عجب لوگ 121

میں نے شکست کھائی ہے اپنی سپاہ سے

سب چل رہے ہیں راہ زنوں کو لئے ہوئے
ہر قافلہ کا ایک ہی دستور ہو گیا
سول سوسائٹی، اسٹیبلشمنٹ، حکومت، نون لیگ اور زرداری کی پیپلزپارٹی جسے مختلف گروہوں کے اندر ایک ہی جیسے لوگ موجود ہیں۔
یہ تمام فریق جو ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں وہ بالکل درست اور سچے ہیں، کوئی بھی طبقہ ان سے مبرا نہیں ہے، ان میں سے کچھ افراد کو اس سے منہا کیا جا سکتاہے، ممکن ہے کہ حکومت میں عمران خان چور نہ ہو، یا قمر جاوید باوجودہ چور نہ ہو یا شہباز شریف یا مریم نواز چور نہ ہو یا پیپلزپارٹی میں تاج حیدر چور نہ ہو لیکن ہر گروہ میں کرپٹ عناصر کی بھرمار ہے جس میں جتنی قوت ہے وہ اتنا ہی بڑا کرپٹ ہے یعنی ہمارے معاشرے سب سے بڑی قد آور شخصیت ہی جس کے پاس بہت بڑی طاقت ہے وہ قوت ہی اس کو کرپشن کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ موجودہ دور میں عمران خان کا بیانیہ تقریباً فیل ہو چکا ہے، ایک طرف چور، ڈاکو جیسے لفظ کے معنی تبدیل ہو چکے ہیں یہ چور ڈاکو اب عزت و عظمت کی جگہ لے چکے ہیں جو جتنا بڑا بدعنوان ہے جتنا بڑا طاقتور ہے وہ عظیم ہے وہ بلند مرتبہ ہے، عزت و وقار کا حامل ہے۔ ہمارے معاشرے کی یہ ہی تصویر سامنے بھرپور انداز میں نظر آرہی ہے یہ ہی وجہ ہے جو جتنا بڑا ڈاکو ہے وہ اتنی ہی زیادہ عزت و توقیر کا حامل ہے۔ اب مقابلہ بھی ان ہی چوروں اور ڈاکوﺅں کے درمیان ہے جو سب سے زیادہ طاقتور ہو گا اس میں وہ ہی کامیاب ہو کر سامنے آجاتا ہے۔
عمران خان نے تقریباً دس پندرہ سال سے چور ڈاکو کے نعرے لگانے شروع کر دیئے تھے، کچھ لوگوں نے عمران خان کے خلاف ایک محاذ قائم کرلیا جو اس محاذ میں جگہ نہ بنا سکے انہوں نے عمران خان کے چاروں جانب کھڑے ہو کر ان کو یقین دلایا کہ وہ اس جنگ میں ان ہی کے ساتھی ہیں۔ اور یوں ان منافقین نے اندر سے نقصان پہنچانا شروع کردیا۔ وہ بظاہر تو عمران خان کے ساتھی تھے لیکن ان کے مفادات بھی سب چور ڈاکوﺅں کی طرح قائم و دائم تھے انہوں نے عمران خان کو ڈھال بنا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے کارروائیاں جاری رکھیں۔ عمران خان نے بھی ان پر بھروسہ کرکے جو شاید ان کی مجبوری تھی ان کی طرف سے آنکھیں بند رکھیں جس کی وجہ سے عمران خان کی ساکھ بھی دن بدن بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔ دوسری طرف ملک کے حالات اس قدر بحران دربحران رہے کہ عمران خان کی توجہ ان پر مرکوز رہی وہ یہ ہی سمجھتا رہا ہے کہ ان کے ساتھی چوروں ڈاکوﺅں سے ملک کو نجات دلانے میں اس کی بھرپور مدد کرتے رہیں گے۔ ہوا اس کے برعکس، ان کے اپنے ساتھی بھی اس دھندے میں اندھا دھند ملوث رہے اور ملک میں کرپشن کم ہونے کے بجائے دن بہ بدن بڑھتی رہی جس کے اثرات عوام پر بے تحاشہ گرانی مہنگائی کی صورت بڑھتے چلے گئے ایک طرف عمران خان کے ساتھی خود چھوٹے اور درمیانی درجے کے چور ڈاکو کا رول نبھاتے رہے دوسری طرف حکومت کی نا اہلی میں بھی اپنا حصہ ڈال کر اس کی حکومت کو ناکام بناتے رہے۔ عمران خان کے نظریاتی ساتھیوں کو دیوار سے لگا کر خود ہر شعبہ میں قوت کے حامل بن بیٹھے۔ اس طرح عمران خان جس کو یہ یقین تھا کہ وہ ایک مضبوط اور قابل ترین افراد کی ٹیم کے ذریعہ اپنے دیرینہ مقاصد کی تکمیل کر سکیں گے جس کی وجہ سے وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکے تھے وہ خواب بھی وقت کے ساتھ ساتھ بکھرنا شروع ہو گیا اب نوبت ایسی آچکی ہے کہ وہ ایک کمزور بنیادوں پر کھڑا ان کا محتاج بن چکا ہے۔ اس کے مخالفین سے زیادہ اپنے ساتھیوں نے اس کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے اب بھی عمران خان کے حامی اس سے یہ ہی امید کرتے ہیں کہ عمران خان ہنگامی بنیادوں پر کام کرکے سب سے پہلے ان فریبی ساتھیوں سے کنارہ کشی اختیار کریں اور نظریاتی ساتھیوں کو دوبارہ اپنی ٹیم میں شامل کرکے اپنی ذاتی حیثیت کو بہتر بنائیں۔
عمران خان نے سیاست کے جس میدان میں مقابلے کی ٹھانی ہے اس کے مطابق ہی اس مقابلے میں شریک ہونا چاہئے جیسا کہ ماضی میں ہوا، اکرم پہلوان نے انوکی سے مقابلے میں شکست کے بعد اپنا ٹوٹا ہوا کندھا دکھا کر کہا کہ ”اس نے میرا بازو مروڑ دیا“ اور ہار مقصود ہوئی یہ جس میدان میں مقابلہ کررہا ہے اس کے مطابق ہی اس میں شریک ہونا چاہئے۔ فٹبال کے کھیل میں کرکٹ کے اصولوں سے مقابلہ نہیں جیتا جا سکتا۔ سیاست کے اس میدان میں جھوٹ فریب مکاری ریاکاری کے ساتھ ساتھ دھونس، دھاندلی، قوت، بدعنوانی، بدمعاشی کے ساتھ ناجائز دولت کے ذریعے جیت کا حصول ہوتا ہے۔
خلوص و محبت مہر و وفا کا نام نہ لو
یہ بت کدا ہے یہاں تم خدا کا نام نہ لو
اس میدان میں دیانت، شرافت، اصول سپندی سے مقابلہ کرکے جیت کا حصول نہ ممکن ہے، ہمارے معاشرے کی اکثریت دیانت، شرافت، اصول پسند میرٹ کی روادار رہتی ہے۔ وہ ہر ناجائز طریقوں سے دولت و مرتبہ حاصل کرنے کے حصول میں مصروف ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں مکاری، ریا کاری کو عروج حاصل ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ سندھ کے علاقے میں سب سے طاقتور شخص آصف علی زرداری ہے۔ اس طرح اوپر سے نیچے تک زرداریوں کا غلبہ ہے۔ یہ سلسلہ اوپر سے نیچے تک اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جو جتنی بڑی طاقت رکھتا ہے وہ اتنا ہی بڑا زرداری ہے اس سے کم طاقت والا اس سے کم درجہ کا چھوٹا زرداری ہے۔ اس طرح مختلف چھوٹے بڑے طبقے اوپر سے نیچے تک چھوٹے سے چھوٹے زرداریوں میں تبدیل ہوتے چلے گئے۔ آج سندھ میں زرداری گالی نہیں عزت و توقیر کا اعزاز سمجھی جاتی ہے۔ ہر چھوٹا بڑا اپنا آپ کو زرداری کہلوانا میں فخر محسوس کرتا ہے۔ اس لئے اب مخالفین کو چور ڈاکو کہنا چھوڑ دینا چاہئے اگر ان کو گالی دینی ہے تو ان کو مخلص دیانت دار کہو اس طرح عام لوگ ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے کہ ان سے ہمیں کیا فوائد حاصل ہو سکیں گے۔ اس ہی طرح پنجاب جو جتنا بڑا پٹواری ہے اتنا ہی بڑا رہنما ہے۔ سب سے بڑا پٹواری بڑا رہنما وہاں پر بھی پٹواری ہونا گالی نہیں بلکہ اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہی صورت حال دوسرے علاقوں کی جہاں جاگیردار، وڈیراہ، عزت و عظمت کی علامت ہے۔ ہمارا معاشرہ انحطاط کی اس منزل پر پہنچ گیا ہے جہاں مکر و فریب کو ایک ہنر سمجھا جاتا ہے۔ عجز، انکار کو ایک کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے، خلوص کو حماقت، رواداری کو فرسودگی، ریاکاری کو خصوصیت فریب کو ذہانت، جبر و تشدد کو قوت اور پاور رسوخ سمجھا جاتا ہے۔ وہاں ہر وہ روایتی طریقہ طرز کہیں ہو۔ اس لئے فٹبال کے گراﺅنڈ پر کرکٹ کے طریقے نہیں اپنائے جا سکتے ہیں۔ آج اصول اور فائدوں پر چلنے والے گھاٹے میں رہیں گے۔
انہیخواہشات نے پسپا کیا مجھے
میں نے شکست کھائی ہے اپنی سپاہ سے
آج کے زرداری، پٹواری مخالفین میں ہی نہیں خود اپنی صفوں میں ہی موجود ہیں۔ مقابصہ صرف غیروں سے ہی نہیں، پہلے اپنے اندر کے ساتھیوں سے ہے۔
دائروں میں جو بٹ گیا ہوں میں
اپنے مرکز سے ہٹ گیا ہوں میں
جن پہ امکاں تھا ہار جانے کا
اُن محاذوں پہ ڈٹ گیا ہوں میں
پہلے طوفاں کو روک لیتا تھا
اب ہوا سے پلٹ گیا ہوں میں
بڑھ گئی جس قدر مری قیمت
وزن میں اتنا گھٹ گیا ہوں میں
زندگی کے معاملات نہ پوچھ
اپنے ملبے میں اٹ گیا ہوں میں
(صبا اکبر آبادی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں