Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 191

وحشیانہ اقدام

جب انسان نے تہذیب کی طرف رخ کیا اور تہذیب یافتہ معاشرہ قائم کرنے کا خیال ہوا تو اس نے اپنے قدم بڑھائے اور جیسے جیسے وہ قدم آگے بڑھا رہا تھا۔ تہذیبی معاشرے کی تشکیل میں مصروف تھا۔ جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا تو اسے اپنا وحشی پن نظر آتا اور وہ افسوس کرتا تھا چونکہ اجتماعی طور پر تہذیب کے مراحل سے گزر رہا تھا لہذا ہر آدمی اس تہذیب کی دوڑ میں آگے نکلنے کی کوشش کررہا تھا اس دوڑ میں قومیں مذاہب سب شام لتھے۔ اور اب ہم اس دور میں سانس لے رہے ہیں جسے تہذیب یافتہ دور کہا جاتا ہے۔ ہم تاریخ سے ظالم و جابر لوگوں کے نام نکال کر اسے وحشی دور کی ایک مثال بنا کر پیش کرتے ہیں، ہمیں بتایا جاتا ہے کہ غیر مسلم صرف مسلمانوں کے دشمن ہیں لیکن تاریخ کچھ اور بھی کہتی ہے۔
جوزف اسٹالن 1941ءسے اپنی موت تک یعنی 1953 تک روس کا پریمیئر رہا جو کہ ہیڈ آف دی گورنمنٹ ہوتا ہے اس کے دور میں اور اس کے حکم پر ڈھائی لاکھ بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا کیونکہ وہ پولینڈ، کوریا، جرمنی اور کچھ امریکہ کے باشندے تھے جو نامساعد حالات میں روس ہجرت کر گئے تھے۔ ہٹلر نے 1939ءسے 1945ءکے درمیان ایک کڑور چالیس لاکھ لوگوں کو مروادیا جن میں سے 60 لاکھ صرف یہودی تھے، کئی قتل اس کی تعصبانہ پالیسی کا نتیجہ تھے، مقتولوں میں روسی جنگی قیدی، پولینڈ کے ہجرت کرکے آنے والے باشندے، سیاسی مخالفین کے علاوہ بیمار، ذہنی اور جسمانی معذور افراد اور ہٹلر کی پالیسیوں کے خلاف عیسائیوں کا ایک گروپ اس نے بے شمار قتل گاہیں اور گیس چیمبر بنائے ہوئے تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں اٹلی نے اپنے پڑوسی ملک رپبلک آف سووین کے ایک قصبے پر قبضہ کیا تو مسولینی نے جنرل ایم روٹا کو حکم دیا کہ قصبے کے تمام لوگوں کو خاموشی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے، تمام فوجی راتوں کو قصبے کے گھروں پر حملہ کرکے پورے خاندان کو گولیاں مار دیتے تھے یا بندوق کے بٹ مار کر ختم کردیتے تھے۔ فرانس کے بادشاہ نپولین بوناپارٹ نے اسپین کے شہز زارا گوزا میں پچاس ہزار نہتے شہریوں کو ہلاک کردیا۔ پھر عرب کے علاقوں کو فتح کرتا ہوا ھائنہ پہنچا اور وہاں 1400 قیدیوں کو گولیوں سے اڑا دیا اور گولیاں بچانے کے لئے بے شمار لوگوں کو پانی میں ڈبو کر ماردیا۔
تاریخ میں بے شمار نام ہیں، الیگزنڈر دی گریٹ، کنگ ٹوٹ، کنگ ڈیوڈ، ولیم دی کونکوئیر، نیرو، امپیرئر گائزو آف ہان، چنگیز خان، ہلاکو خان، قبلائی خان یہ سب صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ انسانیت کے دشمن تھے۔ ایک قاتل ایک وحشی درندے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ لوگ مذاہب سے نہیں بلکہ انسانیت سے نفرت کرتے تھے لیکن ظلم و جبر کی تاریخ ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے، کچھ صفحات ابھی خالی رہنے دو، ابھی بہت کچھ ہونا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگیں مذاہب کی وجہ سے بھی ہوئی ہیں لیکن مذہب اسلام میں کوئی بھی جنگ اپنی طرف سے شروع نہیں کی گئی جو کہ 1400 سال پہلے ہوئی تھیں ہر جنگ صرف دفاع میں لڑی گئی کیونکہ مذہب اسلام کی خوبی یہی تھی کہ برابری کی تعلیم دیتا ہے۔ امن و انسانیت مذہب اسلام کا پہلا ستون ہے۔ صبر، استقامت، عفو و درگزر، محبت، اخلاص، یہی بنیاد تھی جس کی وجہ سے اسلام بہت تیزی سے پھیلا۔
اگر آج کے دور سے دیکھیں تو اس بڑھیا کہ واقعہ میں جس نے نبی کی توہین کی تھی ان پر کوڑا پھینکا تھا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسے گھر سے باہر نکالا جاتا اس پر تشدد کیا جاتا، مار مار کر ہلاک کیا جاتا اور پھر لاش کو جلا دیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا، نبی کے ساتھ ہر مسلمان حضور کے لئے گردن کٹوانے کے لئے ہر وقت تیار رہتا تھا، لیکن پھر بھی ایسا نہیں ہوا اس لئے کہ ان کے سامنے رحمت اللعالمین تھے اور اگر ایسا ہو جاتا تو ان کو رحمت اللعالمین کوئی نہیں مانتا۔ کیا آج کے مسلمانوں کا ایمان نبی کے ساتھ رہنے والوں سے زیادہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر میرے سامنے بھی کوئی میرے نبی کی شان میں گستاخی کرے گا تو میرا خون بھی کھول اٹھے گا اور میرا جی چاہے گا اسے فوراً قتل کردوں لیکن میں برداشت کروں گا۔ وہ برداشت جس کی تعلیم ہمارے اس ہی نبی آخرالزماں نے دی ہے۔ مجھے اللہ کے احکامات اور نبی کی تعلیم ایسا کرنے کو روکے گی اور میری کوشش اور خواہش ہو گی کہ اسے ریاست کے حوالے کردیا جائے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے قرار واقعی سزا دے اور اگر وہ ایسا نا کرے تو سارا گناہ ریاست کو جائے گا اور میں اور تمام وہ افراد جن کو اس کا علم ہو گا کبھی بھی ایسی ریاست کو سپورٹ نہیں کریں گے۔
اب آجائیں حالیہ واقعے پرجو کہ سیالکوٹ میں پیش آیا، اب اس واقعے کو ایک ہفتہ ہو جائے گا۔ بہت سے انکشافات ہوئے، یہ قتل صرف مخالفت میں ہوا ہے اس کا توہین رسالت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس بے دردی اور وحشیانہ پن سے مارنے والے عاشق رسول کسی صورت نہیں ہوسکتے۔ یہ وہ وحشی اور جنگلی درندے ہیں جو اس سے پہلے 2010ءمیں اسی شہر میں دو مسلمان حافظ قرآن بھائیوں کے ساتھ یہی سلوک کر چکے ہیں۔ دونوں بھائیوں پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ وہ موت کی بھیک مانگنے لگے کہ خدا کے لئے انہیں گولی مار کر ختم کردو ان کی تمام ہڈیاں توڑ کر ہلاک کرکے ٹرک کے پیچھے باندھ کر سڑک پر گھسیٹا گیا اور آخر میں ان کی لاشوں کو چوک پر الٹا لٹکا دیا۔ کیا یہ بھی عاشق رسول تھے۔ کیا وہ دونوں بھائی توہین رسالت کے مرتکب ہوئے تھے، نہیں بالکل نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ غیر مذاہب کے شدت پسند اور تعصبی لوگوں کی پلاننگ ہو کہ ایسے علاقوں میں جہاں جہالت اور درندگی زیادہ ہے، عالموں کے روپ میں لوگوں کو خریدا جائے اور ان کو ایسے علاقوں میں پھیلا دیا جائے جہاں وہ ایسے کام کریں جس سے مذہب اسلام اور پاکستان پر حرف آئے۔ سارا عمل جو سیالکوٹ میں ہوا ہے، اسلام کے بالکل منافی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں