رکھ دیئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں