لمبے ہاتھوں اور گہری جیبوں والے 39

ننھے بچوں کی دوسو پندرہ بے نشان قبریں: کینیڈا کے ماتھے کا دائمی کلنک

یہ تحریر اولا ً ان غیر سفید فام تارکین وطن کے لیئے ہے جو کینیڈا میں مقیم ہیں، یا جو روزانہ ہی اپنے گھرو ں سے کینیڈا کی طرف ہجرت کی راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کی نظر میں وہ سالانہ اعداد و شمار ہوتے ہیں جو کینیڈا کو بسنے کے لیئے دنیا کا بہترین ملک ثابت کرتے ہیں۔ جہاں واقعی دنیا کے بہترین نظام ہائے صحت میں سے ایک قائم ہے۔جہاں عموماً شہری آزادیا ں ہیں، جہاں انسان اپنے ضمیر کی آزادی کے ساتھ گزر بسر کر سکتے ہیں۔لیکن یہاں کے غیر سفید فام اس معاشرہ کے سیاہ پہلوﺅ ں سے یا تو آگاہ نہیں ہوتے یا ان کو نظر اندازکرنے ہی میں اپنی عافیت گردانتے ہیں۔ اس معاشرہ کا تاریک ترین پہلو ان شہریوں کی زندگی ہے جن کی پہچان، ’ریڈانڈین ‘سے بدل کر ’انڈین ‘، اوراب ’فرسٹ نیشن‘ یا اولین شہریوں کے نام سے کی جاتی ہے۔ ایک زمانے میں نو آبادیوں، بالخصوص برطانوی نو آبادیاں میں ان کو حقارتاً، ’نے ٹِو‘ Native کہا جاتا ہے۔
کینڈا کے یہ اولین شہریوں اور ان کے ساتھ دیگر دیسی قومیں جو پہلے ، ’ اسکیمو‘ بھی کہلاتے تھے ، مظلومیت اور ان کے ساتھ کی جانی والی منظم نسل کشی اور زیادتیوں میں بھی سرِ فہرست ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دو یورپی قوموں، یعنی فرانسیسی ، اور برطانوی قوموں نے ان کو محکوم بناتے وقت ا ن کے ساتھ ہر وہ زیادتی روا رکھی جو استعماریت اور نو آبادیت کا خاصہ ہے۔ ان کی زمینوں، اور پیداوار کے وسائل پر غاصبانہ قبضہ کیا گیا۔ ان کوان کی زمینوں کو سے جبراً بے دخل کیا گیا۔پھر ان زمینوں پر جو بستیاں بنائی گیئں ان کے نام برطانوی بستیوں یا حکمرانوں پر رکھے گئے۔ مثئلاً، لنڈن، ونڈسر، ہیملٹن، کنگسٹن، وکٹوریا، سَرے، اسٹریٹفورڈ، وغیرہ۔ بعد میں انہیں ان علاقوں میں محدود کرکے ان بستیوں کو ، ریزرویشن کا تحقیر آمیز نام دیا گیا۔
ان دیسی باشندوں کے ساتھ قانون کی آڑ میں ایسے معاہدےکیئے گئے جنہیں تاجِ بر طانیہ کے ساتھ کی گئی ’ٹریٹی ‘ Treaty کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدے عام طور پر یا تو یک طرفہ تھے ، یا جبری۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بارہا سرکار نے جس میں برطانوی سرکار بھی شامل تھی اور اب کینیڈا کی سرکار بھی، ان معاہدوں کو یا تو توڑا ،یا ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ اگر خال خال اولین شہری ان معاملات کو عدالتوں میں لے جانا بھی چاہیں تو مقدمے سالہا سال لٹکتے ہیں اور زیریں عدالتوں کے فیصلے عموماً ان کے خلاف جاتے ہیں۔ یعنی چِٹ بھی استعمار کی اور پَٹ بھی سرکار کی۔
اولین شہریوں کے ساتھ جبر میں سرِ فہرست ، ان کی یورپی طرزِ زندگی اور مذہب میں جبری شمولیت تھی۔ جسے Assimilation یا جبری انجذاب بھی کہا جاتا ہے۔اس عمل میں تطہیرِ ذہنی کا آسان طریقہ تو ان باشندوں کو یورپی یا عیسائی نام دینا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف فرقوں کے عیسائی مبلغ یا مشنری ان کو عیسائی بناتے تھے۔
اس عمل کا سب سے تکلیف دہ یا گھناﺅنا پہلو وہ تھا، جس میں حکومتِ وقت کی سرپرستی ہی میں ان کے معصوم بچوں کو جبراً ، ان کے خاندانوں سے چھین کر دور دراز علاقوں کے عیسائی رہائشی اسکولوں میں لے جایا جاتا تھا تاکہ وہ اپنے روایتی طرزِ ندگی اور ثقافت سے ہمیشہ نا آشنا رہیں۔ ہم اس کو اس ہی عمل سے جوڑتے ہیں جس میں عثمانی ترک اپنی محکوم آبادیوں کے بہت ہی کم عمر بچوں کو چھین کر نہ صرف مسلمان بناتے تھے بلکہ سلطانِ وقت کے جاں نثار محافظ بھی۔ طریقہ تو تقریباً ایک سا ہی لگتا ہے لیکن کینیڈا کے ان اغوا شدہ بچوں کی قسمت میں سلطانوں کی قربت شامل نہیں تھی۔ ایسے رہائشی اسکول سارے کینیڈا میں بکھر ے ہوئے تھے۔
کینیڈا میں ان بچوں کی تعداد ہزارو ں کی تعدا دتک پہنچتی ہے جو اس طرح سے چھینے گئے۔ ان میں سے اکثر پھر دوبارہ اپنے ماں باپ سے کبھی نہ مل پائے۔ بعض اندازوں کے مطابق ایک سو بیس سال کے عرصہ میں ان بچوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان بچوں میں سے چار ہزار سے چھ ہزار کے لگ بھگ ان اسکولوں میں وفات پا گئے تھے۔ ان بچوں کی اموات کے بارے میں اکثر والدین کو اطلاع نہیں دی گئی۔ اور ان میں سے بیشتر کو ان اسکولوں سے ملحقہ قبرستانوں میں دفن کردیا جاتا تھا۔
گزشتہ ہفتہ برٹش کولمبیا کے شہر کملوپس میں ایسے ہی بچوں کی دو سو پندرہ بے نشان قبریں پائی گیئں۔ اس دریافت نے کینیڈا کے شہریوں کو ششدر کر دیا۔
انسانی حقوق کے عمل پرستوں اور اولین شہریوں کے مطالبوں کے بعد کینیڈا کے وزیرِ اعظم،ٹروڈو نے اس دریافت پر رنج و غم کا اظہار کیا، اور حکم دیا کہ ملک بھر کی وفاقی عمارتوں پر کینیڈا کے پرچم تا حکمِ ثانی سرنگوں رکھے جائیں گے۔ کئی عمل پرست اس عمل کو صرف زبانی جمع خرچ قرار دے رہے ہیں۔ ان کی نظر میں اولین باشندوں کے معاملات کی ذمہ دار وزارت کے بعض افسران کا وہ رویہ بھی ہے جس کے تحت ان اسکولوں میں وفات پانے والے بچوں کی باقیات باقاعدہ تدفین کے لیئے ان کے والدین کو نہیں دی جا سکتیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک اس میں بہت خرچ آسکتا ہے۔
کینیڈا ،اور کملوپس Kamloops کے انسان دوست شہری ان بچوں کی یاد میں دعایئں کر رہے ہیں، چراغ روشن کر رہے ہیں، اور اسکول کی سیڑھیوں پر بچوں کے چھوٹے چھوٹے جوتے ان کی یاد میں سجا رہے ہیں۔ ہمارے لیئے تو یہ زخم اور غم دائمی ہیں۔ یہ بھی کہ کینیڈا کے اولین باشندوں کے ساتھ جاری نسل پرست رویہ مسلسل ہے۔ یہ بے نشان قبریں اور نسل پرست رویہ، کینیڈا کے ماتھے کا دائمی کلنک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں