موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے گلے کی ہڈی 32

وزیر اعظم کی ناعاقبت اندیشی

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کو بریفنگ دینے والے یا تو جان بوجھ کر انہیں منجھدار میں پھنسا رہے ہیں یا پھر خود عمران خان اپنی خودسری کے باعث غلط فیصلہ کررہے ہیں۔ نبی کریم کی ناموس کے حوالہ سے ہونے والے مظاہرے اور ملکی حالات کی خرابی کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے کیا گیا خطاب نہایت غیر موثر تھا۔ انہیں اس معاملہ کو جس انداز اور جس مربوط طریقہ سے پیش کرنا چاہئے تھا وہ اس میں ناکام دکھائی دیئے۔
دوسری جانب وہ قرارداد جس کی وجہ سے تمام جھگڑا ہوا اور وہ معاہدہ جس کے سبب نہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے کے لوگ اور تحریک لبیک کے کارکنان موت سے ہمکنار ہوئے اور دونوں کو شہید کے نام سے پکارا جارہا ہے کہ نتیجہ میں جو اجلاس عجلت میں طلب کیا گیا اس میں وزیر اعظم کا موجود نہ ہونا یقیناً ایک غلط فیصلہ ہے۔ وزیر اعظم کو خود اس اجلاس میں موجود ہونا چاہئے تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ انہیں تیز و تند سولاات اور تنقید کا نشانہ بننا پڑتا مگر اس بات سے بہتر تھا کہ اُن کے مخالفین نے اُن کی ناموس رسالت کے سلسلہ میں ہونے والے اجلاس کے بجائے کرتارپور وساکھی میلہ کی تقریبات میں شرکت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کرنے والے وزیر اعظم کے نزدیک تاجدار مدینہ کے معاملہ کی کیا اہمیت ہے؟
کاش عمران خان سمجھ سے کام لیتے اور وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خود جانے کے بجائے شاہ محمود قریشی اور دیگر وزرا کو وہاں بھیج کر خود اسمبلی میں موجود رہتے تو ممکن ہے انہیں مزید تنقید کا شکار نہ ہونا پڑتا۔ یوں عمران خان خود کو مزید ذہنی دباﺅ سے محفوظ رکھ کر کام کر سکتے تھے مگر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ عمران خان کے اردگرد موجود ناعاقبت اندیش افراد غلط مشوروں اور غلط اقدامات کرکے اپنی ہی حکومت کے لئے ہر نئے دن نئے چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں اور اپوزیشن کو اپنے خلاف بولنے کا جواز فراہم کررہے ہیں۔ رہا سوال ناموس رسالت کا ہمارے نبی محتشم کی ذات اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قدر بلند کر دی ہے کہ کسی ایک عمل سے ان کی شان میں کوئی کمی آنے والی نہیں۔ ہمیں اس معاملہ میں جذباتی ہو کر نہیں سوچنا چاہئے بلکہ پوری امت مسلمہ کو سر جوڑ کر بیٹھنا اور سفارتی سطح پر اور اقوام متحدہ میں اپنا احتجاج ریکارڈ چاہئے۔ ہمارے نبی نے تو اُس عورت کو بھی کچھ نہ کہا جو آپ پر کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی اور نہ مکہ کے یہودیوں اور عیسائیوں کو فتح مکہ کے بعد نقصان پہنچایا جب کہ جس قدر ظلم اور بربریت ہمارے نبی کے ساتھیوں کے ساتھ روا رکھی گئی۔ وہاں قتل عام کا حکم دیا جانا چاہئے تھا مگر ہمارے نبی نے ہمیشہ معاف کیا۔ حتیٰ کہ خدائے عزوجل نے کئی مقامات پر خود غم و غصہ کا اظہار کیا مگر ہمارے رسول محتشم نے ایسے لوگوں کے حق میں بھی یہی دعا کی اور اُمید رکھی کہ شاید ان کی نسلوں سے کوئی ایمان والا نکل آئے۔ اسی اُمید اور نرمی کا نتیجہ تھا کہ دُنیا بھر میں اسلام کو فروغ ملا۔
یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرائض سر انجام دینے میں کوتاہی پر کبھی کسی نبی کسی قوم کو سزا نہیں دی بلکہ جن قوموں پر عذاب نازل ہوا اُس کی وجہ ہمیشہ حقوق العباد رہی۔ یوں ہمیں ہمارے دین سے یہی سبق ملتا ہے کہ ہمیں انسانوں سے محبت کرنی چاہئے اور انسانوں کی مدد کرنا چاہئے۔ اس میں ہماری فلاح ہے۔ ہمیں یقین ہونا چاہئے کہ ہمارا پروردگار رحمان و رحیم ہے اور وہ اپنے حقوق معاف کرنے کی دسترس رکھتا ہے مگر وہ خود کہتا ہے کہ ”کسی پر ظلم و زیادتی، ناپ تول میں بے ایمانی، منافع خوری، یتموں کا مال کھانا، سود کے معاملات میں رحم کی گنجائش نہیں“۔ اللہ ہمیں دین کو سمجھنے اور اپنے نبی کی حرمت کو پہچاننے کا علم عطا کرے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں