تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے 59

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

یہ ہی ہے وہ سوال جو اس وقت ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے۔ ٹھیک اس وقت جب پاکستان کرکٹ کی خوشیوں میں ہواﺅں میں اڑ رہے تھے کہ پاکستان 4 میچ جتینے کے بعد سیمی فائنل میں داخل ہونے کی تیاریوں میں ہے۔ ابھی تک پاکستانی کھلاڑیوں نے انتہائی سنبھل کر کھیلنے کے طریقے کو اپنایا ہے اور امید یہ ہی رکھنی چاہئے کہ وہ آئندہ میچوں میں بھی اس ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ حسب روایت پاک بھارت میچ نے وہی سنسنی خیزی برقرار رکھی جو اس کا خاصا رہا ہے۔ بھارت کو ہرانے کے بعد پاکستانیوں نے نعرے لگانے شروع کردیئے کہ ہمارا کپ تو آچکا اب فکر نہیں ہے مگر یہ ضرور ہوا کہ ورلڈکپ آئے یا نہیں، پاکستانی اور بھارتی کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کے لئے جس رواداری کا مظاہرہ کیا وہ یقینی طور پر قابل تحسین ہے۔
افغانستان کی نئی ٹیم نے ہارنے کے باوجود جس اعتماد اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اس سے مستقبل میں اس کی ترقی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ بھارت کے بعد نیوزی لینڈ کو ہرا کر پاکستانیوں نے وہ حساب ضرور برابر کرنے کی کوشش کی جو چند ماہ قبل سیکیورٹی کے نام پر پاکستان کے ساتھ کیا گیا تھا۔
کرکٹ کے انہی وسوسوں کے درمیان ہی پاکستان کے سیاسی افق پر ابھرنے والی ایک نئی مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے ایک دفعہ پھر اپنے مطالبات حکومت پاکستان کے سامنے رکھتے ہوئے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا اعلان کردیا۔ پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس ریاست میں کئی طریقوں سے مذہبی کارڈ کا استعمال کیا گیا ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت وقت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے اور کبھی خود حکومتوں کی طرف سے اور نتیجتاً اس کی گردش میں آتے رہے سادہ لوح عوام۔
یہ جماعت 2017ءمیں باقاعدہ طور پر وجود میں آئی۔ خادم حسین رضوی اس کے بانی رہے جو کہ لاہور کے ایک مدرسے میں خطیب کے فرائض انجام دے رہے تھے اور بریلوی مکتبہءفکر سے تعلق رکھتے تھے۔ جب پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے ایک محافظ ممتاز قادری نے قتل کیا تو خادم رضوی نے اس قتل کی حمایت کی اور اپنے خطبوں میں اس عمل کو کھل کر سراہا جس کے نتیجے میں محکمہ اوقات کی طرف سے انہیں نوکری سے فارغ کردیا گیا اس کے بعد خادم حسین رضوی متحرک ہو گئے اور ناموس رسالت کے نام سے تحریک کی داغ بیل ڈالی اور ممتاز قادری کی حمایت میں بھی عملی طور پر سرگرم ہو گئے اور حکومت کی پابندیوں کے باوجود علامہ اقبال کے مزار پر جلسہ منعقد کیا۔ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد یہ اعلان کیا کہ وہ ایک تحریک لبیک پاکستان کے نام سے باقاعدہ مذہبی جماعت کی بنیاد رکھنے جارہے ہیں اور اس طرح اسے 2017ءمیں رجسٹر کروایا گیا اور مختلف مطالبات کے ساتھ مختلف مواقع پر احتجاجوں اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ 2020ءمیں خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے سعد حسین رضوی کو اس جماعت پر امیر کے طور پر نامزد کردیا گیا۔ خادم حسین رضوی کے جنازے میں لاہور میں ایک کثیر تعداد شامل ہوئی جس سے اس جماعت کی مقبولیت کا اندازہ لگایا گیا اس جماعت نے مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی قدم رکھا اور 2018ءکے انتخابات میں کئی مقامات پر تیسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی مگر اس تحریک کے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے بے شمار واقعات رونما ہونے کی وجہ سے جس میں کئی لوگوں کے زخمی اور متعدد پولیس اہلکاروں کے جاں بحق ہونا بھی شامل ہے کی وجہ سے اسے کالعدم قرار دینے کا عمل کیا گیا اور بعض وجوہات کی بناءپر جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے علاوہ کئی کارکنان بھی مختلف الزامات میں گرفتار کئے گئے۔ پچھلے کئی دنوں سے ایک دفعہ پھر یہ تحریک احتجاج پر ہے اور اس دفعہ اپنے پرانے مطالبوں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف جھتوں کی صورت میں مختلف شہروں سے چل کر دھرنے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ ایک مستقل سلسلہ ہے، سیاسی جماعتیں وفاقی دارالحکومت کی طرف رخ کرتی ہیں اور اسلام آباد میں آکر بیٹھ جاتی ہیں اور حکومت پر دباﺅ ڈال کر مطالبات پورے کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ احتجاج ہر شہری اور جماعت کے قانونی حق ہے مگر یہ بھی لازم ہے کہ یہ مظاہرے پرامن رہیں اور کسی قسم کی بھی مالی یا جانی نقصان کسی بھی فریق کو نہ اٹھانا پڑے۔
مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلتے رہنے چاہئیں اور گفت و شنید کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جانا چاہئے۔ حالیہ معاملے میں ایک دفعہ پھر تشدد کا عمل سامنے آیا ہے۔ کئی پولیس اہلکار نہ صرف تشدد کا شکار ہو کر جاں بحق ہوئے بلکہ کئی براہ راست فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ زخمیوں کی ایک بڑی تعداد ہے، دونوں فریقین کی جانب سے۔
لگتا ہے کہ حکومت اس تحریک کے مقابلے میں اپنی رٹ قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ جو مسئلے مظاہرین کی طرف سے اٹھا گئے وہ گزشتہ واقعات پر مبنی رہے۔ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے، سعد رضوی کی رہائی کے ساتھ کارکنان کی رہائی بھی دہرائی گئی۔ حکومت نے جتھوں کو روکنے کی کوششوں کے ہمراہ اس کی پرتشدد کارروائیوں کی سختی سے مذمت کی اور وزراءکے سخت بیانات کا سلسلہ شروع ہوا جس میں اس بات کی کھل کر وضاحت کی گئی کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت کسی طور بھی ایسے عناصر سے نرمی نہیں برتے گی جو اس کے اختیارات کو چیلنج کرے گا۔ مگر بہت جلد ہی حکومت کی طرف سے مذاکرات کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا اور ایک نئی حکومتی مشاورتی ٹیم اور دیگر جماعتوں کے علمائے کرام کو بھی شریک کیا گیا۔ مذاکرات کس حد تک کامیاب ہوئے اس کا تو فی الحال کوئی اندازہ نہیں ہو رہا ہے مگر جو بیانات مظاہرین کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کی طرف سے آرہے ہیں وہ حکومت کے پسپا ہونے کے شواہد ضرور بیان کررہے ہیں۔ مظاہرین کی طرف سے یہ کہنا کہ ہم اب صرف ذمہ دار لوگوں سے مذاکرات کررہے ہیں خود ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔ جھوٹے اور ناقابل بھروسہ حکومتی ارکان سے بات چیت نہیں ہو سکتی، کہنے والے ایک عالم ظاہر کررہے ہیں کہ وہ اپنا پرانا حساب موجودہ وزیر اطلاعات سے برابر کرنے کی کارروائی میں ہیں یا پھر جماعتی ارکان کی طرف سے یہ بیان کہ ہمارے لوگ پرتشدد نہیں کچھ باہر کے لوگ ایسے شامل ہو جاتے ہیں، ہجوم میں جو ان کارروائیوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پھر یہ تحریک ان لوگوں کی نشاندہی کرکے انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرتے ہیں۔ ٹیلی ویژن پر جو عکس دکھائے جارہے ہیں ان میں پولیس اہلکاروں کو نہ صرف زخمی کیا گیا ہے بلکہ ان سے عاشق رسول ہونے کے نعرے لگوائے جارہے ہیں یہ مناظر ہندوستان کے اسکرینوں پر تو بارہا دیکھا گیا کہ جہاں مسلمانوں پر تشدد کرکے انہیں ہندو مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا مگر اسلامی ریاست میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو زخمی کرنے کے بعد اسے عاشق رسول ہونے کا سرٹیفکیٹ دے یہ ایک انتہائی فکر انگیز منظر ہے اس ملک کے معاشرے کے ہر طبقے اور فرد کے لئے۔ وہ پولیس اہلکار جو مظاہرین کے ہاتھوں شہید ہوئے کیا ان کے عاشق رسول ہونے پر کچھ شکوک تھے؟ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان پر یہ الزام عائد کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ جماعتی ارکان اس وقت یہ بھی کہہ رہے تھے کہ فرانسیسی سفیر کا کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ مسئلہ کبھی اٹھایا ہی نہیں گیا حالانکہ حکومتی حلقے اور خارجی امور کی وزارت اس بات کی بارہا درخواست کرتی رہی کہ اس مطالبہ سے گریز کیا جائے کہ پاکستان اس قسم کے اقدام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
حکومت مذاکرات کے ذریعے کیا حاصل کرلے گی۔ کیا آئندہ ایسے احتجاجات سے چھٹکارا پایا جا سکے گا۔ تحریک انصاف کے کیا اس وقت اپنے سخت موقف کو تبدیل کرکے مذاکرات کی طرف مائل ہونے کے پیچھے کیا کچھ اور عوامل اور محرکات کارفرما ہیں۔ حکومت نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں کہ جماعت کے اوپر کالعدم ہونے کی پابندی کو ختم کرکے اسے سیاسی دھاروں میں شامل رہنے کی آزادی دے دی گئی ہے۔ اس کے کارکنان رہا کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ سعد رضوی کی رہائی چونکہ عدالتی دائروں میں آتی ہے، اس لئے اس پر کوئی یقین دہانی نہیں کی گئی ہے مگر وہ جماعتی ارکان جو اس وقت کئی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی شہادت کا باعث ہیں ان کے متعلق حکومت کی کیا حکمت عملی ہو گی یا جو شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ان ملوث لوگوں سے بارپرس کی جائے گی۔
ابھی تک معاہدے اور مذاکرات کی تفصیل حکومت کی طرف سے سامنے نہیں آئی ہیں مگر کیا حکومت تحریک لبیک کی سیاسی طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات پر آمادہ ہوئی ہے۔ کیا آئندہ انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھایا جانا بھی مدنظر ہے۔ سیاست ایک عجیب و غریب کاروبار ہے اس میں کچھ بھی، کہیں بھی، اور کبھی بھی کی توقع رکھی جا سکتی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس تمام کی گردش کی زد میں آنے والے معصوم عوام ضرور حیران و پریشان یہ سوچنے پر مجبور رہتے ہیں کہ
کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں