پی ڈی ایم ۔ چور مچائے شور کا ٹولہ! 99

وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب!

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر خطے اور دنیا کے سلگتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ مبزول کروائی ہے۔ اقوام متحدہ کا 75 واں اجلاس کرونا وائرس کے باعث روایتی طور پر منعقد نہ ہو سکا اس میں سربراہان مملکت نے اپنے اپنے ملکوں سے ورچوئل خطاب کیا۔ جو کہ شاید اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم کے اس خطاب میں جہاں پاکستان کی معیشت اور دنیا بھر کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز کا ذکر کیا ہے وہیں کرونا کو کس طرح پاکستان نے اسمارٹ لاک ڈاﺅن کی پالیسی کے باعث کنٹرول کیا اور دنیا بھر سے داد وصول کی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ بہت سارے ممالک کرونا کے باعث گرتی ہوئی معیشت کو نہیں سنبھال سکیں گے لہذا ان کی مدد کی جائے اور ترقی یافتہ ممالک کو آگے بڑھ کر کوئی مثبت لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان دنیا کے پہلے سربراہ ہیں جنہوں نے استعماری قوتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ممالک دنیا بھر کے غریب ملکوں سے کرپشن کے ذریعے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کی جنت ہیں انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اس وقت تک غریب ممالک ترقی نہیں کر سکتے جب تک اقوام عالم کرپشن کے ذریعے منی لانڈرنگ کو نہ روکے اور اپنے اپنے ممالک میں سخت قوانین متعارف نہ کروائے۔ ہم جیسے غریب ممالک سے کرپٹ لوگ پیسہ لوٹ کر آپ کے ہاں جائیدادیں خرید لیتے ہیں، کاروبار شروع کر لیتے ہیں اور آپ باہر سے آنے والے پیسے کا سورس نہیں پوچھتے۔ اس کو روکنا ہو گا۔ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی اور جس جس ملک سے پیسہ لوٹ کر امیر ملکوں میں رکھا گیا ہے ان کو پیسہ واپس کیا جائے۔
بدلتے ہوئے موسمی حالات کو اپنی تقریر کا موضوع بناتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے پانچ سال میں دس ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے جو کہ ہم پورا کریں گے کیوں کہ پاکستان بدلتے ہوئے موسموں کی لپیٹ میں آنے والے ملکوں میں سرفہرست ہے اس لئے ہم اس پر بھرپور کام کررہے ہیں اور دنیا کو بھی اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ دینا چاہئے۔
اسلاموفوبیا۔ اس نقطہ پر بات کرتے ہوئے پرائم منسٹر نے بڑے دکھی دل سے اور بڑے واضح اور دلیرانہ موقف دنیا کے سامنے رکھا۔ جب لوگ توہین رسالت کرتے ہیں تو ہمارا دل دکھتا ہے، مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو تباہ کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کو جلانے کے واقعات ہوتے ہیں اور مغرب میں آپ کے جو ناپاک خاکے بنائے جاتے ہںی ان سب واقعات کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جیسے ہم دوسرے مذاہب کے لوگوں کو احترام سے دیکھتے ہیں اسی طرح عالم اسلام کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔ مغرب نے اسلام کا حقیقی چہرہ بگاڑ کر پیش کیا ہے جس سے نفرت پھیل رہی ہے۔ اسلاموفوبیا کو ختم ہونا چاہئے۔ بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جو اسلاموفوبیا کا بہت زیادہ شکار ہے۔ وہاں اقلیتوں کے ساتھ بہت ظلم کیا جارہا ہے۔ بھارت کی موجودہ سرکار نریندر مودی کی قیادت میں آر ایس ایس کے نظریہ پر کاربند ہے جو اکھنڈ بھارت کا تصور دیتی ہے۔ پرائم منسٹر نے ان کے طرز حکومت کو جرمن نازی طرز حکومت قرار دیا۔ جو کہ یہودیوں کو بڑے پیمانے پر قتل میں ملوث تھے۔ بھارت میں مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ گجرات میں مودی کی وزارت اعلیٰ کے دور میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ سمجھوتہ ایکسپریس جیسا بھیانک واقع کروایا گیا جس میں بے گناہ سینکڑوں مسلمان زندہ جلا دیئے گئے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ نفرت کی انتہا کا اندازہ کریں کہ جن مسلمانوں کو کرونا ہوا ہے ان کا صحیح طریقے سے علاج بھی نہیں کیا جارہا۔ ان کے کاروبار زبردستی بند کروائے جارہے ہیں۔ ہندوستان میں تیس کروڑ سے زائد اقلیتوں جن میں مسلمان، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ شامل ہیں کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے۔ یہ سیکولر بھارت نہیں بلکہ مودی کا فاشسٹ انڈیا ہے۔ جہاں انسانی حقوق کی پامالی بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔
وزیر اعظم نے اگلہ نقطہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر ستر سال سے زائد عرصہ ہوا جب سے ہندوستان نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے نہ صرف 370 اور 35A کو ختم کرکے کشمیر کے خصوصی درجہ کو تبدیل کیا گیا ہے بلکہ آبادی کے اعتبار سے مسلمانوں کے اکثریتی علاقے کو ہندوﺅں کو بسانے کا سلسلہ شروع کہے تاکہ مسلمان اقلیت میں چلے جائیں۔ یہ گھناﺅنی سازش ہو رہی ہے۔ وادی میں نو لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے جو ظلم و تشدد کا بازار گرم کئے ہوئے ہے لوگوں کو پیلیٹ گن کا استعمال کرکے اندھا کیا جارہا ہے دن دیہاڑے لوگوں کو گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے، لوگوں کو شہید کیا جارہا ہے، خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے۔ حتیٰ کہ بچوں کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے۔ غیر جانبدار مبصرین کو وادی میں نہیں جانے دیا جارہا۔ یہ ہندوستان کی کھلم کھلا بدمعاشی ہے۔ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کو اس کا علم ہے مگر نہ اقوام متحدہ اس اہم ترین مسئلہ کو حل کررہا ہے جہاں کشمیر کے حوالے سے کئی قراردادیں حل طلب ہیں اور نہ ہی عالمی طاقتیں اس کا نوٹس سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان جنیوا کنونشن کے مطابق جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیری ہار نہیں مانیں گے وہ کئی نسلوں سے اپنی آزادی کی جدوجہد کررہےہیں اور اپنا حق مانگ رہے ہیں انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ بھارت خطرناک کھیل کھیل رہا ہے جس کے بڑے بھیانک نتائج برآمد ہوں سکتے ہیں۔ بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے آئے دن لائن آف کنٹرول کے پار کشمیریوں پر گولہ باری کرتا رہتا ہے جس میں نہتے اور معصوم کشمیریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں پاکستان دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے جوابی فائرنگ کرتا ہے ہم نے کبھی جارحیت نہیں کی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم پر اگر کوئی جارحیت مسلط کی گئی تو ہم آخری حد تک جائیں گے دنیا کو سمجھنا چاہئے کہ یہ خطہ نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے جو بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیر اعظم نے اقوام متحدہ اور بالخصوص سپرپاورز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کچھ نہیں جارہا ہے اس خطہ کو ہمیں محفوظ بنانا ہو گا اور ایک جملہ جو وزیر اعظم نے بولا وہ بڑا اہم ہے ”جب تک ہر شخص محفوظ نہیں ہوتا تب تک ہر شخص غیر محفوظ ہے“ یہ بہت بڑی بات ہے جس پر اقوام عالم کو سوچنا چاہئے اور کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے آخر میں افغانستان کا خصوصاً ذکر کیا اور کہا کہ ہم نے امریکہ، طالبان اور افغان حکومت کو ایک میز پر بٹھانے میں اپنا بھرپور مثبت کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانیوں کو یہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے نہ یہ فیصلہ پاکستان کو کرنا ہے، نہ ایران کو، نہ ترکی کو، نہ چین کو اور نہ ہی روس کو۔ افغانستان کو صرف اور صرف افغان ہی چلائیں گے۔ پرائم منسٹر نے خبردار کیا کہ امن کے دشمنوں کو کوئی موقع نہیں دینا چاہئے کہ وہ اپنا منفی کردار ادا کریں ان کا اشارہ بھارت اور اسرائیل کی جانب تھا۔ آخر میں فسلطین کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پھر دہرایا کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے ہاں اگر اسرائیل 1967ءوالی پوزیشن پر واپس چلا جائے تو ہم دونوں ریاستوں یعنی فسلطین اور اسرائیل کو تسلیم کریں گے لیکن فلسطن کا دارالحکومت بیت المقدس ہو گا جو کہ ہمارا قبلہ اوّل ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ سے حکومت سنبھالنے کے بعد دوسرا خطاب تھا جو کہ پچھلے خطاب یہ اضافہ کیا گیا تھا لیکن اس میں چند نئے نکات اٹھائے گئے۔ عمران خان کی یہ تقریر عالم اسلام کے لیڈر کے طور پر تھی جب کہ ترقی پذیر ممالک کے نمائندہ کے طور پر بھی دیکھی اور سراہی گئی۔ عمران خان نے ایک ”اسٹیٹس مین“ تقریر کی جس کے بڑے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
جیسے عمران خان نے کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے آئی سیس ی سے مطالبہ کیا تھا کہ ”نیوٹرل ایمپائر“ مقرر کئے جائیں اور وہ مطالبہ مانا گیا اور آج کرکٹ کا کھیل متنازعہ فیصلوں سے کسی حد تک محفوظ ہو چکا ہے یقیناً اسی طرح وزیر اعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ جن ملکوں میں کرپشن کا پیسہ محفوظ کیا جاتا ہے ان کو واضح پالیسی بنانا ہو گی کہ غریب ملکوں سے لوٹی ہوئی دولت منی لانڈرنگ ہو کے ان کے ملکوں میں نہ آئے۔ اس سلسلے میں قانون سازی کرنا ہو گی تاکہ غریب ملک اور غریب ہونے سے بچ سکیں اور مطالبہ کیا کہ غریب ملکوں کی لوٹی ہوئی دولت جو وہاں پڑی ہے ان کو واپس کی جائے۔ ابھی تو یہ بات ایک خیال لگتی ہے لیکن میرا گمان ہے کہ ایک دن یہ حقیقت کا روپ دھار لے گی اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر اور فلسطین آزاد ہوں گے اور اسلام کا صحیح چہرہ دنیا کے سامنے ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان کے ہوتے ہوئے یہ بیج ایک دن گھنا درخت بن جائیں گے۔ ان شاءاللہ۔ اور آنے والی نسلیں اس مرد قلندر کو یاد کریں گی ابھی ہمیں اس کی قدر نہیں ہے۔ کیوں کہ ہماری آنکھیں مفادات کی پٹی کے نیچے چھپی ہوئی ہیں۔ اے اہل وطن اپنا ضمیر جگاﺅ اور آنکھیں کھولو کہیں دیر نہ ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں