پاکستانی سیاست، فوجی جنرلز اور تلخ حقیقت 100

نیا پینڈورا بکس

پاکستان کی سیاست میں فوج کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور ایوب خان کے درمیان اقتدار میں مداخلت کے حوالہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کا معاملہ اب تناور درخت بن چکا ہے۔ فوج کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اس نے جسے اپنا سمجھ کر اقتدار حوالے کیا، اسی نے فوج کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں تو ان کے اپنے سپہ سالار امریکہ کے اشاروں پر ناچتے ہوئے انہیں تخت دار پر لٹکا گئے اور بعدازاں خود بھی عبرت ناک موت کا شکار ہوئے کیونکہ انہیں استعمال کرنے والے چاہتے تھے کہ اب ان کا پتہ صاف کرنا ضروری ہے۔ پھر بے نظیر کا معاملہ آیا تو انہیں بھی راستے سے ہٹا دیا گیا۔ نواز شریف فوج کی آنکھوں کا تارا بنے مگر آخرکار پھٹ پڑے اور فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف آواز بلند کردی اور فوجی جنرلوں کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ انتہا کی کوشش، طاقت اور ملک کی اکثریتی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود فوجی جنرل پرویز مشرف کو خواہش کے مطابق سزا نہ دلوا سکے بلکہ انہیں خود ملک بدر ہونا پڑ گیا۔
پاکستان کے طاقت ور حلقے عمران خان کو اقتدار میں لائے جو ایک بیانیہ روز اول سے سامنے رکھا گیا وہ سابقہ سیاستدانوں کی کرپشن تھا اور عمران خان نے نہایت خوبصورت سے اس پورے پلان کو عملی جامہ پہنایا مگر وہ بھی عدالتوں سے ان مجرموں کو سزا نہ دلا سکے بلکہ ان کی یہ غلط فہمی بھی فوجی جنرلوں نے جلد دور کردی کہ ان کا نعم البدل موجود نہیں اور فوج انہیں کبھی بھی نہیں ہٹائے گی مگر فوج نے اپنا وزن ان سیاستدانوں کے پلڑے میں ڈال دیا جنہیں گزشتہ تین سال عمران خان کے منہ سے کرپٹ کہلوایا جاتا رہا مگر عمران خان کا بیانیہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔ نتیجتاً اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جب اسٹیبلشمنٹ نے اس بار عمران خان کی حکومت کو اس کی میعاد ختم ہونے سے قبل گھر بھجوایا تو عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ عمران خان حکومت سے تو باہر آگئے مگر ان کی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے فوجی جرنلوں، سیاستدانوں، ججوں اور بیوروکریسی کو ننگا کرکے رکھ دیا۔ وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں کہ ”ہم امریکہ کے غلام نہیں“ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا یہ بیانیہ بیرون ملک میں مقیم پاکستانی پروموٹ کررہے ہیں حالانکہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کو یہ تنبیہہ کی گئی ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف نعرے نہ لگائے۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں ایک سال قبل عمران خان کو حکومت سے نکال کر سنگین غلطی کی گئی ہے۔ اگر اسے رہنے دیا جاتا تو وہ خود گھر چلا جاتا مگر جس بھونڈے انداز میں انہیں حکومت سے باہر کیا گیا۔ اس نے ایک سوالیہ نشان کھڑا کردیا اور آج فوجی جنرل، ججز اور میڈیا عوام کی سخت تنقید کی زد میں ہے اور اگر اس معاملہ کو فوری طور پر نہیں سنبھالا گیا تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ پاکستان میں انتشار پیدا کرنا ہندوستان اور امریکہ دونوں کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان معاشی طور پر قلاش ہو چکا ہے۔ چائنا اور روس دور جا چکے ہیں اور یوں امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان کو اپنے کیمپ میں گھسیٹ لیا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ نئی آرمی چیف کی تقرری سے قبل الیکشن ناگزیر ہیں اور ان حالات نے موجودہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو ایک نئی صورتحال میں ڈال دیا ہے اور یہ اقتدار موجودہ حکمرانوں کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ جو نہ نگلنے کی ہے اور نہ اگلنے کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں