ویت نام کے بعد افغانستان سے امریکہ کی رسوائی اور واپسی 78

وزیر اعظم کا ناراض اور باغی بلوچوں سے ملنے کا عندیہ!

5 جولائی کو وزیر اعظم عمران خان نے جہاں گوادر میں بہت مصروف دن گزارا اور گوادر میں ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔ وہیں اس موقع پر انہیں بھرپور بریفنگ بھی دی گئی۔ اس تقریب کو Cover کرنے کے لئے جہاں مین اسٹریم میڈیا موجود تھا وہیں سوشل میڈیا کے لوگ بھی موجود تھے اور ایک دن پہلے ہی وہاں پہنچ کر رپورٹنگ کررہے تھے۔ اب تک جتنی بھی رپورٹس نظر سے گزری ہیں وہ سب حوصلہ افزاءاور خوش آئند ہیں۔
گوادر ایک جدید پورٹ بن کر سامنے آیا ہے اس سے پورے خطے کو کارگو کی جلد دستیابی میسر آئے گی اور پاکستان بھی اس سے اربوں ڈالر سالانہ منافع حاصل کرے گا۔ یہ پورٹ چائنا کے تعاون سے مکمل کی گئی ہے، نہ صرف یہ کہ پورٹ تعمیر کی گئی ہے بلکہ پورا گوادر شہر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں وہاں جارہی ہیں، فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر ہو رہے ہیں، خوبصورت اسٹیڈیم، پارک اور سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ آئندہ آنے والے سالوں میں گوادر دنیا کی بڑی بندرگاہوںمیں شمار ہو گا۔ اس کے راستے میں پاکستان مخالف ملکوں نے بہت روڑے اٹکائے مگر ناکام رہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے ساتھ وفاق کا سوتیلا سلوک روا رکھنے پر دکھ کا اظہار کیا اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان سے نکلنے والے معدنی وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچوں کا ہے جس سے انہیں محروم رکھا گیا ہے حتیٰ کہ سوئی گیس جو ”سوئی“ سے نکلتی ہے اس کی دستیابی بلوچستان میں کہیں ہے اور کہیں نہیں ہے، یہاںکے نوجوانوں کو نوکریوں میں پورا کوٹہ نہیں دیا گیا۔ سابقہ ادوار میں حقوق نہ ملنے کی وجہ سے بہت ساری شورشیں جنم لے چکی ہیں۔ ہندوستان کے پکڑے جانے والے جاسوس ”کلبھوشن یادیو“ کے بیانات کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ ہندوستان ریاست مخالف قوتوں کو پیسے دے کر پاکستان میں دہشت گردی کرواتا ہے جس کے کئی ٹھوس ثبوت بھی مل چکے ہیں۔ کئی باغی اراکین کو ہندوستان نے سیاسی پناہ بھی دی ہوئی ہے اور کچھ لوگ یوروپ میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ پاکستانی ریاست اور فوج کے مخالف بیان دیتے رہتے ہیں اور بلوچستگان سمیت پورے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔
بلوچستان ایک منقسم صوبہ ہے جس کی آبادی بہت بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے جہاں رسائی آسان نہیں ہے۔ آبادی میں سب سے چھوٹا لیکن رقبے میں پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود انتشار کا شکار ہے۔ لوگ پسماندہ زندگی گزار رہے ہیں، ان کے پاس زندگی کی بنیادی سہولتیں نہیں ہیں ماسوائے چند بڑے شہروں کے۔ یہ صوبہ موجودہ صدی کی جدید ترقی سے بے بہرہ ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ یہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے کیوں کہ ہمارے اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کی اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے ماسوائے بری خبروں کے۔ بلوچستان کو میڈیا پر پوری کوریج دینی چاہئے اور قومی دھارے میں شامل کرنا چاہئے۔
یہاں آباد مختلف اقوام کے درمیان تنازعات روز کا معمول ہیں ان کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے اسی طرح مسنگ پرسنز ان کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کئی عشروں سے باغیوں نے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں لیکن کسی حکومت نے کوئی دیرپا حل کی کوشش نہیں کی کہ ان سے بات چیت کی جائے اور ان کو کسی نقطہ پر جمع کیا جائے ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔
آج وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں عندیا دیا ہے کہ ناراض بلوچوں سے ملنے کا سوچ رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت دلیرانہ اور جائز موقف ہے، جتنے بھی ناراض بلوچ گروپ ہیں ان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں اور باغیوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا جائے تاکہ وہ اپنی فیملیز کو دوبارہ جوائن کر سکیں۔
باغی گروپوں کو پاکستان مخالف اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے جس سے پاکستان کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ یہ یکطرفہ طور پر اپنا موقف پیش کرتے ہیں اور کچھ لوگوں نے تو مغربی ممالک میں سیاسی پناہ کے لئے بھی ان حالات کو استعمال کیا ہے۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں اور بلوچستان کے سیاست دان اور عمائدین مل کر قدم بڑھائیں اور حکومت کے اس ویژن کو مثبت طور پر بروئے کار لائیں اور صوبہ میں امن بحال کریں اور خوشحالی کے دروازے کھولیں۔ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں