وزیراعظم کا دورہ روس بے وقت‘ مسائل میں مزید اضافہ ہوگا 107

وزیراعظم کا دورہ روس بے وقت‘ مسائل میں مزید اضافہ ہوگا

نیویارک (فرنٹ ڈیسک) ایسے وقت میں کہ جب یوکرین کا مسئلہ ایک عالمی بحران کے علاوہ امریکا اور روس کے درمیان فوجی نقل و حرکت‘ امریکا کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی، سخت معاشی پابندیوں اور نیٹو اتحادی ممالک کی مذمت اور روس مخالف فوجی الرٹ عمل پذیر ہے۔ پاکستان کو ان دونوں عالمی بلاکس کے درمیان غیر جانبدار قراردینے والے وزیراعظم عمران خان روس کے دو روزہ دورے پر ماسکو پہنچ گئے ہیں جبکہ ان کا یہ دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی نہ صرف بے وقت ہوگیا ہے بلکہ عالمی کشیدگی اور شدید بحران کے گرداب میں گم ہوگیا ہے۔ وزیراعظم کے دورئہ روس سے پاکستان کے لئے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ خود روس کے صدر پیوٹن اور ان کے مشیران و معاونین کی تمام تر توجہ وزیراعظم عمران خان کے دورے پر نہیں بلکہ یوکرین کی صورتحال اور امریکی پابندیوں اور فوجی تیاریوں پر مرکوز ہوگی جب کہ امریکا اور روس کے وزرائے خارجہ کی ملاقات اور مذاکرات منسوخ کرکے روس کے خلاف اپنی جانب سے سخت معاشی پابندیاں اور فوجی نقل و حرکت کرنے والے امریکا میں بھی وزیراعظم کے دورئہ روس کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جائے گا۔ پھر امریکا میں انتہائی موثر بھارتی اور اسرائیلی لابی پاکستان کے خلاف اپنا کام بھی کرے گی اور بھرپور فائدہ اٹھائے گی۔ صدر بائیڈن پہلے ہی افغان جنگ کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں اپنے تحفظات رکھتے ہیں اور پاک۔امریکا تعلقات میں موجودہ سردمہری اس کا مظہر ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہئے تھا کہ غیر جانبداری کے بیان کے بعد کسی مہذب جواز کے ساتھ اپنا دورئہ ماسکو ملتوی کردیتے اور روسی صدر کو یوکرین بحران میں مصروفیت کا حوالہ دیکر نیا وقت اور تاریخ مانگ لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں