پاکستان نے FATF کی تمام شرائط پوری کردیں! 91

ٹورنٹو کی ڈائری

سب سے پہلے قارئین کرام سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے معذرت خواہ ہوں کہ پچھلے چار ماہ ذاتی وجوہات کی بناءپر کچھ تحریر نہیں کر سکا۔ اس سے میں نے محترم ندیم صاحب کو آگاہ کردیا تھا مگر میری غیر حاضری کچھ طویل ہو گئی، اس دوران میں نے اپنی آنے والی کتاب ”من چہ دیدم“ مکمل کی جو کہ اب طباعت کے مراحل میں ہے۔
ہاں البتہ میں نے ”پاکستان ٹائمز“ کو بہت مس کیا کیوں کہ اس میں مسلسل ٹوٹی پھوٹی تحریرں لکھنے سے ایسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے یہ اپنا فیملی اخبار ہے۔ اس میں کالم لکھنے والے دوسرے ساتھی بڑی پر مغز تحریری لکھتے ہیں اور ہر موضوع پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ اپنے سینئر جرنلسٹ حضرات سے سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے بہرحال اب دوبارہ کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کررہا ہوں اور میری پوری کوشش ہو گی کہ باقاعدگی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار عوام الناس تک پہنچا سکوں۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ایک موقر اخبار کے ساتھ کام کررہا ہوں اور اس کی ٹیم بھی پروفیشنل انداز میں پرچے کو چلا رہی ہے جس پر میں پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
رب ذوالجلال سے دست بستہ دعا ہے کہ ”پاکستان ٹائمز“ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔ کینیڈا میں مقیم پاکستانی اس اخبار کو بڑی دلچسپی سے پڑھتے ہیں کیوں کہ اس میں تازہ خبریں اور حالات حاضرہ سے متعلق لوگوں کو اپ ڈیٹ رکھا جاتا ہے۔
گزشتہ چار ماہ میں پاکستانی سیاست میں بڑے مدوجزر آئے۔ کئی غیر سنجیدہ اسٹوریاں مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر دیکھیں۔ عمران خان حکومت کو کمزور کرنے کی بہت سازشیں کی گئیں اور کی جارہی ہیں مگر ہر سازش ہر بار ناکام ہو جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن، بلاول زرداری، نواز شریف این کمپنی کی طرف سے پچھلے تین سال سے پھوکے فائر کئے جارہے ہیں۔ پہلے دن سے ہی یہ ڈکیت گینگ عمران خان کو چلنے نہیں دے رہا۔ انہوں نے ہر قسم کی بدمعاشی کرنے کی کوشش کی۔ اداروں پر حملوں سمیت بہت ساری اندرونی سازشوں کی مدد سے یہ لوگ ہر صورت اس حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
پی ڈی ایم کی ناکام قیادت سالوں سے تاریخ پہ تاریخ دے رہی ہے اور ہر دفعہ نیا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن اللہ رب العزت کی حمایت عمران خان کے ساتھ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اقتدار کے ایوانوں میں نہ صرف موجود ہے بلکہ اپوزیشن کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ اپوزیشن کے بے وقعت اور نام نہاد رہنماﺅں کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو لوگ اب سننا بھی پسند نہیں کرتے ماسوائے پٹواریوں کے۔
اس حقیقت کو اگر تسلیم کرکے آگے چلا جائے کہ عمران خان کوئی فرشتہ نہیں ہے تو پھر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ موجودہ سیاسی اکھاڑے میں اس سے تگڑہ پہلوان کوئی نہیں ہے اور اس کو شکست دینا دیوانے کا خواب لگتا ہے۔
خان بھی ریس کا گھوڑا ہے جو اپنے حریفوں کو تھکا کر چت کرتا ہے۔ یہ حقیقت اس کے اندر قدرتی طور پر موجود ہے۔ اس نے کبھی ہار نہیں مانی، قدرت ہمیشہ اسے اپنے نیک مقصد میں کامیاب کرتی ہے۔
مہنگائی کی آڑ میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ میڈیا کے نان اسٹیٹ ایکٹرز بھی اس پر سخت تنقید کررہے ہیں جب کہ ہر شخص کے علم میں ہے کہ کرونا کے گزشتہ دو سالوں میں پوری دنیا پر کیا بیتی ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ تنقید کرنے والے منافق لوگ ہیں کیوں کہ وہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے کہ مہنگائی کے کیا عوامل ہیں، صرف مخالفت برائے مخالفت کررہے ہیں۔
اور مزیداری کی بات ہے کہ مہنگائی کی بات وہ اپوزیشن راہنما کررہے ہیں جنہوں نے گزشتہ چار دہائیوں سے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ عوام کے لئے مشکل وقت ہے لیکن سوشل میڈیا نے اتنا شعور اجاگر کردیا ہے کہ ایک ٹھیلے والا بھی جان چکا ہے کہ شریف، زرداری اور فضل الرحمن نے جس طرح ملک کو لوٹا اور اداروں کو کمزور کیا، انہی کی وجہ سے آج مملکت خداداد اخلاقی پستی کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ ملک کو دیوالیہ کردیا گیا ہے۔
وزیر اعظم اس ملک کو چلانے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے اور ان کی بچائی ہوئی بارودی سرنگیں صاف کررہا ہے۔ یاد رہے کہ صرف اور صرف عمران خان ہی پوری ٹیم میں قابل اعتبار آدمی ہے۔ باقی کھلاڑی دھکا اسٹارٹ اور مفاد پرست ہیں۔
میں نے ذاتی طور پر کبھی پی ٹی آئی کے باقی اکابرین کی دیانتداری کی بات نہیں کی مگر پھر بھی ان میں بہت سارے لوگ پچھلی حکومتوں کے وزراءسے صاف ستھرے ہیں اور اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ کپتان سخت ہے جہاں اسے پتہ چلتا ہے وہ ضرور ایکشن لیتا ہے۔
پیپلزپارٹی نے 27 فروری کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ اسلام آباد آئیں گے مگر اس سے پہلے ہی بلاول بچہ جمہورا مان چکا ہے یہ کہہ کر کہ ”اگر ہم حکومت کو گھر نہ بھیج سکے تو کمزور ضرور کریں گے اور ان کو سیاسی نقصان پہنچائیں گے“ یہ سب دیوانے کی بَڑ ہے۔ پیپلزپارٹی کی یہ مشق بے سود ہو گی۔
پی ڈی ایم 23 مارچ کو اسلام آباد پہنچنا چاہتی ہے اور اس سازش کے روح رواں مولانا فضل الرحمن ہیں جن کو کسی پل چین نہیں آرہا کہ کب خان سے جان چھوٹے اور وہ حکومت میں آئے، چاہے چور دروازے سے آنا پڑے لیکن یہاں میں اپوزیشن اور میڈیا کے اینٹی عمران لوگوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ آپ سب لوگوں کے خواب اور سازشیں چکنا چور ہو ںگی اور ایک بار پھر 2023ءکے الیکشن میں عمران خان جیتے گا اور واضح اکثریت سے جیتے گا اور اس بار پیپلزپارٹی کو بھی سندھ سے نکال دیا جائے گا جو صوبے کو بھٹو فیملی کی جاگیر سمجھ کر چلا رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سندھ ان کو الاٹ کردیا گیا ہے۔
عمران خان بہت بڑا کمبل ہے جو ان کی جان مرتے دم تک نہیں چھوڑے گا۔ ان سب کو شکست ہو رہی ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔ پاکستانی عوام باشعور ہو چکے ہیں۔ انہیں موجودہ حالات کا اچھی طرح ادراک ہے، انہیں بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں